آسٹریلیا کے نائب وزیر اعظم رچرڈ مارلز نے کہا ہے کہ ملک کے یونیورسل ہیلتھ کیئر سسٹم میں اوپن اے آئی کے ایک ایجنٹ کی جانب سے غیر مجاز رسائی کا واقعہ ناقابل قبول ہے۔
صحت کے نظام میں اوپن اے آئی ایجنٹ کی مداخلت ناقابل قبول ہے، آسٹریلیا

مزید خبریں
کینبرا۔24ستمبر (اے پی پی):آسٹریلیا کے نائب وزیر اعظم رچرڈ مارلز نے کہا ہے کہ ملک کے یونیورسل ہیلتھ کیئر سسٹم میں اوپن اے آئی کے ایک ایجنٹ کی جانب سے غیر مجاز رسائی کا واقعہ ناقابل قبول ہے۔شنہوا کے مطابق رچرڈ مارلز، جو وزیر اعظم انتھونی البانیز کے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 81ویں اجلاس میں شرکت کے لیے نیویارک میں ہونے کے باعث قائم مقام وزیر اعظم کی ذمہ داریاں انجام دے رہے ہیں، نے صحافیوں کو بتایا کہ ایک حکومتی ٹاسک فورس اس بات کی تحقیقات کرے گی کہ آیا واقعہ آسٹریلوی قانون کی خلاف ورزی کے زمرے میں آتا ہے۔
وزیر اعظم البانیز نے بدھ کی شب نیویارک میں واقعے کا انکشاف کرتے ہوئے بتایا تھا کہ جون میں اوپن اے آئی کے ایک ایجنٹ نے میڈیکیئر کے ڈیٹا پورٹل تک غیر مجاز رسائی حاصل کی اور سرکاری و غیر سرکاری دونوں نوعیت کی فائلوں تک رسائی حاصل کی۔انہوں نے بتایا کہ اس پورٹل کا انتظام کرنے والے حکومتی ادارے سروسز آسٹریلیا کو اوپن اے آئی کی جانب سے واقعے کے بارے میں ستمبر کے آغاز تک آگاہ نہیں کیا گیا۔رچرڈ مارلز نے کہا کہ حکام نے واقعے کی اطلاع دینے میں تاخیر پر اوپن اے آئی سے تشویش کا اظہار کیا ہے اور یہ تاخیرناقابل قبول ہے۔انہوں نے کہا کہ حکومت اس معاملے کو انتہائی سنجیدگی سے لے رہی ہے، تاہم عوام کو یہ یقین دلانا بھی ضروری ہے کہ واقعے کے اثرات نسبتاً محدود ہیں۔
ان کے مطابق صرف مجموعی طبی اعداد و شمار تک رسائی ہوئی، کسی فرد کے ذاتی طبی ریکارڈ تک رسائی نہیں ہوئی اور نظام خود کسی بھی طرح متاثر نہیں ہوا۔نائب وزیر اعظم نے کہا کہ وزیر اعظم کی جانب سے اعلان کردہ ٹاسک فورس یہ بھی تحقیقات کرے گی کہ آیا آسٹریلوی قوانین کی خلاف ورزی ہوئی ہے اور مصنوعی ذہانت کی تیزی سے ابھرتی صلاحیتوں کے تناظر میں موجودہ قوانین اس نوعیت کے معاملات سے نمٹنے کے لیے مؤثر ہیں یا نہیں۔








