چیئرپرسن بینظیر انکم سپورٹ پروگرام سینیٹر روبینہ خالد
چیئرپرسن بی آئی ایس پی کی بی آئی ایس پی کے آفیشل فیس بک اکائونٹ سے لائیو ای-کچہری کا انعقاد

مزید خبریں
اسلام آباد۔22ستمبر (اے پی پی):چیئرپرسن بینظیر انکم سپورٹ پروگرام سینیٹر روبینہ خالد نے منگل کو بی آئی ایس پی ہیڈکوارٹرز میں بی آئی ایس پی کے آفیشل فیس بک اکائونٹ سے لائیو ای-کچہری کا انعقاد کیا۔ ترجمان بی آئی ایس پی کے مطابق ای-کچہری کے دوران ملک بھر سے 31 کالرز نے چیئرپرسن کو اپنے مسائل اور شکایات سے آگاہ کیا۔ سینیٹر روبینہ خالد نے متعلقہ افسران کو ہدایت کی کہ ای-کچہری کے دوران موصول ہونے والی تمام شکایات کو ترجیحی بنیادوں پر حل کرکے ان کی فوری رپورٹ پیش کی جائے۔روبینہ خالد نے ای-کچہری کے دوران اپنے پیغام میں کہا کہ جن خواتین بینیفشریز کے شناختی کارڈز کی مدت ختم ہوچکی ہے، وہ فوری طور پر نادرا سے اپنے شناختی کارڈز کی تجدید کروائیں تاکہ انہیں وظائف کی وصولی میں کسی قسم کی دشواری کا سامنا نہ کرنا پڑے۔انہوں نے کہا کہ صدر پاکستان آصف علی زرداری اور وزیر اعظم محمد شہباز شریف کی ہدایات پر بی آئی ایس پی نے خواتین بینیفشریز تک ادائیگی کی رقم محفوظ اور شفاف انداز میں پہنچانے کے لیے ڈیجیٹل والٹ کا نظام شروع کیا ہے۔
یہ حکومت پاکستان کی جانب سے بی آئی ایس پی کی خواتین بینیفشریز کے لیے ایک تحفہ ہے۔ چیئرپرسن نے خواتین بینیفشریز کو ہدایت کی کہ جن خواتین بینیفشریز نے ابھی تک بی آئی ایس پی دفتر سے اپنی مفت بینظیر سم حاصل نہیں کی، یا کسی اور جگہ سے سم حاصل کی ہے، وہ اپنے قریبی بی آئی ایس پی دفتر سے مفت بینظیر سم ضرور حاصل کریں۔ سم حاصل کرنے کے لیے اصل شناختی کارڈ اور اپنا ذاتی موبائل فون ساتھ لائیں۔ کسی فرنچائز، ریٹیلر یا غیر مجاز شخص سے سم نہ لیں اور نہ ہی اسے ایکٹیویٹ کروائیں۔انہوں نے واضح کیا کہ سم کی ایکٹیویشن بی آئی ایس پی کی مقررہ سائٹ پر متعلقہ موبائل کمپنی کا نمائندہ کرے گا۔ خواتین بینیفشریز سم حاصل کرتے وقت بی آئی ایس پی کے عملے سے کہیں کہ سم ان کے موبائل فون میں خود ڈال کر دیں۔سینیٹر روبینہ خالد نے کہا کہ خواتین بینیفشریز کی آسانی کے لیے بی آئی ایس پی ادائیگیوں میں انٹیروپیرابیلیٹی کا نظام متعارف کرایا جا رہا ہے۔
اس نظام کے تحت خواتین کسی ایک شہر یا کسی ایک بینک کے ریٹیلر تک محدود نہیں ہوں گی بلکہ ملک کے کسی بھی شہر میں کسی بھی وقت چھ پارٹنر بینکوں کے کسی بھی مجاز اور قابل اعتماد ریٹیلر سے اپنی رقم وصول کرسکیں گی۔ ان پارٹنر بینکوں میں HBL، Habib Microfinance، Bank Alfalah، Telenor Microfinance، Bank of Punjab اور Mobilink/Jazz Bank شامل ہیں۔رقم وصول کرنے کے لیے خواتین بینیفشریز کے پاس اصل شناختی کارڈ ہونا اور بائیومیٹرک تصدیق مکمل ہونا ضروری ہے۔ جب ادائیگی کی رقم ڈیجیٹل والٹ میں منتقل ہوگی تو متعلقہ بینک کی جانب سے بینظیر سم پر رقم کی منتقلی کا میسج موصول ہوگا۔ خواتین بینیفشریز کو چاہیے کہ ادائیگی وصول کرنے کے لیے مجاز بینک ریٹیلر کے پاس جانے سے پہلے یہ میسج ضرور چیک کریں۔رقم وصول کرنے کے بعد بینک کی جانب سے ایک دوسرا تصدیقی میسج موصول ہوگا جس میں نکلوائی گئی رقم کی تفصیلات درج ہوں گی۔ خواتین بینیفشریز دونوں میسجز محفوظ رکھیں۔ رقم وصول کرتے وقت اپنا موبائل فون کسی ریٹیلر، ایجنٹ یا کسی دوسرے شخص کے حوالے نہ کریں۔
چیئرپرسن نے سروے کے حوالے سے بھی واضح کیا کہ بی آئی ایس پی سروے کا مقصد گھرانے کی اہلیت کا تعین کرنا ہے۔ ایک مرتبہ سروے کروانے کے بعد دو سال سے پہلے دوبارہ سروے نہیں ہوسکتا، لہٰذا خواتین بینیفشریز بار بار سروے کروانے کی غرض سے بی آئی ایس پی دفاتر کا رخ نہ کریں۔








