غیر قانونی سروس رولز کے تحت ملازمین ترقی کے معاملے پر آئینی درخواست دائر نہیں کر سکتے، وفاقی آئینی عدالت

غیر قانونی سروس رولز کے تحت ملازمین ترقی کے معاملے پر آئینی درخواست دائر نہیں کر سکتے، وفاقی آئینی عدالت

اسلام آباد۔30ستمبر (اے پی پی):وفاقی آئینی عدالت نے قرار دیا ہے کہ ایسے سرکاری شعبے کے ادارے کے ملازمین جن کی ملازمت کی شرائط قانونی حیثیت رکھنے والے قانونی سروس رولز کے تحت منظم نہ ہوں، ترقی یا معمولی تادیبی سزا کے اثرات سے متعلق تنازع پر ہائیکورٹ کے آئینی دائرہ اختیار سے رجوع نہیں کر سکتے۔

وفاقی آئینی عدالت نے تفصیلی تحریری فیصلہ میں قرار دیا کہ جب ہائیکورٹ یہ فیصلہ کر دے کہ آئینی درخواست قابل سماعت نہیں تو وہ اسی مقدمے میں فریقین کے بنیادی حقوق یا تنازع کے میرٹ پر فیصلہ نہیں دے سکتی جبکہ سابقہ عدالتی فیصلوں کی پابندی ہائیکورٹ کے دائرہ اختیار میں اضافہ نہیں کرتی۔

جسٹس عامر فاروق اور جسٹس علی باقر نجفی پر مشتمل دو رکنی بینچ نے چیف ایگزیکٹو آفیسر سکھر الیکٹرک پاور کمپنی (سیپکو) اور دیگر کی درخواست پر فیصلہ سنایا۔وفاقی آئینی عدالت نے قرار دیا کہ سیپکو کمپنی قوانین اور متعلقہ قانونی فریم ورک کے تحت قائم بجلی کی تقسیم کار کمپنی ہے اور جواب دہندگان یہ ثابت نہیں کر سکے کہ ان کی ملازمت کی شرائط ایسے قانونی سروس رولز کے تحت ہیں جنہیں قانون کی حیثیت حاصل ہو۔

عدالت نے قرار دیا کہ ملازمین کی تقرری، ترقی، تادیبی کارروائی اور ملازمت کی دیگر شرائط اگر معاہدے یا غیر قانونی حیثیت رکھنے والی سروس پالیسی کے تحت ہوں تو ایسے معاملات عموماً معاہدے اور متعلقہ سروس پالیسی کے دائرے میں آتے ہیں۔ محض اس بنیاد پر کہ آجر ایک سرکاری شعبے کی کمپنی ہے یا عوامی اہمیت کے فرائض انجام دیتی ہے، ایسے تنازعات کو ہائیکورٹ کے آئینی دائرہ اختیار میں نہیں لایا جا سکتا۔عدالت نے سندھ ہائیکورٹ کے اس نتیجے کو برقرار رکھا کہ سیپکو ملازمین کی آئینی درخواست قابل سماعت نہیں تھی تاہم قرار دیا کہ ہائیکورٹ نے درخواست ناقابل سماعت قرار دینے کے بعد مقدمے کے میرٹ پر کارروائی کرکے قانونی غلطی کی۔

وفاقی آئینی عدالت نے قرار دیا کہ ہائیکورٹ کی جانب سے یہ آبزرویشن دینا کہ سرزنش کی سزا ملازمین کی ترقی میں رکاوٹ نہیں بن سکتی، دائرہ اختیار سے تجاوز تھا، اس لیے اس حوالے سے ہائیکورٹ کی آبزرویشنز اور نتائج قانونی اثر نہیں رکھتے۔عدالت نے قرار دیا کہ کسی عدالتی نظیر کی پابندی ہائیکورٹ کو ایسے معاملے کا فیصلہ کرنے کا اختیار نہیں دیتی جس کے بارے میں وہ خود قرار دے چکی ہو کہ درخواست اس کے آئینی دائرہ اختیار میں قابل سماعت نہیں۔

فیصلے میں مزید کہا گیا کہ سیپکو کی متعلقہ سروس پالیسی کے مطابق سرزنش معمولی سزا ہے اور ترقی کے لیے تقابلی میرٹ طے کرتے وقت اس کے نتیجے میں تین نمبروں کی کٹوتی ہوتی ہے تاہم یہ سوال کہ پالیسی کسی مخصوص معاملے میں درست طور پر لاگو ہوئی یا نہیں، ایسی آئینی درخواست میں زیر غور نہیں لایا جا سکتا جو پہلے ہی ناقابل سماعت قرار دی جا چکی ہو۔

وفاقی آئینی عدالت نے چیف ایگزیکٹو آفیسر سیپکو اور دیگر کی درخواست منظور کرتے ہوئے اسے اپیل میں تبدیل کر دیا اور سندھ ہائیکورٹ کا 17 ستمبر 2025ء کا فیصلہ اس حد تک ترمیم کر دیا کہ ملازمین کی ترقی پر سرزنش کی سزا کے اثرات سے متعلق ہائیکورٹ کی جانب سے دی گئی آبزرویشنز ختم کردی گئیں اور انہیں کوئی قانونی اثر حاصل نہیں ہوگا جبکہ آئینی درخواست کے ناقابل سماعت ہونے سے متعلق ہائیکورٹ کا فیصلہ برقرار رکھا۔

