ایک رپورٹ میں پاکستان میں مختلف فوجی کارروائیوں کے دوران ہلاک ہونے والے 260 افغان دہشت گردوں کی نشاندہی کی گئی ہے جس سے افغانستان کی سرزمین سے براہ راست کام کرنے والے ایک مضبوط دہشت گرد نیٹ ورک کا انکشاف ہوا ہے
دستاویزی شواہد نے پاکستان کے خلاف افغان سرزمین سے دہشت گردی کرنے والے گروہوں کی طالبان سرپرستی بے نقاب کر دی

مزید خبریں
اسلام آباد۔25ستمبر (اے پی پی):ایک رپورٹ میں پاکستان میں مختلف فوجی کارروائیوں کے دوران ہلاک ہونے والے 260 افغان دہشت گردوں کی نشاندہی کی گئی ہے جس سے افغانستان کی سرزمین سے براہ راست کام کرنے والے ایک مضبوط دہشت گرد نیٹ ورک کا انکشاف ہوا ہے۔دستاویزی شواہد نے افغان سرزمین کو پاکستان کے خلاف دہشت گردی کے لیے استعمال کرنے والے دہشت گرد گروہوں کی طالبان سرپرستی کو بے نقاب کر دیا۔سکیورٹی رپورٹ میں ہلاک ہونے والے افراد کے مکمل نام، گھروں کے پتے اور خاندانوں کی تفصیلات شامل ہیں، جس سے افغان طالبان حکومت کے اس مسلسل مؤقف کی تردید ہوتی ہے کہ وہ دہشت گرد تنظیموں کو پناہ، مدد یا سرپرستی فراہم نہیں کرتی۔رپورٹ کے مطابق یہ تعداد صرف ان دہشت گردوں کی ہے جن کی ہلاکت کی شناخت ہو چکی ہے جبکہ نامعلوم یا سرگرم دہشت گرد اس میں شامل نہیں۔ اس لیے یہ تعداد پاکستان میں افغان دہشت گردوں کی مجموعی موجودگی کا صرف ایک حصہ ظاہر کرتی ہے۔رپورٹ کے مطابق افغانستان کے مختلف علاقوں میں ان ہلاک ہونے والے افغان دہشت گردوں کی سرعام نماز جنازہ ادا کی گئی جن میں افغان طالبان حکومت کے حکام نے بھی شرکت کی۔ رپورٹ کے مطابق یہ عمل دہشت گردوں کے لیے حکومت کی براہ راست سرپرستی کو ظاہر کرتا ہے۔افغان طالبان حکومت سرحد پار دہشت گردی سے لاتعلقی کا دعویٰ کرتی ہے تاہم رپورٹ میں سوال اٹھایا گیا ہے کہ پاکستان پر حملوں کے دوران مارے جانے والے دہشت گردوں کے لواحقین کے ساتھ اس کے سرکاری نمائندے جنازوں میں کیوں شریک ہوتے ہیں۔رپورٹ کے مطابق یہ تعلق صرف دہشت گردوں کو پناہ دینے تک محدود نہیں بلکہ پاکستان میں دراندازی اور فوجی مدد تک بھی پھیلا ہوا ہے۔ریکارڈ کے مطابق پاکستان میں داخل ہونے والے فتنۃ الخوارج کے 70 فیصد تک درانداز افغان شہری ہیں۔رپورٹ کے مطابق افغان طالبان حکومت نے امریکا اور نیٹو کے چھوڑے ہوئے ہتھیار فتنۃ الخوارج اور فتنۃ الہندستان سے وابستہ دہشت گردوں کو فراہم کیے ہیں۔ان دہشت گردوں کے پاس ایم 4 اسالٹ رائفلز، ریمِنگٹن اسنائپر رائفلز اور جدید نائٹ ویژن آلات سمیت جدید فوجی سازوسامان موجود ہے جنہیں پاکستان کے خلاف استعمال کیا جا رہا ہے۔افغان سرزمین سے ہونے والی دہشت گردی کے نتیجے میں 2026 میں اب تک 1,327 پاکستانی شہید اور 2,484 زخمی ہو چکے ہیں۔اقوام متحدہ کے اندازوں کے مطابق فتنۃ الخوارج کے افغانستان میں تقریباً 6,000 سے 6,500 دہشت گرد موجود ہیں۔اقوام متحدہ کی رپورٹس کے مطابق 2025 میں پاکستان کے خلاف 600 سے زائد دہشت گرد حملے کیے گئے، جن میں متعدد حملے براہ راست افغان سرزمین سے کیے گئے۔رپورٹ کے مطابق افغان طالبان حکومت نے اس خطرے کو ختم کرنے کے بجائے فتنۃ الخوارج کو افغانستان کے صوبوں کنڑ، ننگرہار، خوست اور پکتیکا میں بڑے پیمانے پر تربیتی مراکز قائم کرنے کی اجازت دی۔رپورٹ کے مطابق طالبان حکومت کے اہلکار بھی ان تربیتی مراکز میں عسکریت پسندوں کے ساتھ شامل ہو رہے ہیں۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ جب ان معروف دہشت گرد ٹھکانوں کو نشانہ بنایا جاتا ہے تو طالبان حکومت دہشت گردوں کے خلاف کارروائی کرنے کے بجائے ان کا دفاع اور ان کے ٹھکانوں کا تحفظ کرتی ہے۔یہ صورتحال صرف ایک دہشت گرد تنظیم تک محدود نہیں۔ اقوام متحدہ کی دستاویزات کے مطابق القاعدہ، ایسٹ ترکستان اسلامک موومنٹ (ETIM) اور داعش سمیت متعدد دہشت گرد گروہ افغانستان میں اب بھی موجود اور سرگرم ہیں، جو ملک میں دہشت گردی کے ایک وسیع نیٹ ورک کی موجودگی کو ظاہر کرتا ہے۔رپورٹ کے مطابق طالبان حکومت کے سرکاری بیانات دہشت گردوں کے تربیتی مراکز، افغان جنگجوؤں، سرحد پار حملوں، دہشت گردوں کے پاس موجود جدید ہتھیاروں اور دہشت گردوں کے جنازوں میں حکومتی اہلکاروں کی شرکت کی حقیقت کو تبدیل نہیں کر سکتے۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ افغان سرزمین پاکستان کے خلاف دہشت گردی کے لیے محفوظ پناہ گاہ، تربیتی مرکز اور لانچنگ پیڈ بن چکی ہے، جبکہ پاکستان اس کی بھاری قیمت جانی نقصان کی صورت میں ادا کر رہا ہے۔پاکستان کا مؤقف واضح ہے کہ افغان طالبان حکومت کو تمام دہشت گرد پناہ گاہیں فوری طور پر ختم، دہشت گردوں کے تربیتی مراکز تباہ، سرحد پار دراندازی روکنے اور افغان سرزمین کو پاکستان کے خلاف دہشت گردی کے لیے استعمال ہونے سے مستقل طور پر روکنے کے اقدامات کرنا ہوں گے۔








