وفاقی وزیرِ خزانہ و محصولات سینیٹر محمد اورنگزیب نے کہاہے کہ موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات سے نمٹنے کےلئے کئے جانے والے وعدوں کو عوام اور کمیونٹیز کے لیے ٹھوس اور عملی نتائج میں تبدیل ہونا چاہیے۔ یہ بات انہوں نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے سالانہ اجلاس کے موقع پرنیویارک میں کلائمیٹ امپلی منٹیشن برج کے حوالے سے منعقدہ اعلی سطح کی تقریب سے خطاب کرتے کہی۔
موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات سے نمٹنے کےلئے کئے گئے وعدوں کو ٹھوس اور عملی نتائج میں تبدیل ہونا چاہیے، وفاقی وزیرخزانہ کا نیویارک میں اعلی سطحی تقریب سے خطاب

مزید خبریں
اسلام آباد۔25ستمبر (اے پی پی):وفاقی وزیرِ خزانہ و محصولات سینیٹر محمد اورنگزیب نے کہاہے کہ موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات سے نمٹنے کےلئے کئے جانے والے وعدوں کو عوام اور کمیونٹیز کے لیے ٹھوس اور عملی نتائج میں تبدیل ہونا چاہیے۔ یہ بات انہوں نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے سالانہ اجلاس کے موقع پرنیویارک میں کلائمیٹ امپلی منٹیشن برج کے حوالے سے منعقدہ اعلی سطح کی تقریب سے خطاب کرتے کہی۔
وزیرِ خزانہ نے موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات سے نمٹنے کےلئے کئے جانے والے وعدوں پر موثر عملدرآمد کے لیے تین بنیادی تقاضوں کی نشاندہی کی، جن میں مضبوط پالیسی فریم ورک، مالی وسائل تک رسائی اور ملکی سطح پر منصوبوں کو عملی شکل دینے کی صلاحیت شامل ہیں۔ انہوں نے موسمیاتی پالیسی کے حوالے سے پاکستان کی پیش رفت اور ملکی وسائل، بین الاقوامی مالیاتی اداروں، کیپٹل مارکیٹس اور موسمیاتی فنڈز کے ذریعے مالی وسائل متحرک کرنے کی کوششوں پربھی روشنی ڈالی۔
وزیرخزانہ نے کہاکہ ادارہ جاتی تقسیم اور سرمایہ کاری کے قابل اور مالی معاونت حاصل کرنے کے قابل منصوبوں کی کمی بدستور موثر عملدرآمد میں رکاوٹ ہے۔ پاکستان میں 2022 میں آنے والے سیلاب کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ بین الاقوامی معاونت کے وعدوں کے باوجود مناسب منصوبوں کی عدم موجودگی کے باعث بعض مالی وسائل استعمال نہیں ہو سکے۔
وفاقی وزیرِ خزانہ نے برج میں پاکستان کی شرکت کا خیرمقدم کرتے ہوئے شراکت داروں پر زور دیا کہ وہ ایسے عملی فیصلوں پر اتفاقِ رائے پیدا کریں جو اس اقدام کو محض مکالمے سے آگے بڑھا کر عملی اقدامات کی جانب لے جائیں۔








