امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ایلچی اور عرب و افریقی امور کے سینئر مشیر مسعد بولوس نے مصر میں سوڈانی فوج کے سربراہ جنرل عبدالفتاح البرہان سے ملاقات کی ہے
امریکی مندوب کی مصر میں سوڈانی فوج کے سربراہ سے ملاقات، سیاسی حل پر زور

مزید خبریں
قاہرہ ۔6اکتوبر (اے پی پی):امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ایلچی اور عرب و افریقی امور کے سینئر مشیر مسعد بولوس نے مصر میں سوڈانی فوج کے سربراہ جنرل عبدالفتاح البرہان سے ملاقات کی ہے، جس میں سوڈان کے بحران کے سیاسی حل کی کوششوں پر تبادلہ خیال کیا گیا۔رائٹرز کے مطابق مسعد بولوس نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اپنے بیان میں کہا کہ امریکا اپنے مصری شراکت داروں اور دیگر علاقائی و عالمی شراکت داروں اور اتحادیوں کے ساتھ مل کر سوڈان کے بحران کے سیاسی حل کے لیے کوششیں جاری رکھے گا۔یہ ملاقات ایسے وقت میں ہوئی ہے جب امریکا اور دیگر ثالث سوڈان میں جاری تباہ کن جنگ کے خاتمے کی کوشش کر رہے ہیں۔ سوڈانی فوج اور نیم فوجی دستے ریپڈ سپورٹ فورسز (آر ایس ایف) کے درمیان اپریل 2023 سے لڑائی جاری ہے۔مسعد بولوس نے کہا کہ امریکا سوڈان کی سیاسی قوتوں کے درمیان جامع مذاکرات کی کوششوں کی حمایت کے لیے تیار ہے تاکہ ملک کے مستقبل کے لیے ابتدائی روڈ میپ تشکیل دیا جا سکے۔یہ ملاقات واشنگٹن کی جانب سے سوڈانی فوج کے سربراہ کو اقوام متحدہ میں طے شدہ خطاب سے قبل ویزا جاری نہ کیے جانے کے تقریباً دو ہفتے بعد ہوئی ہے۔ سوڈانی اور دیگر ذرائع کے مطابق یہ اقدام امریکا کی حمایت یافتہ جنگ بندی کی تجویز سے متعلق تھا جس کی خرطوم نے مخالفت کی تھی۔امریکی محکمہ خارجہ نے گزشتہ ماہ کہا تھا کہ نہ سوڈانی مسلح افواج اور نہ ہی ریپڈ سپورٹ فورسز یا ان کے سربراہان سوڈان میں جائز آئینی حکومت کی نمائندگی کرتے ہیں۔رپورٹ کے مطابق سوڈان میں جاری جنگ کے نتیجے میں 14 ملین سے زائد افراد بے گھر ہو چکے ہیں اور بڑے پیمانے پر نسلی بنیادوں پر قتل و غارت کا سلسلہ بھی جاری ہے۔ امریکا نے آر ایس ایف پر نسل کشی اور سوڈانی فوج پر جنگی جرائم کے ارتکاب کے الزامات عائد کیے ہیں، تاہم دونوں فریق ماضی میں ان الزامات کی تردید کر چکے ہیں۔







