پاکستان کی ترقی کا دارومدار نظامِ تعلیم کے معیار اور بالخصوص قابل اساتذہ کی عزم و محنت پر ہے ، وزیراعظم شہباز شریف کا اساتذہ کے عالمی دن پر پیغام

وزیر اعظم محمد شہباز شریف نے کہا ہے کہ پاکستان کی ترقی کا دارومدار ہمارے نظامِ تعلیم کے معیار اور بالخصوص قابل اساتذہ کی عزم و محنت پر ہے۔جامع، مستقبل کے تقاضوں سے ہم آہنگ اور مصنوعی ذہانت، موسمیاتی تبدیلی، تکنیکی ترقی اور روزگار کے علم پر مبنی نظامِ تعلیم ہی روشن مستقبل کی ضمانت ہے۔ نظام تعلیم کو قابلیت شناس، معیاری اور عالمی تقاضوں کے مطابق بنانا حکومت کی …

اسلام آباد۔5اکتوبر (اے پی پی):وزیر اعظم محمد شہباز شریف نے کہا ہے کہ پاکستان کی ترقی کا دارومدار ہمارے نظامِ تعلیم کے معیار اور بالخصوص قابل اساتذہ کی عزم و محنت پر ہے۔جامع، مستقبل کے تقاضوں سے ہم آہنگ اور مصنوعی ذہانت، موسمیاتی تبدیلی، تکنیکی ترقی اور روزگار کے علم پر مبنی نظامِ تعلیم ہی روشن مستقبل کی ضمانت ہے۔ نظام تعلیم کو قابلیت شناس، معیاری اور عالمی تقاضوں کے مطابق بنانا حکومت کی اولین ترحیح ہے۔ وزیراعظم آفس کے میڈیا ونگ سے جاری بیان کے مطابق ان خیالات کا اظہار وزیراعظم محمد شہباز شریف نے اساتذہ کے عالمی دن پر اپنے پیغام میں کیا جو 5 اکتوبر 2026 کو منایا جارہا ہے۔

وزیراعظم نے کہا کہ عالمی یومِ اساتذہ کے موقع پر میں پاکستان اور دنیا بھر میں مستقبل کے معمار نوجوانوں کی تعلیم و تربیت جیسے مقدس فرض پر معمور اساتذہ کو دلی خراجِ تحسین پیش کرتا ہوں۔ وزیر اعظم نے کہا کہ اساتذہ نوجوانوں کی انفرادی تربیت، شخصی صلاحیتوں کو نکھارنے اور علم و معلومات کے اضافہ میں نا قابل فراموش کردار کی حیثیت رکھتے ہیں۔ نوجوانوں کی ذہنی نشوونما، فکری ارتقاء اور نسلوں کی رہنمائی کے باعث اساتذہ مشترکہ سماجی اساس اور معاشرتی اقدار کو بھی متعین کرتے ہیں۔

وزیر اعظم نے کہا کہ اساتذہ کی لگن، علم اور عزم بلاشبہ قوموں کے مستقبل کی تشکیل کرتی ہے۔ اساتذہ کامیاب نظامِ تعلیم کا بنیادی ستون ہیں جو طلبہ میں جستجو علم اور بدلتی دنیا میں آگے بڑھنے کے لیے اعتماد اور درکار مہارتوں سے آراستہ کرتے ہیں۔ وزیراعظم نے کہا کہ نوجوانوں کی کردار سازی میں درسگاہیں اور اساتذہ درحقیقت ملکی ترقی و خوشحالی کی بنیاد مضبوط کرتے ہیں۔ پاکستان کی ترقی کا دارومدار ہمارے نظامِ تعلیم کے معیار اور بالخصوص قابل اساتذہ کی عزم و محنت پر ہے۔

انہوں نے کہا کہ جامع، مستقبل کے تقاضوں سے ہم آہنگ اور مصنوعی ذہانت، موسمیاتی تبدیلی، تکنیکی ترقی اور روزگار کے علم پر مبنی نظامِ تعلیم ہی روشن مستقبل کی ضمانت ہے۔ وزیر اعظم نے کہا کہ عصر حاضر کے نئے چیلنجز اس امر کے متقاضی ہیں کہ ہم اپنے طلبا کی علم کے علاوہ تنقیدی سوچ، تخلیقی صلاحیت، اخلاقی اقدار، حالات کے مطابق ڈھلنے کی استعداد اور زندگی بھر سیکھنے کی تربیت بھی کریں۔ وزیر اعظم نے کہا کہ نظام تعلیم کو قابلیت شناس، معیاری اور عالمی تقاضوں کے مطابق بنانا حکومت کی اولین ترحیح ہے۔ ملک کے طول و عرض میں دانش سکول دراصل معیاری تعلیم کو قابل اور باصلاحیت طلبا کی دسترس میں رکھنے کی کاوش ہے۔