مزید خبریں
جمہوریہ ترکیہ کے سفارتخانے کی جانب سے ترکیہ وظائف 2026 کیلئے منتخب پاکستانی طلبہ کے اعزاز میں تعارفی و رہنمائی پروگرام کا انعقاد
جمہوریہ ترکیہ کے سفارتخانے کی جانب سے ترکیہ وظائف 2026 کیلئے منتخب پاکستانی طلبہ کے اعزاز میں تعارفی و رہنمائی پروگرام کا انعقاد اسلام آباد۔30ستمبر (اے پی پی):پاکستان میں جمہوریہ ترکیہ کے سفارتخانے نے ترکیہ وظائف 2026 کے لیے منتخب پاکستانی طلبہ کے اعزاز میں تعارفی و رہنمائی پروگرام کا انعقاد کیا جس میں نئے منتخب طلبہ، ترکیہ میں زیر تعلیم رہنے والے سابق پاکستانی طلبہ اور سفارتخانے کے نمائندگان نے شرکت کی۔ ترکیہ وظائف حکومت جمہوریہ ترکیہ کی جانب سے بیرون ملک ترک باشندوں اور متعلقہ برادریوں کے امور کے ادارے کے ذریعے فراہم کیے جاتے ہیں جن کے تحت بین الاقوامی طلبہ کو ترکیہ کی ممتاز جامعات میں انڈر گریجویٹ، ماسٹرز اور ڈاکٹریٹ کی سطح پر تعلیم حاصل کرنے کے مواقع فراہم کیے جاتے ہیں۔ سال 2026ء میں پاکستان بھر سے 112 طلبہ کو ترکیہ وظائف کے لیے منتخب کیا گیا۔ اسلام آباد میں منعقدہ تعارفی پروگرام کا مقصد اسلام آباد اور گردونواح سے تعلق رکھنے والے منتخب طلبہ کو ترکیہ میں اعلیٰ تعلیم کے آغاز سے قبل ضروری معلومات اور رہنمائی فراہم کرنا تھا۔ پروگرام کا آغاز جمہوریہ ترکیہ کے سفیر کے خطاب سے ہوا۔ انہوں نے کامیاب امیدواروں کو مبارکباد پیش کرتے ہوئے انہیں ترکیہ وظائف کے تعلیمی حلقے میں خوش آمدید کہا۔ سفیر نے ترکیہ اور پاکستان کے درمیان تعلیمی اور عوامی روابط کی اہمیت پر زور دیا اور طلبہ کو ترکیہ میں اپنے تعلیمی تجربے سے بھرپور استفادہ کرنے کی ترغیب دی۔ اس موقع پر ترک سابق طلبہ انجمن کے صدر نے بھی طلبہ سے خطاب کیا اور اپنے تجربات کی روشنی میں انہیں ترکیہ میں تعلیمی زندگی اور دستیاب مواقع سے آگاہ کیا۔ انہوں نے ترکیہ اور پاکستان کے درمیان دیرینہ دوستی اور تعلیمی روابط کے فروغ میں سابق طلبہ کے کردار کو اجاگر کیا۔ بعد ازاں سفارتخانے کے دفتر برائے تعلیمی مشاورت کی جانب سے طلبہ کے لیے خصوصی تعارفی نشست منعقد کی گئی جس میں پاکستان سے ترکیہ روانگی کی تیاری، ترکیہ پہنچنے کے بعد ابتدائی مراحل، جامعات میں تعلیمی و سماجی زندگی سے ہم آہنگی اور کامیاب تعلیمی سفر کے حوالے سے اہم رہنمائی فراہم کی گئی۔ پروگرام کے دوران منتخب طلبہ نے اپنا تعارف بھی کرایا اور اپنے تعلیمی پس منظر کے ساتھ ان ترک جامعات اور تعلیمی پروگراموں کے بارے میں بتایا جن میں وہ اپنی تعلیم جاری رکھیں گے۔ نشست نے طلبہ کو ایک دوسرے سے متعارف ہونے اور روانگی سے قبل ترکیہ وظائف کے سابق طلبہ اور دیگر اراکین سے رابطہ قائم کرنے کا موقع بھی فراہم کیا۔ سفارتخانہ ترکیہ نے تمام کامیاب امیدواروں کو مبارکباد پیش کرتے ہوئے ان کے تعلیمی سفر کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کیا۔ طلبہ پر زور دیا گیا کہ وہ ترکیہ اور پاکستان کے درمیان دیرینہ دوستی کی نمائندگی کرتے ہوئے دونوں ممالک کے درمیان تعلیمی اور عوامی روابط کو مزید مضبوط بنانے میں اپنا کردار ادا کریں۔ سفارتخانہ جمہوریہ ترکیہ نے ترکیہ وظائف 2026 کے تمام منتخب طلبہ کے لیے ان کی تعلیم اور مستقبل میں کامیابی کے لیے نیک تمنائوں کا اظہار کیا۔