سپریم کورٹ نے قرار دیا ہے کہ مقدمے کے دوران متنازعہ جائیداد خریدنے والا شخص جائیداد کے بارے میں مقدمے کے حتمی فیصلے کا پابند ہوگا، نیک نیتی سے خریداری اور مقدمے سے لاعلمی بھی اسے انتقالِ جائیداد ایکٹ 1882 کی دفعہ 52 کے تحت مقدمے کے دوران منتقلی کے اصول سے مستثنیٰ نہیں کرتی
مقدمے کے دوران جائیداد خریدنے والا خریدار حتمی فیصلے کا پابند ہوگا، سپریم کورٹ

مزید خبریں
اسلام آباد۔24ستمبر (اے پی پی):سپریم کورٹ نے قرار دیا ہے کہ مقدمے کے دوران متنازعہ جائیداد خریدنے والا شخص جائیداد کے بارے میں مقدمے کے حتمی فیصلے کا پابند ہوگا، نیک نیتی سے خریداری اور مقدمے سے لاعلمی بھی اسے انتقالِ جائیداد ایکٹ 1882 کی دفعہ 52 کے تحت مقدمے کے دوران منتقلی کے اصول سے مستثنیٰ نہیں کرتی۔جسٹس محمد علی مظہر اور جسٹس شاہد بلال حسن پر مشتمل دو رکنی بینچ نے شہناز کوثر کی جانب سے لاہور ہائیکورٹ کے فیصلے کے خلاف دائر سول اپیل خارج کرتے ہوئے یہ فیصلہ سنایا۔عدالت نے قرار دیا کہ مقدمے کے دوران جائیداد کی منتقلی لازماً کالعدم نہیں ہوتی تاہم ایسی منتقلی زیرِ سماعت مقدمے کے فریقین کے حقوق کو متاثر نہیں کر سکتی اور خریدار جائیداد کو مقدمے کے حتمی نتیجے کے تابع حاصل کرتا ہے۔سپریم کورٹ نے قرار دیا کہ انتقال نمبر 594، جس کی بنیاد پر اپیل کنندہ نے تین کنال اراضی میں ملکیتی حق کا دعویٰ کیا، خود اپیل کنندہ نے بطور شہادت پیش نہیں کیا بلکہ اس کے وکیل نے اسے عدالت میں پیش کیا، اس لیے اسے بنیادی شہادت کے طور پر قابلِ اعتبار نہیں سمجھا جا سکتا۔فیصلے میں کہا گیا کہ کسی دستاویز پر انحصار کرنے والی فریق کو اسے خود یا کسی مجاز گواہ کے ذریعے ثبوت میں پیش کرنا ہوتا ہے تاکہ مخالف فریق کو دستاویز پیش یا ثابت کرنے والے شخص پر جرح کا مناسب موقع مل سکے، محض وکیل کی جانب سے دستاویز پیش کرنا کافی نہیں۔عدالت نے کہا کہ انتقال نمبر 594 کو قانون کے مطابق ثابت نہ کیے جانے کے باعث اپیل کنندہ اس دستاویز کی بنیاد پر ملکیتی حق حاصل نہیں کر سکتی۔فیصلے کے مطابق متعلقہ جائیداد پہلے ہی عدالت میں زیرِ سماعت مقدمے کا موضوع تھی اور اپیل کنندہ نے مقدمے کے دوران متنازع حصہ خریدا، اس لیے اس کی خریداری مقدمے کے حتمی نتیجے کے تابع ہے۔سپریم کورٹ نے واضح کیا کہ مقدمے کے دوران جائیداد خریدنے والا شخص اپنے فروخت کنندہ سے بہتر قانونی حیثیت حاصل نہیں کر سکتا اور بعد ازاں اسے مقدمے میں فریق بنائے جانے سے بھی اس کی خریداری مقدمے کے دوران منتقلی کے قانونی اثرات سے محفوظ نہیں ہوتی۔عدالت نے کہا کہ موجودہ مقدمے میں اصل مدعی بالآخر اپنے دعوے میں کامیاب ہوا، اس لیے انتقالِ جائیداد ایکٹ کی دفعہ 52 کے تحت قانونی اصول کا اطلاق ہوتا ہے۔سپریم کورٹ نے لاہور ہائیکورٹ کے 14 مئی 2025 کے فیصلے میں مداخلت کی کوئی قانونی یا دائرہ اختیار کی غلطی نہ پاتے ہوئے مسز شہناز کوثر کی اپیل خارج کر دی، تاہم اخراجات کے حوالے سے کوئی حکم جاری نہیں کیا۔








