پاکستان مسلم لیگ (ن) کے رکن قومی اسمبلی بابر نواز نے کہا ہے کہ آج خیبر پختونخوا کرپشن کا گڑھ بن چکا ہے ،جس شعبے کو دیکھیں کرپشن کی کہانیاں سامنے آتی ہیں ، عوام کے پیسے کو بے دریغ لوٹا جا رہا ہے
خیبر پختونخوا کرپشن کا گڑھ بن چکا ہے ،پی ٹی آئی رہنمائوں کے انتشاری بیانات ناقابل قبول ہیں،بابرنواز

مزید خبریں
اسلام آباد۔23ستمبر (اے پی پی):پاکستان مسلم لیگ (ن) کے رکن قومی اسمبلی بابر نواز نے کہا ہے کہ آج خیبر پختونخوا کرپشن کا گڑھ بن چکا ہے ،جس شعبے کو دیکھیں کرپشن کی کہانیاں سامنے آتی ہیں ، عوام کے پیسے کو بے دریغ لوٹا جا رہا ہے،پاک فوج کے نوجوان ملکی سلامتی کی جنگ لڑ رہے ہیں مگر پی ٹی آئی کےسیاسی رہنما ان کے جنازوں میں شرکت کرنا بھی گوارہ نہیں کرتے، اب نہ ڈیل ہے نہ ڈھیل، ریاست اپنے عوام کے تحفظ اور امن کے لئے اقدامات کرے گی اور قانون کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔ بدھ کو یہاں بابر نواز نے اے این پی کی ثمر بلور اور (ن )لیگی رہنماءسعیدہ جمشیدکے ہمراہ نیشنل پریس کلب اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے مزید کہا کہ پی ٹی آئی کے بعض رہنماؤں کی جانب سے تربیلا ڈیم، وارسک ڈیم اور کرک گیس کی سپلائی بند کرنے اور ملک کو مفلوج کرنے جیسے بیانات دئیے جا رہے ہیں جبکہ وزیراعلی سہیل آفریدی کی جانب سے 27 ستمبر کو اسلام آباد پہنچنے اور ’’اینٹ سے اینٹ بجانے‘‘ کے بیانات بھی سامنے آئے ہیں۔
انہوں نے سوال کیا کہ ایسے بیانات کے بعد قانون کے مطابق کارروائی کرنا کیسے غلط قرار دیا جا سکتا ہے۔بابر نواز نے کہا کہ یہ لوگ قوم کو گمراہ کرنے اور انتشار کی سیاست کرنے کی کوشش کر رہے ہیں جس سے ملک کو نقصان پہنچنے کا خدشہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ آج بھی خیبر پختونخوا میں کوئی اچھا ہسپتال موجود نہیں جبکہ سینکڑوں سکول ایسے ہیں جہاں اساتذہ موجود نہیں۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ سرکاری مشینری کے بغیر یہ عوام کو باہر نہیں نکال سکتے۔انہوں نے خبردار کیا کہ اگر انتشار کی سیاست ترک نہ کی گئی تو یہ لوگ بند گلی میں داخل ہو جائیں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ کیا ایک شخص صوبے کے پانچ کروڑ عوام سے زیادہ اہمیت رکھتا ہے؟ اگر پرامن احتجاج سیاسی جماعتوں کا حق ہے تو خیبر پختونخوا کے عوام کو بھی امن کے ساتھ زندگی گزارنے کا حق حاصل ہے۔انہوں نے کہا کہ پہلے یہ لوگ پرامن احتجاج کی بات کرتے تھے لیکن اب جس طرح کی باتیں کی جا رہی ہیں وہ سب کے سامنے ہیں، ماضی میں بھی سیاسی جماعتوں کے رہنما جیل جاتے رہے ہیں لیکن کسی رہنما نے کارکنوں کو یہ ہدایات نہیں دیں کہ گرفتاری کی صورت میں قومی املاک کو تباہ کیا جائے۔
انہوں نے شفیع جان کی جانب سے خواتین کے بارے میں مبینہ نازیبا گفتگو کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ یہ خیبرپختونخوا کی روایات نہیں ہیں۔اس موقع پر اے این پی کی رہنماء ثمر بلور نے کہا کہ خیبر پختونخوا میں حکومت نام کی کوئی چیز نہیں، صوبے میں دہشت گردی، بدامنی، اغوا اور ٹارگٹ کلنگ کے واقعات کے باعث عوام شدید مشکلات کا شکار ہیں، بنوں اور لکی مروت کے بچے تعلیم کے لئے گھروں سے باہر نہیں نکل سکتے جبکہ ڈاکٹرز اور نرسز اپنے مطالبات کے لئے احتجاج کریں تو ان پر لاٹھی چارج کیا جاتا ہے۔ وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا نے صوبے کی دل آزاری کی ہے، سوال یہ ہے کہ یہ کیسی حکومت ہے اور کیسے لوگ ہم پر مسلط ہیں۔ انہوں نے کہا کہ 26 نومبر کو اسلام آباد آنے والے کارکن آج تک جیلوں میں ہیں، حکمران اپنے بچوں کو بیرون ملک بھیج کر عوام کے بچوں کو نشانہ بنوا رہے ہیں، جو لوگ پہلے حکومت سے مذاکرات نہ کرنے کی بات کرتے تھے آج وہی حکومت سے مذاکرات کے لئے بے تاب ہیں۔ثمر بلور نے صوبائی حکومت پر کرپشن کے سنگین الزامات عائد کرتے ہوئے کہا کہ سہیل آفریدی نے صوبے میں کرپشن کا بازار گرم کر رکھا ہے۔
انہوں نے کہا کہ سہیل آفریدی کے بھائی کے پاس کوئی عہدہ نہیں لیکن اس کے باوجود وہ پورا صوبہ چلا رہے ہیں،صوبے میں ان کا کوئی منصوبہ مکمل نہیں ہوا جبکہ مبینہ طور پر اربوں روپے کے ٹھیکوں میں بے ضابطگیاں کی گئی ہیں۔انہوں نے الزام عائد کیا کہ میاں غازی کمپنی کو بڑے ٹھیکے دئیے گئے ہیں اور اس معاملے میں صوبائی وزراء اور بیوروکریٹس کے شامل ہونے کے الزامات بھی سامنے آئے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ صوبے میں جس شعبے کو دیکھیں، کرپشن کی کہانیاں سامنے آتی ہیں اور عوام کے پیسے کو بے دریغ لوٹا جا رہا ہے۔پریس کانفرنس میں رہنماؤں نے مطالبہ کیا کہ صوبے میں امن و امان کی صورتحال بہتر بنانے، عوام کو بنیادی سہولیات فراہم کرنے اور مبینہ مالی بے ضابطگیوں کی شفاف تحقیقات کے لئے مؤثر اقدامات کئے جائیں۔








