خصوصی رپورٹ ’’پانی کو ہتھیار بنانا: سندھ طاس معاہدے کی معطلی کے تاریخی، قانونی اور تزویراتی پہلو‘‘ کی رونمائی سے سابق وفاقی وزیر انجینئر خرم دستگیر خان کا خطاب
خصوصی رپورٹ ’’پانی کو ہتھیار بنانا: سندھ طاس معاہدے کی معطلی کے تاریخی، قانونی اور تزویراتی پہلو‘‘ کی رونمائی سے سابق وفاقی وزیر انجینئر خرم دستگیر خان کا خطاب

مزید خبریں
اسلام آباد۔30ستمبر (اے پی پی):سابق وفاقی وزیر انجینئر خرم دستگیر خان نے کہا ہے کہ بھارت کی بدلتی ہوئی آبی حکمت عملی ایک حقیقی اور منظم خطرے کی شکل اختیار کر رہی ہے، بھارت کا اقدام صرف انفرادی یا بڑے پن بجلی منصوبوں تک محدود نہیں بلکہ پاکستان کی آبی سلامتی کو منظم انداز میں متاثر کرنے کی کوششوں کی جانب اشارہ کرتا ہے۔ انسٹی ٹیوٹ آف سٹریٹجک اسٹڈیز اسلام آباد (آئی ایس ایس آئی) میں خصوصی رپورٹ ’’پانی کو ہتھیار بنانا: سندھ طاس معاہدے کی معطلی کے تاریخی، قانونی اور تزویراتی پہلو‘‘ کی رونمائی کے حوالے سے ایک سیمینار کا انعقاد کیا گیا۔
سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے سابق وفاقی وزیر خارجہ و دفاع انجینئر خرم دستگیر خان نے کہا کہ بھارت کی بدلتی ہوئی آبی حکمت عملی ایک حقیقی اور منظم خطرے کی شکل اختیار کر رہی ہے۔انہوں نے خبردار کیا کہ معاملہ صرف انفرادی یا بڑے پن بجلی منصوبوں تک محدود نہیں بلکہ پاکستان کی آبی سلامتی کو منظم انداز میں متاثر کرنے کی کوششوں کی جانب اشارہ کرتا ہے۔خرم دستگیر خان نے کہا کہ مغربی دریاؤں پر بڑھتے ہوئے خطرات اور ان پر انحصار کرنے والے تقریباً 20 کروڑ افراد کے مفادات کو محض سفارتی معاملہ نہیں سمجھنا چاہئے بلکہ یہ پاکستان کے تزویراتی استحکام کے لئے ایک سنجیدہ چیلنج ہے۔نیشنل ڈیفنس یونیورسٹی اسلام آباد کے فیکلٹی آف کنٹیمپریری سٹڈیز کی ڈین پروفیسر ڈاکٹر عرشی سلیم ہاشمی نے کہا کہ سندھ طاس معاہدہ ایک وقت میں کامیاب آبی سفارتکاری کی ’’مثالی مثال‘‘ سمجھا جاتا تھا۔
انہوں نے کہا کہ یہ معاہدہ پاکستان اور بھارت کے درمیان جنگوں اور شدید سیاسی کشیدگی کے باوجود برقرار رہا، تاریخی طور پر دونوں ممالک کے درمیان پانی کے انتظام کو سیاسی اور علاقائی تنازعات سے الگ رکھا گیا۔انہوں نے کہا کہ تاہم بھارت کی جانب سے سندھ طاس معاہدے کو معطل رکھنے کے فیصلے کے بعد ایسے اقدامات جن سے انسانی کمزوری اور عدم تحفظ میں اضافہ ہو، پاکستان کی زراعت اور غذائی سلامتی کے لئے سنگین اثرات پیدا کر سکتے ہیں۔ڈاکٹر عرشی سلیم ہاشمی کے مطابق اس صورتحال کے پاکستان اور خطے کے امن و استحکام پر بھی دور رس اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔سیمینار کے مقررین نے آئی ایس ایس آئی کے انڈیا سٹڈی سینٹر کی جانب سے اس اہم اور بروقت موضوع پر جامع رپورٹ تیار کرنے کو سراہا۔رپورٹ میں سندھ طاس معاہدے کا تاریخی، قانونی، تکنیکی اور تزویراتی پہلوؤں سے جائزہ لیا گیا ہے جبکہ معاہدے کی موجودہ صورتحال اور اس کے پاکستان کی آبی سلامتی پر ممکنہ اثرات کو بھی مختلف زاویوں سے زیرِ بحث لایا گیا ہے۔








