اقوام متحدہ کے انسانی ہمدردی کے ادارے نے کہا ہے کہ جنگ اور تشدد کے باعث اپنے گھروں سے بے دخل ہو کر کیمپوں میں پناہ لینے والے شامی شہریوں کی وطن واپسی کا سلسلہ شروع ہو گیا ہے
شامیوں کی وطن واپسی، تباہ شدہ گھروں اور روزگار کی قلت بڑا چیلنج، اقوام متحدہ

مزید خبریں
اقوام متحدہ ۔30ستمبر (اے پی پی):اقوام متحدہ کے انسانی ہمدردی کے ادارے نے کہا ہے کہ جنگ اور تشدد کے باعث اپنے گھروں سے بے دخل ہو کر کیمپوں میں پناہ لینے والے شامی شہریوں کی وطن واپسی کا سلسلہ شروع ہو گیا ہے تاہم واپس آنے والے خاندانوں کو نئی مشکلات کا سامنا ہے۔شنہوا کے مطابق اقوام متحدہ کے دفتر برائے رابطہ انسانی امور (او سی ایچ اے) کے مطابق صرف جولائی اور اگست کے دوران تقریباً 39 ہزار افراد نے بے گھر افراد کے کیمپوں اور مراکز کو چھوڑا۔او سی ایچ اے نے کہا کہ ان افراد کی واپسی ایک مثبت پیش رفت ہے تاہم انسانی ضروریات اب کیمپوں سے منتقل ہو کر ان علاقوں میں بڑھ رہی ہیں جہاں لوگ واپس آ رہے ہیں۔ ان علاقوں میں تباہ شدہ مکانات، بنیادی سہولیات کی محدود دستیابی اور روزگار کے مواقع کی کمی خاندانوں کے لیے معمول کی زندگی بحال کرنے میں رکاوٹ بن رہی ہے۔ادارے کے مطابق اقوام متحدہ اپنے شراکت داروں کے ساتھ مل کر واپس آنے والی آبادیوں میں پانی اور بجلی کے نظام، ہسپتالوں، سکولوں، بیکریوں، سڑکوں اور گھروں سمیت بنیادی سہولیات کی بحالی میں معاونت کر رہا ہے۔او سی ایچ اے نے حلب اور ادلب کی مثال دیتے ہوئے بتایا کہ وہاں ایک لاکھ 20 ہزار سے زائد افراد کو روٹی تک بہتر رسائی حاصل ہوئی ہے جبکہ مزید سہولیات سے تقریباً 3 لاکھ 20 ہزار افراد کے مستفید ہونے کی توقع ہے۔اقوام متحدہ کے مطابق ملک بھر میں انسانی امداد کا سلسلہ بھی جاری ہے۔ جنوری سے جولائی کے دوران ہر ماہ اوسطاً 25 لاکھ افراد کو خوراک، صحت، رہائش، صاف پانی اور تعلیم سمیت مختلف شعبوں میں امداد فراہم کی گئی جبکہ خاندانوں کو تقریباً 12 کروڑ ڈالر نقد امداد اور واؤچرز کی صورت میں دیے گئے۔تاہم او سی ایچ اے نے خبردار کیا کہ شام میں اب بھی ڈیڑھ کروڑ سے زائد افراد کو انسانی امداد کی ضرورت ہے جبکہ 2.9 ارب ڈالر کے انسانی امدادی منصوبے کے لیے ایک تہائی سے بھی کم فنڈز فراہم کیے جا سکے ہیں۔او سی ایچ اے نے کہا کہ زندگی بچانے والی امداد جاری رکھنے اور وطن واپس آنے والے افراد کو اپنی زندگی دوبارہ تعمیر کرنے میں مدد دینے کے لیے مسلسل اور لچکدار مالی معاونت ضروری ہے۔








