ذہنی صحت کے مسائل میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے،ڈاکٹر عذرا فضل پیچوہو

صوبائی وزیر صحت سندھ ڈاکٹر عذرا فضل پیچوہو نے کہا ہے کہ ذہنی صحت کے مسائل میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے جس کی بڑی وجوہات میں معاشی دباؤ، نوجوانوں میں بے روزگاری

اسلام آباد۔1اکتوبر (اے پی پی):صوبائی وزیر صحت سندھ ڈاکٹر عذرا فضل پیچوہو نے کہا ہے کہ ذہنی صحت کے مسائل میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے جس کی بڑی وجوہات میں معاشی دباؤ، نوجوانوں میں بے روزگاری، سماجی دباؤ، دائمی بیماریاں اور موسمیاتی تبدیلی سے پیدا ہونے والی صورتحال شامل ہیں، اس لیے اس مسئلے سے نمٹنے کے لیے فوری اقدامات کے ساتھ قومی اور صوبائی سطح پر مؤثر پالیسی کی ضرورت ہے۔یہ بات انہوں نے پاکستان گلوبل مینٹل ہیلتھ سمٹ 2026 کے موقع پر اپنے ویڈیو پیغام میں کہی۔ اس موقع پر قومی ذہنی صحت پالیسی کا اجرا کیا گیا۔ پالیسی کا مقصد ملک بھر میں ذہنی صحت کی خدمات کو مضبوط بنانا اور ہر خاندان تک ذہنی صحت کی سہولیات کی رسائی یقینی بنانا ہے۔ ڈاکٹر عذرا فضل پیچوہو نے کہا کہ ذہنی صحت کے مسائل کی بروقت شناخت اور علاج ایک اہم چیلنج ہے جبکہ معاشی مسائل، بے روزگاری، سماجی و صنفی مسائل اور صنفی شناخت سے متعلق مسائل بھی ذہنی صحت کو متاثر کر رہے ہیں۔ڈاکٹر عذرا فضل پیچوہو نے کہا کہ ذیابیطس، ہائی بلڈ پریشر، امراض قلب اور کینسر سمیت دائمی بیماریوں میں اضافہ بھی ذہنی صحت کے مسائل کا سبب بنتا ہے جبکہ سیلاب، زلزلے اور بڑھتا ہوا درجہ حرارت سمیت موسمیاتی تبدیلی کے اثرات بھی ذہنی دباؤ میں اضافے کا باعث بن رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ صرف قومی پالیسی کافی نہیں بلکہ صوبائی سطح پر بھی ذہنی صحت کے مسائل پر بھرپور کام کرنے کی ضرورت ہے۔ ذہنی بیماریوں کی شناخت بھی ایک بڑا مسئلہ ہے کیونکہ بعض افراد علاج کے بجائے ایسے لوگوں سے رجوع کرتے ہیں جو متاثرہ شخص کو کسی سایے یا قبضے کا شکار قرار دیتے ہیں جس سے علاج میں مشکلات پیدا ہونے کے ساتھ ذہنی بیماریوں سے متعلق بدنامی کا عنصر بھی برقرار رہتا ہے۔صوبائی وزیر نے کہا کہ بعض خاندان ذہنی صحت کے مسائل کو تسلیم نہیں کرتے اور متاثرہ افراد کو گھر میں الگ تھلگ رکھنے کی کوشش کرتے ہیں۔ ذہنی صحت کو ایک باقاعدہ طبی مسئلے کے طور پر تسلیم کرتے ہوئے اس کے علاج اور متاثرہ افراد کے بہتر نتائج کے لیے مرکوز کوششیں کرنا ہوں گی۔انہوں نے کہا کہ منشیات اور نشہ آور اشیا کا استعمال بھی ذہنی صحت کے مسائل کی ایک وجہ ہے، اس لیے منشیات کے استعمال کی روک تھام اور علاج کے ساتھ قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ذریعے معاشرے میں منشیات کے پھیلاؤ سے نمٹنا بھی ضروری ہے۔ اسکولوں، ہائی اسکولوں، کالجوں اور یونیورسٹیوں میں منشیات کا استعمال ایک بڑا مسئلہ بنتا جا رہا ہے اور اسی سطح پر اس سے نمٹنے کے لیے اقدامات کیے جانے چاہئیں۔ڈاکٹر عذرا فضل پیچوہو نے پاکستان گلوبل مینٹل ہیلتھ سمٹ کے انعقاد پر خوشی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وہ کانفرنس کے نتائج اور اس کے نتیجے میں سامنے آنے والے مثبت اقدامات کی منتظر رہیں گی۔

 

مزید خبریں