موسمیاتی تبدیلی، تیزی سے بڑھتی آبادی، شہری پھیلاؤ، آلودگی اور صنعتی سرگرمیوں کے باعث پاکستان کے آبی نظام پر دباؤ بڑھ رہا ہے، رانا احمد عتیق انور

وزیراعظم کے سائنس و ٹیکنالوجی و آئی ٹی کے رابطہ کار رانا احمد عتیق انور نے کہا ہے کہ موسمیاتی تبدیلی، تیزی سے بڑھتی آبادی، شہری پھیلاؤ، آلودگی اور صنعتی سرگرمیوں کے باعث پاکستان کے آبی نظام پر دباؤ بڑھ رہا ہے

اسلام آباد۔23ستمبر (اے پی پی):وزیراعظم کے سائنس و ٹیکنالوجی و آئی ٹی کے رابطہ کار رانا احمد عتیق انور نے کہا ہے کہ موسمیاتی تبدیلی، تیزی سے بڑھتی آبادی، شہری پھیلاؤ، آلودگی اور صنعتی سرگرمیوں کے باعث پاکستان کے آبی نظام پر دباؤ بڑھ رہا ہے، اس صورتحال سے نمٹنے کے لئے آبی تحفظ کے قومی ایجنڈے کے تحت مربوط اور مشترکہ حکمت عملی اپنانا ہوگی۔وہ بدھ کو یہاں پائیدار آبی نظم و نسق، تحفظ اور سلامتی کے موضوع پر چار روزہ اینسو-کامسیٹس بین الاقوامی کانفرنس کی افتتاحی تقریب سے بطور مہمان خصوصی خطاب کر رہے تھے۔کانفرنس اینسو اور کامسیٹس کے اشتراک سے منعقد کی جا رہی ہے جبکہ کامسیٹس یونیورسٹی اسلام آباد اس کی میزبانی کر رہی ہے۔ کانفرنس میں مصر کے نیشنل ریسرچ سینٹر، چائنیز اکیڈمی آف سائنسز کے ادارے، گلوبل چینج امپیکٹ سٹڈیز سینٹر اور پاکستان کونسل آف ریسرچ ان واٹر ریسورسز سمیت مختلف ادارے شریک ہیں۔رانا احمد عتیق انور نے کہا کہ پانی کے نظام کو موسمیاتی تبدیلی سمیت متعدد عوامل سے سنگین دباؤ کا سامنا ہے، اس لئے آبی وسائل کے تحفظ اور مؤثر انتظام کے لئے جدید ٹیکنالوجی اور سائنسی تحقیق سے بھرپور استفادہ ضروری ہے۔انہوں نے پاکستان کے آبی تحفظ کے ایجنڈے پر روشنی ڈالتے ہوئے قومی آبی پالیسی اور پانی ذخیرہ کرنے اور بارش کے پانی کو محفوظ بنانے کے اقدامات کا حوالہ دیا۔ انہوں نے آبی وسائل کے پائیدار انتظام کے لئے قومی سطح پر مربوط کوششوں اور تمام متعلقہ اداروں کے درمیان مؤثر تعاون کی ضرورت پر زور دیا۔کانفرنس میں مصنوعی ذہانت کے ذریعے آبی وسائل کے پائیدار انتظام، پانی کے تحفظ اور سلامتی سے متعلق جدید حل پر ماہرین تبادلہ خیال کریں گے جبکہ موسمیاتی تبدیلی، شہری آبادی میں اضافے، آلودگی اور صنعتی سرگرمیوں کے آبی وسائل پر اثرات کا بھی جائزہ لیا جائے گا۔کانفرنس کو پائیدار ترقی کی دہائی 2024-2033 کے تحت توثیق حاصل ہے۔