پاکستان کے حصے کے پانی کو روکنےکی کوئی بھی کوشش جنگی اقدام تصور کی جائے گی، بھارت اس بارے میں کسی غلط فہمی میں نہ رہے، وزیراعظم شہباز شریف

وزیراعظم محمد شہباز شریف نے کہا ہے کہ سندھ طاس معاہدہ بدستور مؤثر، پابند اور مکمل طور پر قابلِ عمل ہے، پاکستان کے حصے کے پانی کو روکنے، اس میں رکاوٹ ڈالنے یا اس کا رخ موڑنے کی کوئی بھی کوشش جنگی اقدام تصور کی جائے گی، بھارت اس بارے میں کسی غلط فہمی میں نہ رہے۔

اقوام متحدہ۔26ستمبر (اے پی پی):وزیراعظم محمد شہباز شریف نے کہا ہے کہ سندھ طاس معاہدہ بدستور مؤثر، پابند اور مکمل طور پر قابلِ عمل ہے، پاکستان کے حصے کے پانی کو روکنے، اس میں رکاوٹ ڈالنے یا اس کا رخ موڑنے کی کوئی بھی کوشش جنگی اقدام تصور کی جائے گی، بھارت اس بارے میں کسی غلط فہمی میں نہ رہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے جمعہ کو اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 81ویں اجلاس میں عمومی مباحثے سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ وزیرِ اعظم نے کہا کہ جنوبی ایشیا میں استحکام کی ایک اور بنیاد اب دباؤ کا شکار ہے، سندھ طاس کا مشترکہ نظامِ آب نہ صرف پاکستان کے عوام بلکہ پورے خطے کے لوگوں کے لیے زندگی کابنیادی عنصر ہے،موجودہ معاہدے کو یکطرفہ طور پر معطل رکھنے کا بھارت کا فیصلہ کسی بھی قانونی بنیاد سے محروم ہے،درحقیقت اقوام متحدہ کے ماہرین اور حال ہی میں ثالثی عدالت کی جانب سے بھی اس کے دعوئوں اور اقدامات کو مسترد کیا گیا ہےجس سے ہمارا یہ جائز مؤقف کہ یہ معاہدہ بدستور مؤثر، پابند اور مکمل طور پر قابلِ عمل ہے، درست ثابت ہوا ہے۔ شہبازشریف نے کہا کہ پانی کو کبھی ہتھیار نہیں بنایا جانا چاہئے،دریاؤں کو قوموں کی پرورش کرنی چاہئے، انہیں تقسیم نہیں کرنا چاہئے، لہٰذا پاکستان کے حصے کے پانی کو روکنے، اس میں رکاوٹ ڈالنے یا اس کا رخ موڑنے کی کوئی بھی کوشش جنگی اقدام تصور کی جائے گی۔ بھارت اس بارے میں کسی غلط فہمی میں نہ رہے

مزید خبریں