وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کاڈسٹرکٹ ہیڈکوارٹرز ٹیچنگ ہسپتال ڈیرہ اسماعیل خان کے ٹراما سینٹر کا دورہ ،زخمیوں کی عیادت کی

وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی نے صوبائی وزیر اطلاعات وٹیکنالوجی شفیع جان کے ہمراہ اتوار کو ڈسٹرکٹ ہیڈکوارٹرز ٹیچنگ ہسپتال ڈیرہ اسماعیل خان کے ٹراما سینٹر کا دورہ کیا اور دارازندہ میں امن میلہ جوائنٹ چیک پوسٹ پر دہشتگردانہ حملے میں زخمی ہونے والے افراد کی عیادت کی

پشاور۔ 27 ستمبر (اے پی پی):وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی نے صوبائی وزیر اطلاعات وٹیکنالوجی شفیع جان کے ہمراہ اتوار کو ڈسٹرکٹ ہیڈکوارٹرز ٹیچنگ ہسپتال ڈیرہ اسماعیل خان کے ٹراما سینٹر کا دورہ کیا اور دارازندہ میں امن میلہ جوائنٹ چیک پوسٹ پر دہشتگردانہ حملے میں زخمی ہونے والے افراد کی عیادت کی۔سابق وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا علی امین خان گنڈاپور، کمشنر ڈیرہ اسماعیل خان ڈویژن، ریجنل پولیس آفیسر ڈیرہ اسماعیل خان، ڈپٹی کمشنر اور ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر ڈیرہ اسماعیل خان سمیت دیگر اعلیٰ حکام بھی اس موقع پر موجود تھے۔وزیراعلیٰ نے ٹراما سینٹر میں زیر علاج زخمیوں سے ملاقات کی اور ان کی خیریت دریافت کی۔ ہسپتال انتظامیہ نے وزیراعلیٰ کو زخمیوں کی حالت اور انہیں فراہم کی جانے والی طبی سہولیات کے بارے میں بریفنگ دی۔وزیراعلیٰ نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ تمام زخمیوں کو بہترین ممکنہ طبی سہولیات اور بروقت علاج کی فراہمی یقینی بنائی جائے۔ ہسپتال انتظامیہ نے بتایا کہ ٹراما سینٹر میں زخمیوں کو دستیاب تمام طبی سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں۔وزیراعلیٰ نے واقعہ کے دوران قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکاروں اور مقامی افراد کی جانب سے دکھائی گئی غیر معمولی بہادری کو بھی سراہا۔بعد ازاں الامین ہاؤس میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے کہا کہ صوبائی حکومت دہشت گردی کے خاتمے کے لیے سنجیدہ ہے اور صوبے میں پائیدار امن کے قیام کے لیے زمینی حقائق کی بنیاد پر مؤثر حکمت عملی کی ضرورت ہے۔انہوں نے دہشت گردی کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ جو شخص پاکستانی شہریوں کے خلاف اسلحہ اٹھائے، فائرنگ کرے، حملہ کرے یا خودکش حملہ کرے، وہ دہشت گرد ہے، خواہ اس کا تعلق کسی بھی علاقے، مسلک یا گروہ سے ہو۔وزیراعلیٰ نے کہا کہ صوبے کو مزید سکیورٹی وسائل کی فوری ضرورت ہے کیونکہ دہشت گردی کے واقعات میں پولیس، سکیورٹی اہلکار اور شہری مسلسل اپنی جانیں کھو رہے ہیں۔ صوبائی حکومت نے امن و امان کے قیام اور پولیس کو مضبوط بنانے کے لیے 35 ارب روپے مختص کیے ہیں۔انہوں نے کہا کہ صوبے کے عوام امن چاہتے ہیں، دہشت گردی کے واقعات میں ہمارے بچے، خواتین اور نوجوان اپنی جانیں گنوا رہے ہیں، جس پر قابو پانے کے لیے مؤثر اقدامات ناگزیر ہیں۔انہوں نے کہا کہ سیف سٹی منصوبوں پر کام جاری ہے جبکہ ڈیرہ اسماعیل خان، لکی مروت اور دیگر علاقوں میں سکیورٹی نظام کو مزید بہتر بنانے کے لیے اقدامات کیے جا رہے ہیں۔متاثرین کے خاندانوں کے لیے امداد سے متعلق سوال پر وزیراعلیٰ نے کہا کہ حالیہ دہشت گردی کی لہر میں جاں بحق ہونے والے شہریوں، پولیس اہلکاروں اور دیگر افراد کے خاندانوں کو شہداء پیکیج فراہم کیا جائے گا۔دورے کے دوران وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے الامین ہاؤس میں سابق وزیراعلیٰ علی امین خان گنڈاپور سے بھی ملاقات کی، جس میں باہمی دلچسپی کے امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔واضح رہے کہ ہفتہ کو دارازندہ میں امن میلہ جوائنٹ چیک پوسٹ کو دھماکے کا نشانہ بنایا گیا تھا، جس کے بعد متاثرین کو منتقل کرنے والی ریسکیو 1122 ایمبولینس پر بھی حملہ کیا گیا۔ واقعات میں متعدد افراد جاں بحق جبکہ درجنوں زخمی ہوئے۔