لاہور کالج فار ویمن یونیورسٹی میں "اندازِ خودی اور شہرِ لاہور” کے موضوع پر خصوصی نشست

لاہور کالج فار ویمن یونیورسٹی کے اقبال کارنر میں "اندازِ خودی اور شہرِ لاہور” کے موضوع پر خصوصی نشست کا انعقاد کیا گیا

لاہور۔29ستمبر (اے پی پی):لاہور کالج فار ویمن یونیورسٹی کے اقبال کارنر میں "اندازِ خودی اور شہرِ لاہور” کے موضوع پر خصوصی نشست کا انعقاد کیا گیا۔تقریب کی پیٹرن ان چیف پروفیسر ڈاکٹر عظمی قریشی تھیں، جبکہ مہمانِ خصوصی سینئر صحافی، کالم نگار واصف ناگی (ستارہ امتیاز، صدارتی تمغہ برائے حسن کارکردگی) تھے۔

نظامت ڈاکٹر حفصہ بتول نے کی۔ ڈاکٹر عظمی قریشی نے مہمان کا خیرمقدم کرتے ہوئے سینئر صحافیوں کو قوم کا گوہرِ نایاب قرار دیا۔ واصف ناگی نے کہا کہ علامہ اقبال کی زندگی لاہور سے گہری جڑی ہے، وہ انتہائی سادہ زندگی گزارتے تھے۔ انہوں نے اپنی ذاتی لائبریری سے576 کتب اسلامیہ کالج ریلوے روڈ کو عطیہ کیں۔ انہوں نے بتایا کہ 1941 میں گجرات میں اقبال کی تصویر کی نقاب کشائی پر سر چھوٹو رام نے انہیں بھگوان کرشن جیسی عزت دینے اور ان کی کتب کو گیتا جیسا احترام دینے کا خراجِ تحسین پیش کیا تھا۔ مولانا ظفر علی خان نے اقبال کے مشورے پر ہی لاہور سے روزنامہ "زمیندار” کا اجرا کیا۔

رنجیت سنگھ کی پوتی رانی بمبا اقبال کی بہت قدر کرتی تھیں اور انہوں نے اپنے ہاتھ سے اقبال کے لیے حقہ تیار کروایا۔ واصف ناگی نے بتایا کہ9 جنوری1933 کو علامہ اقبال کی زندگی میں ہی پورے ہندوستان میں یومِ اقبال منایا گیا۔ اس موقع پر اقبال نے تجویز دی تھی کہ اسلامیہ کالج لاہور میں اسلامیات کی ایک چیئر قائم کی جائے جس کیلئے انہوں نے100 روپے دینے کا اعلان بھی کیا۔ انہوں نے یکم جنوری1938 کو ریڈیو لاہور پر اپنے نئے سال کے پیغام "قومیت، اشتراکیت، فسطائیت کے بتوں کو توڑ دو، انسانیت کا احترام سیکھو” کا بھی ذکر کیا۔