نئی جناح پیپلز ٹرین سروس کا آغاز، ضعیف العمر اور خصوصی افراد کیلئے سفر مفت ہوگا، میرسرفراز بگٹی کاافتتاحی تقریب سے خطاب

وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے کہا ہے کہ حکومت عوام کو بہتر اور جدید سفری سہولیات کی فراہمی کیلئے اقدامات کر رہی ہے

کوئٹہ۔ 29 ستمبر (اے پی پی):وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے کہا ہے کہ حکومت عوام کو بہتر اور جدید سفری سہولیات کی فراہمی کیلئے اقدامات کر رہی ہے، نئی جناح پیپلز ٹرین سروس اسی سلسلے کی اہم کڑی ہے، ضعیف العمر افراد اور خصوصی افراد کیلئے اس ٹرین میں سفر بالکل مفت ہوگا جبکہ منصوبے کو آئندہ مزید وسعت دی جائے گی۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے کوئٹہ ریلوے سٹیشن پر 32 کلومیٹر فاصلے تک نئی جناح پیپلز ٹرین سروس کے افتتاح کے موقع پر منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ تقریب میں وفاقی وزیر ریلوے محمد حنیف عباسی، رکن قومی اسمبلی و پاکستان مسلم لیگ (ن)بلوچستان کے جنرل سیکرٹری جمال شاہ کاکڑ، صوبائی وزیر خزانہ میر شعیب نوشیروانی، وزیر صحت بخت محمد کاکڑ، صوبائی وزیر تعمیرات میر سلیم احمد کھوسہ، صوبائی وزیر منصوبہ بندی میر ظہور بلیدی، وزیر تعلیم راحیلہ حمید درانی، وزیر آبپاشی میر صادق عمرانی، وزیر خوراک حاجی نور محمد دمڑ، وزیر ریونیومیر عاصم کرد گیلو، پارلیمانی سیکرٹری ٹرانسپورٹ میر لیاقت لہڑی، پارلیمانی سیکرٹری حاجی محمد خان لہڑی، ارکان اسمبلی ڈاکٹر مالک بلوچ، ملک نعیم بازئی، سید ظفر علی آغا، میر عبید گورگیج، صوبائی مشیر نوابزادہ امیر حمزہ زہری، مشیر ماحولیات نسیم الرحمان ملاخیل، مشیر کھیل مینا مجید بلوچ، چیف سیکرٹری بلوچستان شکیل قادر خان، سیکرٹری ٹرانسپورٹ محمد حیات کاکڑ، آئی جی پولیس بلوچستان محمد طاہر اور دیگر حکام و سیاسی رہنما موجود تھے۔وزیراعلی بلوچستان نے وفاقی وزیر ریلوے محمد حنیف عباسی کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ وہ ایک سچے سیاسی کارکن ہیں جنہوں نے اپوزیشن اور حکومت دونوں میں رہ کر عوام کی خدمت کی۔ بلوچستان مہمان نوازی کیلئے مشہور ہے اور ہم انہیں اس سرزمین پر خوش آمدید کہتے ہیں۔ آج کی تقریب پاکستان کی تقریب ہے جس میں تمام سیاسی جماعتوں سے تعلق رکھنے والے افراد شریک ہیں۔انہوں نے کہا کہ ماضی میں ٹرین ہائی جیک کرنے کی کوشش سمیت سفر کو غیر محفوظ بنانے کی کوششیں کی گئیں تاہم حکومت نے عوام کو بہتر سفری سہولیات فراہم کرنے کیلئے اپنی کوششیں جاری رکھیں۔ پارلیمانی سیکرٹری ٹرانسپورٹ میر لیاقت لہڑی اور سیکرٹری ٹرانسپورٹ محمد حیات کاکڑ نے اس منصوبے کیلئے دن رات محنت کی۔میر سرفراز بگٹی نے کہا کہ جب اس منصوبے کا آغاز کیا جا رہا تھا تو چین سے حاصل کی جانے والی تجویز کے مطابق اس پر 40 سے 50 ارب روپے لاگت اور تقریباً چار سال کا عرصہ درکار تھا تاہم حکومت نے وزارت ریلوے سے بات چیت کے ذریعے منصوبے کو مقامی سطح پر آگے بڑھانے کا فیصلہ کیا تاکہ وسائل ملک میں ہی رہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس سلسلے کو مزید جاری رکھا جائے گا اور آئندہ سال تک اس منصوبے کو ایک سے دو ٹرینوں تک وسعت دینے کی کوشش کی جائے گی جبکہ بوستان انڈسٹریل زون سے مستونگ تک بھی اس سروس کی توسیع کا منصوبہ ہے۔وزیراعلی نے صدر مملکت آصف علی زرداری، وزیراعظم شہباز شریف، وفاقی وزیر ریلوے محمد حنیف عباسی، پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری اور عسکری قیادت کا تعاون پر شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے کہا کہ بلوچستان میں میٹرو ٹرین سروس کا منصوبہ بلاول بھٹو زرداری کے سامنے رکھا گیا تو انہوں نے اس منصوبے کو جلد مکمل کرنے کے عزم کا اظہار کیا۔انہوں نے کہا کہ حکومت کا اصل فوکس اس بلوچستانی عوام پر ہے جو سردیوں میں شدید سردی اور گرمیوں میں شدید گرمی کا سامنا کرتے ہیں۔ اس منصوبے کا کریڈٹ عام بلوچستانی، بیوروکریسی، وزارت ریلوے اور اپوزیشن سمیت ان تمام لوگوں کو جاتا ہے جنہوں نے اس منصوبے کی تکمیل میں اپنا کردار ادا کیا۔میر سرفراز بگٹی نے کہا کہ ہمیں اپنی روایات کو آگے بڑھانا ہے، جو لوگ آئین کو مانتے ہیں انہیں خوش آمدید کہیں گے تاہم دہشت گردی کی سوچ اور نظریات رکھنے والوں کو کسی صورت برداشت نہیں کیا جائے گا۔اس موقع پر پارلیمانی سیکرٹری ٹرانسپورٹ میر لیاقت لہڑی نے کہا کہ وزیراعلی بلوچستان کے ٹرانسپورٹ کے وژن کو عملی جامہ پہنایا جا رہا ہے اور کوئٹہ میں ٹرانسپورٹ کے شعبے کو جدید خطوط پر استوار کیا جا رہا ہے۔ گرین بس سروس کے بعد خواتین کیلئے پنک بس سروس کا آغاز بھی کیا گیا ہے، جس سے بڑی تعداد میں شہری مستفید ہو رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کی کوشش ہے کہ ان منصوبوں سے عوام کو زیادہ سے زیادہ سہولیات اور فائدہ حاصل ہو۔