وزیراعظم نے کہا کہ تعلیمی مواقع کی یکساں فراہمی کے لیے حکومتی عزم دانش اسکولز کے دائرۂ کار میں توسیع سے بھی عیاں ہے۔ باصلاحیت اور مستحق بچوں، بالخصوص معاشی طور پر پسماندہ اور تعلیمی سہولیات سے محروم علاقوں سے تعلق رکھنے والے بچوں کو معیاری تعلیم کے مواقع فراہم کرنا ترجیح ہے۔ وزیراعظم نے کہا کہ نظام تعلیم کی بہتری میں اساتذہ کا کلیدی کرادر ہے۔ حکومت اساتذہ کی معیاری پیشہ ورانہ تربیت، جدید تعلیمی وسائل اور سازگار ماحول کی فراہمی کے لیۓ پُرعزم ہے۔ اسلام آباد میں نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف ایکسیلنس اِن ٹیچر ایجوکیشن (این آئی ای ٹی ای) کا قیام اسی سمت میں ایک اہم قدم ہے۔یہ ادارہ اساتذہ کی جدید تعلیم و تربیت، پیشہ ورانہ استعداد میں اضافے، تحقیق اور جدت کے مرکز کے طور پر قائم کیا گیا ہے۔ جو اساتذہ کو عصرِ حاضر کے تعلیمی تقاضوں کے مطابق علم، مہارتوں اور تدریسی طریقہ ہائے کار سے آراستہ کرنے میں یقینا معاون ثابت ہوگا۔

وزیر اعظم نے کہا کہ حکومت قومی نصابِ پاکستان کے ذریعے نصاب میں اصلاحات پر بھی بھرپور کام کر رہی ہے۔اس تناظر میں حکومت, صوبوں اور دیگر متعلقہ شراکت داروں کے تعاون سے قومی سطح پر ہم آہنگ تعلیمی معیار ، قابلیت ، تنقیدی سوچ، تخلیقی صلاحیت، اور مستقبل کی ضروریات پر مرکوز معقول نصاب کے لیے کوشاں ہے۔ وزیر اعظم نے کہا کہ تعلیمی قابلیت کے ساتھ فنی تربیت اور ہنرمند استعداد کار کو بڑھانے پر بھی حکومت خصوصی توجہ دے رہی ہے۔ نیشنل ووکیشنل اینڈ ٹیکنیکل ٹریننگ کمیشن (نیوٹیک) اور ، وزیراعظم یوتھ اسکلز ڈویلپمنٹ پروگرام جیسے پیشہ ورانہ تربیت کے مواقع نوجوانوں کے لیے نمایاں اقدامات ہیں۔ یہ تربیت صنعتی طلب اور عملی ضروریات کے مطابق نوجوانوں کی فنی استعداد کو بڑھانے پر مرکوز ہے۔

وزیر اعظم نے کہا کہ آج اساتذہ کے دن پر میں قابل قدر اساتذہ سے اپیل کرتا ہوں کہ وہ خلوصِ نیت سے قابلِ تقلید اور معمارانِ قوم کی حیثیت سے اپنی خدمات جاری رکھیں۔بالخصوص ملک کے دور دراز، پسماندہ اور دشوار گزار علاقوں میں خدمات سر انجام دینے والے اساتذہ کی لگن اور جذبۂ خدمت کو خراجِ تحسین پیش کرتا ہوں۔ ان کی خدمات ایک عظیم قومی کاوش کی حیثیت رکھتی ہیں اور ہماری اجتماعی قدر دانی اور بھرپور تعاون کی مستحق ہیں۔وزیر اعظم نے کہا کہ دیانت داری، ہمدردی، رواداری، نظم و ضبط، تخلیقی صلاحیت، باہمی احترام اور جذبہ حب الوطنی جیسی اقدار سے مزین نئی نسل ہی انشاءاللہ مستقبل سنبھالے گے۔