وفاقی وزیر صحت مصطفیٰ کمال نے کہا ہے کہ صحت پاکستان کا صرف انتظامی مسئلہ نہیں بلکہ قومی سلامتی اور قومی معیشت کا بھی اہم مسئلہ ہے
صحت صرف انتظامی نہیں، قومی سلامتی اور معیشت کا بھی اہم مسئلہ ہے، وفاقی وزیر صحت کا انٹرنیشنل کانفرنس آف لائف اسٹائل میڈیسن سے خطاب

مزید خبریں
اسلام آباد۔29ستمبر (اے پی پی):وفاقی وزیر صحت مصطفیٰ کمال نے کہا ہے کہ صحت پاکستان کا صرف انتظامی مسئلہ نہیں بلکہ قومی سلامتی اور قومی معیشت کا بھی اہم مسئلہ ہے۔ پاکستان میں بیماریوں کے بڑھتے ہوئے بوجھ کے باعث ہیلتھ کیئر سسٹم پر دباؤ میں اضافہ ہو رہا ہے، جس سے نمٹنے کے لیے بیماریوں کے علاج کے ساتھ ساتھ ان کی بنیادی وجوہات پر توجہ دینا ہوگی۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے انٹرنیشنل کانفرنس آف لائف اسٹائل میڈیسن سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔وفاقی وزیر صحت نے کہا کہ صرف مزید اسپتال اور ڈاکٹرز بنانا بڑھتی ہوئی بیماریوں کے مسئلے کا مستقل حل نہیں۔ بیماریوں کے بڑھتے ہوئے بوجھ کو کم کرنے کے لیے احتیاط، بیماریوں سے بچاؤ اور صحت کے فروغ پر خصوصی توجہ دینا ہوگی۔انہوں نے کہا کہ لائف اسٹائل میڈیسن کو پائیدار بنانا اور اس حوالے سے شعور ہر فرد تک پہنچانا ضروری ہے۔ لائف اسٹائل میڈیسن کے مضمون کو فروغ دینے کے لیے پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل (پی ایم ڈی سی) میں اقدامات کیے گئے ہیں۔مصطفیٰ کمال نے بتایا کہ پی ایم ڈی سی میں لائف اسٹائل میڈیسن کے کورس کی شمولیت اور اس حوالے سے کمیٹی کی تشکیل کا کام مکمل ہو چکا ہے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان کی تیزی سے بڑھتی ہوئی آبادی کے باعث مستقبل میں صحت کی سہولیات کی ضروریات مزید بڑھیں گی۔ بڑھتی ہوئی آبادی کے ساتھ ہر بیماری کے لیے مزید اسپتال، ڈاکٹرز اور طبی عملہ فراہم کرنا ممکن نہیں، اس لیے بیماریوں کی روک تھام اور صحت مند طرزِ زندگی کو فروغ دینا ناگزیر ہے۔وفاقی وزیر صحت نے کہا کہ کووڈ وبا نے ثابت کیا کہ ایک وقت میں بڑی تعداد میں لوگوں کے بیمار ہونے سے بڑے ممالک کے صحت کے نظام بھی دباؤ کا شکار ہو جاتے ہیں۔ پاکستان میں بھی مختلف بیماریوں کے باعث بڑی تعداد میں لوگ بیک وقت اسپتالوں کا رخ کر رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ بیماریوں کے بڑھتے ہوئے بوجھ سے نمٹنے کے لیے بیماریوں کی وجوہات پر توجہ دینا ہوگی اور صحت کے فروغ، احتیاطی تدابیر اور بیماریوں سے بچاؤ کو قومی صحت کے نظام کا اہم حصہ بنانا ہوگا۔








