اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل کے 63ویں اجلاس نے چین کی 47 ممالک کی طرف سے پیش کردہ ’’تمام افراد کے مکمل انسانی حقوق سے استفادے کے لیے رسائی کے فروغ‘‘ کے عنوان سے قرارداد کا مسودہ اتفاق رائے سے منظور کرلیا
انسانی حقوق کونسل نے چین کی پیش کردہ سب کے لیے رسائی کی قرارداد متفقہ طور پر منظور کرلی

مزید خبریں
اقوام متحدہ ۔6اکتوبر (اے پی پی):اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل کے 63ویں اجلاس نے چین کی 47 ممالک کی طرف سے پیش کردہ ’’تمام افراد کے مکمل انسانی حقوق سے استفادے کے لیے رسائی کے فروغ‘‘ کے عنوان سے قرارداد کا مسودہ اتفاق رائے سے منظور کرلیا۔شنہوا کے مطابق جنیوا میں اقوام متحدہ کے دفتر اور سوئٹزرلینڈ میں دیگر بین الاقوامی تنظیموں کے لیے چین کے مستقل نمائندے جیا گائیڈ نے قرارداد پیش کرتے ہوئے کہا کہ قابل رسائی ماحول کی تشکیل معاشرے کے تمام طبقات کو مساوی اور سہل انداز میں سماجی زندگی میں شرکت اور اپنے انسانی حقوق سے مکمل استفادے کے لیے اہم تحفظ فراہم کرتی ہے۔انہوں نے کہا کہ قرارداد آبادی کی بڑھتی عمر کے تناظر میں رسائی کے فروغ اور عمر دوست ماحول کی تشکیل پر زور دیتی ہے۔ اس کے علاوہ مصنوعی ذہانت سمیت ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیز سے پیدا ہونے والے مواقع اور چیلنجز کو بھی مدنظر رکھا گیا ۔انہوں نے کہا کہ قرارداد تمام ممالک پر زور دیتی ہے کہ وہ ابھرتی ہوئی ڈیجیٹل ٹیکنالوجیز کی تیاری اور استعمال میں جدت، شمولیت، کشادگی، انصاف، تحفظ اور سلامتی کو ترجیح دیں تاکہ معلومات اور مواصلات تک رسائی بہتر بنائی جا سکے۔کیوبا اور مصر سمیت متعدد ممالک کے نمائندوں نے قرارداد کی حمایت کرتے ہوئے سب کے لیے رسائی کے تصور کے فروغ اور اس حوالے سے اقدامات آگے بڑھانے میں چین کی کوششوں کو سراہا۔انہوں نے کہا کہ قرارداد ترقی پذیر ممالک کو تکنیکی معاونت فراہم کرنے اور متعلقہ شعبوں میں بین الاقوامی تعاون کے فروغ پر زور دیتی ہے، جو ترقی پذیر ممالک کی ضروریات سے ہم آہنگ ہے۔واضح رہے کہ 2024 میں انسانی حقوق کونسل نے اسی عنوان سے چین کی پیش کردہ قرارداد پہلی مرتبہ منظور کی تھی جو اقوام متحدہ کی تاریخ میں رسائی کے موضوع پر پہلی موضوعاتی قرارداد تھی۔







