سینیٹر زعبدالقادر اور سید وقار مہدی کی منیلا میں بین الحکومتی مالیاتی اداروں کے پہلے اجتماع میں پاکستان کی نمائندگی،پارلیمانی نگرانی کو مضبوط بنانے پر زور

سینیٹر زعبدالقادر اور سید وقار مہدی کی منیلا میں بین الحکومتی مالیاتی اداروں کے پہلے اجتماع میں پاکستان کی نمائندگی،پارلیمانی نگرانی کو مضبوط بنانے پر زور

منیلا۔29ستمبر (اے پی پی):سینیٹر عبدالقادر اور سینیٹر سید وقار مہدی نے سینیٹ آف پاکستان کی نمائندگی کرتے ہوئے منگل کو منیلا میں بین الحکومتی مالیاتی اداروں کے پہلے اجتماع سے خطاب کیا اور مالیاتی وفاقیت، وسائل کی منصفانہ تقسیم، موسمیاتی مالی معاونت اور پارلیمانی نگرانی کے حوالے سے پاکستان کے تجربات کو اجاگر کیا۔سینیٹ سیکرٹریٹ کے مطابق سینیٹر عبدالقادر نے کہا کہ عوامی وسائل کی منصفانہ، قابلِ پیش گوئی اور شفاف تقسیم جامع معاشی ترقی اور تعلیم، صحت اور دیگر بنیادی خدمات کی مؤثر فراہمی کے لئے ناگزیر ہے۔

انہوں نے مقامی حکومتوں کو مالیاتی اختیارات کی منتقلی اور مؤثر احتساب کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ سینیٹ آف پاکستان، بطور ایوانِ نمائندگانِ صوبہ جات، وسائل کی منصفانہ تقسیم، شفافیت اور عوامی مالیات کے مؤثر انتظام کو خصوصی اہمیت دیتا ہے۔ انہوں نے مختلف وفاقی اکائیوں کے درمیان عملی تجربات کے تبادلے کے لیے مجوزہ IGFIN پیئر نیٹ ورک کا بھی خیرمقدم کیا۔ابھرتے ہوئے مسائل اور موسمیاتی تبدیلی سے متعلق مالیاتی منتقلی کے موضوع پر گفتگو کرتے ہوئے سینیٹر سید وقار مہدی نے کہا کہ موسمیاتی تبدیلی، قدرتی آفات، پانی کی قلت اور ماحولیاتی تنزلی خصوصاً کمزور علاقوں کے لیے بڑھتے ہوئے مالیاتی دباؤ کا باعث بن رہی ہیں۔

انہوں نے پاکستان میں 2022 کے تباہ کن سیلاب، ہیٹ ویوز اور خشک سالی کا حوالہ دیتے ہوئے موسمیاتی موافقت کے لئے مالی معاونت، ٹیکنالوجی اور استعدادِ کار میں اضافے کے مواقع تک بہتر رسائی کی ضرورت پر زور دیا۔سینیٹر سید وقار مہدی نے کہا کہ بین الحکومتی مالیاتی منتقلی کے نظام میں موسمیاتی خطرات، قدرتی آفات سے متاثر ہونے کی صلاحیت اور ماحولیاتی ذمہ داریوں کو مدنظر رکھا جانا چاہیے۔

انہوں نے قابلِ پیش گوئی اور شفاف موسمیاتی مالی معاونت، موسمیاتی بجٹ کی ٹیگنگ اور پارلیمانی نگرانی کو مضبوط بنانے پر زور دیتے ہوئے کہا کہ مالیاتی پالیسی کو مساوات، ماحولیاتی ذمہ داری اور موسمیاتی لچک کے فروغ میں کردار ادا کرنا چاہئے۔