برطانوی وزیر اعظم نے بریگزٹ پر دوبارہ بحث چھیڑ دی، یورپی یونین میں واپسی غیر یقینی

برطانوی وزیر اعظم اینڈی برنہم نے یورپی یونین کے ساتھ برطانیہ کے مستقبل کے تعلقات پر دوبارہ بحث چھیڑتے ہوئے یورپی یونین میں دوبارہ شمولیت کو بھی ممکنہ آپشن قرار دیا ہے

لندن ۔5اکتوبر (اے پی پی):برطانوی وزیر اعظم اینڈی برنہم نے یورپی یونین کے ساتھ برطانیہ کے مستقبل کے تعلقات پر دوبارہ بحث چھیڑتے ہوئے یورپی یونین میں دوبارہ شمولیت کو بھی ممکنہ آپشن قرار دیا ہے۔بی بی سی کے مطابق اینڈی برنہم نے لیبر پارٹی کی کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ بریگزٹ نے برطانیہ کو فائدے کے بجائے زیادہ نقصان پہنچایا ہے۔ انہوں نے یورپی شراکت داروں کے ساتھ برطانیہ کے طویل المدتی تعلقات کے حوالے سے مختلف آپشنز پر غور کرنے کی بات کی۔بی بی سی کو دیئے گئے ایک انٹرویو میں برطانوی وزیر اعظم نے کہا کہ یورپی یونین میں دوبارہ شمولیت بھی ان آپشنز میں شامل ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ اپنی زندگی میں برطانیہ کو دوبارہ یورپی یونین کا حصہ بنتا دیکھنا چاہتے ہیں تاہم مختلف امکانات کا جائزہ لیا جائے گا۔برطانیہ کے لیے زیرِ غور ممکنہ راستوں میں موجودہ تعلقات برقرار رکھنا، کسٹمز یونین میں شمولیت، یورپی سنگل مارکیٹ میں شرکت یا مکمل طور پر یورپی یونین میں دوبارہ شمولیت شامل ہیں۔ ان تمام آپشنز میں یورپی یونین کے ساتھ اقتصادی انضمام اور سیاسی وابستگی کی مختلف سطحیں شامل ہیں۔برنہم کا یہ مؤقف لیبر پارٹی کے 2024 کے انتخابی منشور سے مختلف ہے، جس میں سنگل مارکیٹ یا کسٹمز یونین میں دوبارہ شمولیت اور آزادانہ نقل و حرکت کی بحالی کو خارج کیا گیا تھا۔ برنہم اس سے قبل بھی یورپی یونین میں دوبارہ شمولیت کے حوالے سے اختلافی بحث دوبارہ شروع نہ کرنے کا عہد کر چکے تھے۔یہ بحث جون 2016 کے ریفرنڈم کے تقریباً ایک دہائی بعد دوبارہ سامنے آئی ہے، جس میں 52 فیصد برطانوی ووٹروں نے یورپی یونین سے علیحدگی کے حق میں ووٹ دیا تھا۔ برطانیہ نے 2020 میں باضابطہ طور پر یورپی یونین سے علیحدگی اختیار کی تھی۔فرانس کے صدر ایمانوئل میکرون اور اسپین کے وزیر اعظم پیڈرو سانچیز نے برطانیہ کی ممکنہ واپسی کے امکانات کا خیرمقدم کیا ہے، تاہم یورپی یونین میں برطانیہ کی دوبارہ شمولیت کی شرائط پر تمام رکن ممالک کے درمیان اتفاقِ رائے تاحال واضح نہیں ہے۔