نوجوانوں کو ترقی کے عمل میں شامل کیے بغیر پاکستان کی ترقی مکمل نہیں ہو سکتی، وفاقی وزیر پروفیسر احسن اقبال

وفاقی وزیر منصوبہ بندی، ترقی و خصوصی اقدامات پروفیسر احسن اقبال نے کہا ہے کہ پاکستان کی ترقی کی بات اس وقت تک مکمل نہیں ہوسکتی جب تک نوجوان نسل کو ترقی کے عمل میں شامل نہ کیا جائے۔

فیصل آباد۔ 24 ستمبر (اے پی پی):وفاقی وزیر منصوبہ بندی، ترقی و خصوصی اقدامات پروفیسر احسن اقبال نے کہا ہے کہ پاکستان کی ترقی کی بات اس وقت تک مکمل نہیں ہوسکتی جب تک نوجوان نسل کو ترقی کے عمل میں شامل نہ کیا جائے۔ پاکستان کی دو تہائی آبادی نوجوانوں پر مشتمل ہے، اس لیے آج کیے جانے والے فیصلوں کے اثرات آنے والی کئی دہائیوں تک نوجوان نسل پر مرتب ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ ملک کو صحت مند، تعلیم یافتہ اور باشعور نوجوان نسل کی ضرورت ہے جو مستقبل میں پاکستان کی قیادت سنبھال سکے۔وفاقی وزیر منصوبہ بندی، ترقی و خصوصی اقدامات پروفیسر احسن اقبال گورنمنٹ کالج ویمن یونیورسٹی فیصل آباد میں طالبات سے خطاب کر رہے تھے۔ اس موقع پر انہوں نے کہا کہ ان کے لیے یہ اعزاز کی بات ہے کہ انہیں یونیورسٹی میں دو منصوبوں کے افتتاح کا موقع ملا۔ یونیورسٹی آمد پر خوشی کا اظہار کرتے ہوئے وفاقی وزیر نے کہا کہ ادارے میں تقریباً 11 ہزار طالبات زیر تعلیم ہیں، جو اس بات کا مظہر ہے کہ خواتین کے لیے اعلیٰ تعلیم کے مواقع میں اضافہ ہو رہا ہے۔انہوں نے اپنے ضلع نارووال کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ایک وقت میں وہاں کوئی اعلیٰ تعلیمی ادارہ موجود نہیں تھا۔ باصلاحیت بچے اور بچیاں اچھے نمبرز اور پوزیشنز حاصل کرنے کے باوجود اعلیٰ تعلیم کے لیے دوسرے شہروں کا رخ نہیں کر سکتے تھے۔ انہوں نے کہا کہ اسی ضرورت کے پیش نظر یونیورسٹی آف نارووال قائم کی گئی جہاں اب تقریباً 8 ہزار طلبہ و طالبات زیر تعلیم ہیں۔وفاقی وزیر نے بتایا کہ وزارت منصوبہ بندی و ترقی میں نوجوانوں کے لیے ینگ ڈویلپمنٹ فیلوز پروگرام شروع کیا گیا، جس کے تحت ملک کی مختلف یونیورسٹیوں سے 40 نوجوانوں کو فیلوشپ دی جاتی تھی۔ بعدازاں اس پروگرام کے دائرہ کار کو وسعت دیتے ہوئے مختلف یونیورسٹیوں میں اس کے چیپٹرز قائم کیے گئے اور اب 165 یونیورسٹیوں میں یہ چیپٹرز کام کر رہے ہیں۔ ان نوجوانوں کی لیڈرشپ ٹریننگ بھی کی جا رہی ہے تاکہ وہ مستقبل میں پاکستان کی قیادت کے لیے تیار ہوسکیں۔انہوں نے کہا کہ پاکستان معاشی طور پر کسی حد تک دنیا کا مقابلہ کر رہا ہے، تاہم سماجی اشاریوں میں ملک کو بہتری کی ضرورت ہے۔ ان کے مطابق سیاسی عدم استحکام کے باعث ملک میں طویل المدتی پالیسیاں تسلسل کے ساتھ نافذ نہیں ہوسکیں اور مختلف حکومتیں غیر یقینی صورتحال کے باعث ایسے منصوبوں کو ترجیح دیتی رہیں جو دو، تین سال میں مکمل ہوسکیں۔پروفیسر احسن اقبال نے کہا کہ ملک کے وسائل طویل عرصے تک سماجی انفراسٹرکچر کے بجائے فزیکل انفراسٹرکچر پر زیادہ خرچ ہوتے رہے، حالانکہ سماجی شعبے میں سرمایہ کاری کے نتائج کئی سال بعد سامنے آتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ تعلیم، صحت اور انسانی وسائل کی ترقی پر سرمایہ کاری مستقبل کی بنیاد مضبوط کرنے کے لیے ضروری ہے۔تعلیم کے حوالے سے بات کرتے ہوئے وفاقی وزیر نے کہا کہ پاکستان میں خواندگی کی شرح تقریباً 63 فیصد ہے جبکہ دنیا میں یہ شرح 90 فیصد سے زائد ہے۔ انہوں نے کہا کہ ملک میں تقریباً اڑھائی کروڑ بچے سکولوں سے باہر ہیں اور معاشرے میں تعلیم کی اہمیت کے حوالے سے مزید آگاہی پیدا کرنے کی ضرورت ہے۔انہوں نے صحت کے شعبے پر بھی توجہ دینے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ معاشرے میں صحت کے حوالے سے لاپرواہی موجود ہے اور ذیابیطس کے پھیلاؤ کے حوالے سے پاکستان کو سنگین چیلنجز کا سامنا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ بیماری لاحق ہونے کے بعد علاج کرنے کے بجائے سماجی رویوں اور طرز زندگی میں بہتری کے ذریعے بیماریوں کی روک تھام پر توجہ دینی چاہیے۔آبادی میں اضافے کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پاکستان میں آبادی کی شرح نمو 2.55 فیصد تک پہنچ چکی ہے۔ ان کے مطابق اتنی بلند شرح کے ساتھ ملک کے لیے ترقی کے اہداف حاصل کرنا مشکل ہوجاتا ہے۔ انہوں نے نوجوانوں اور طالبات سے سوال کیا کہ ملک کو بھوکے اور ان پڑھ بچوں کی بڑی تعداد درکار ہے یا صحت مند اور تعلیم یافتہ نسل تیار کرنی ہے۔انہوں نے کہا کہ بچے کی زندگی کے ابتدائی پانچ سال انتہائی اہم ہوتے ہیں اور اس عرصے میں بچے کے دماغ کی تقریباً 90 فیصد نشوونما مکمل ہوجاتی ہے۔ اس لیے والدین اور معاشرے کو بچوں کے ابتدائی پانچ سالوں میں انہیں بہترین ماحول، تعلیم، خوراک اور تربیت فراہم کرنے کی اہمیت کو سمجھنا ہوگا۔کلائمیٹ چینج کے حوالے سے وفاقی وزیر نے کہا کہ موسمیاتی تبدیلی بھی پاکستان کو شدید متاثر کر رہی ہے جبکہ دوسری جانب درختوں کی کٹائی کا سلسلہ جاری ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں ماحول کے تحفظ اور آنے والی نسلوں کے لیے محفوظ مستقبل یقینی بنانے کے لیے اجتماعی ذمہ داری کا مظاہرہ کرنا ہوگا۔ انہوں نے معاشرے کے تصور کو وسیع کرتے ہوئے کہا کہ ہمارا گھر صرف وہ چار دیواری نہیں جس میں ہم رہتے ہیں بلکہ ہمارا اصل گھر پورا معاشرہ ہے۔نوجوانوں سے خطاب کرتے ہوئے پروفیسر احسن اقبال نے علامہ اقبال کے تصورِ شاہین کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اقبال نے نوجوان کو شاہین قرار دیا کیونکہ شاہین خوددار پرندہ ہے۔ انہوں نے نوجوانوں پر زور دیا کہ وہ خود اعتمادی، مثبت سوچ اور ذمہ داری کے ساتھ ملک کی تعمیر و ترقی میں اپنا کردار ادا کریں۔سوشل میڈیا اور شدت پسندی کے حوالے سے ذاتی تجربے کا ذکر کرتے ہوئے وفاقی وزیر نے بتایا کہ ایک نوجوان کی جانب سے ان پر قاتلانہ حملہ کیا گیا تھا، جس میں ان کی زندگی محفوظ رہی تاہم گولی آج بھی ان کے جسم میں موجود ہے۔ انہوں نے کہا کہ ان کے مطابق اس نوجوان نے سوشل میڈیا کے ذریعے شدت پسندی اور نفرت کا مواد حاصل کیا اور یہی سوچ بالآخر تشدد کی صورت میں سامنے آئی۔احسن اقبال نے طالبات اور نوجوانوں پر زور دیا کہ فیک نیوز، نفرت انگیزی اور شدت پسندی کے رجحانات کی روک تھام کے لیے اپنا کردار ادا کریں۔ انہوں نے کہا کہ معاشرے کو ایسی سوچ کا مقابلہ کرنا ہوگا جو نوجوانوں کو نفرت اور تشدد کی طرف لے جاتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ موجودہ دور میں فیک نیوز اور سوشل میڈیا کا غلط استعمال معاشرے کے لیے انتہائی خطرناک چیلنج بن چکا ہے، اس لیے نوجوانوں کو معلومات کی تصدیق، مثبت سوچ اور ذمہ دارانہ ڈیجیٹل رویوں کو اپنانا ہوگا۔تقریب میں وزیراعظم کے کوآرڈینیٹربرائے کامرس رانا احسان افضل، پرنسپل گورنمنٹ ویمن کالج پروفیسر ڈاکٹر کنول امین،تمام فیکلٹی ممبران،اساتذہ کرام،میڈیا نمائندگان اور طالبات کی کثیر تعداد نے شرکت کی۔