ڈیجیٹل بنیادی ڈھانچہ سے تجارت کو تیز تر اور مسابقتی بنایا جا سکتا ہے، پائیڈ کے زیراہتمام سیمینار سے مقررین کا خطاب

پاکستان کو علاقائی تجارتی مرکز بنانے کیلئے سڑکوں اور بندرگاہوں کے ساتھ ساتھ تجارت کی لاگت، وقت، قابل اعتماد نظام، رابطہ کاری اور کاروبار میں آسانی پر بھی خصوصی توجہ دینا ہوگی

اسلام آباد۔22ستمبر (اے پی پی):پاکستان کو علاقائی تجارتی مرکز بنانے کیلئے سڑکوں اور بندرگاہوں کے ساتھ ساتھ تجارت کی لاگت، وقت، قابل اعتماد نظام، رابطہ کاری اور کاروبار میں آسانی پر بھی خصوصی توجہ دینا ہوگی ، ڈیجیٹل بنیادی ڈھانچہ سے تجارت میں تاخیر، کا غذی کارروائی اور مختلف اداروں کے درمیان رابطے کے مسائل کم کرنے میں مددمل سکتی ہے ۔یہ بات پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف ڈویلپمنٹ اکنامکس (پائیڈ) کے زیر اہتمام تجارتی سہولت کا ری اور تجارت کا مستقبل ، ڈیجیٹل تبدیلی، مسابقت اور علاقائی انضمام کے موضوع پر منعقدہ سیمینار میں کیا گیا۔سیمینار میں پاکستان سنگل ونڈو کے چیف ایگزیکٹو آفیسر سید آفتاب حیدر نے شرکت کی جبکہ سیشن کی نظامت پی آئی ڈی ای کی سینئر ریسرچ اکانومسٹ ڈاکٹر عظمیٰ ضیاء نے کی۔سیمینار کے دوران مقررین نے اس امر پر زور دیا کہ تجارت میں رکاوٹیں ہمیشہ واضح اور نمایاں نہیں ہوتیں بلکہ غیر ضروری تاخیر، کا غذی کا رروائی، مختلف نظاموں کے درمیان عدم مطابقت اور ضابطہ جاتی رکاوٹیں بھی کا روباری سرگرمیوں کی لاگت میں اضافہ کرتی ہیں۔

ڈیجیٹل نظام ان پوشیدہ اخراجات کو کم کرکے سرحد پار تجارت کو زیادہ تیز، شفاف اور قابل پیش گوئی بنا سکتے ہیں۔شرکا نے تجارت کے مستقبل میں مصنوعی ذہانت کے استعمال، خطرات کی بنیاد پر سرحدی انتظام اور باہم مربوط ڈیجیٹل تجارتی راہداریوں کی اہمیت پر بھی تفصیلی تبادلہ خیال کیا۔مقررین نے کہاکہ محض ٹیکنالوجی کا استعمال کافی نہیں بلکہ ڈیجیٹل تبدیلی کے ساتھ ادارہ جاتی اصلاحات اور مختلف سرکاری اداروں کے درمیان موثر رابطہ کاری کو بھی یقینی بنانا ہوگا۔ تجارت سے متعلق اداروں کے درمیان بہتر ہم آہنگی اور معلومات کے موثر تبادلے سے درآمد و برآمد کے عمل کو مزید آسان اور تیز بنایا جا سکتا ہے۔مقررین نے کہا کہ پاکستان کو علاقائی تجارت کا مضبوط مرکز بنانے کیلئے توجہ صرف سڑکوں، بندرگاہوں اور دیگر بنیادی ڈھانچے تک محدود نہیں ہونی چاہیے بلکہ تجارت کی مجموعی لاگت اور وقت میں کمی، نظام کی قابل اعتمادی، رابطہ کاری اور کاروبار کرنے میں آسانی کو بھی ترجیح دینا ہوگی۔مقررین نے امر پر اتفاق کیا کہ جدید ڈیجیٹل نظام اور موثر ادارہ جاتی تعاون کے ذریعے پاکستان اپنی تجارت کونہ صرف زیادہ مسابقتی بنا سکتا ہے بلکہ علاقائی اقتصادی انضمام کے عمل میں زیادہ موثر کردار ادا کر سکتا ہے۔