عراق کا 50 سال وقفے کے بعد خلیجی خطے میں اپنی تجارتی بحری سرگرمیاں دوبارہ شروع کرنے کا منصوبہ

عراق نے 50 سال سے زیادہ وقفے کے بعد خلیجی خطے میں اپنی تجارتی بحری سرگرمیاں دوبارہ شروع کرنے کے لیے عراقی بحری لائن کی تیاری کا اعلان کر دیا۔

بغداد۔6اکتوبر (اے پی پی):عراق نے 50 سال سے زیادہ وقفے کے بعد خلیجی خطے میں اپنی تجارتی بحری سرگرمیاں دوبارہ شروع کرنے کے لیے عراقی بحری لائن کی تیاری کا اعلان کر دیا۔

العربیہ اردو کے مطابق عراق کی وزارتِ ٹرانسپورٹ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ قومی کمپنیوں کو فعال کرنے اور ٹرانسپورٹ اور تجارت میں ان کے کردار کو مضبوط بنانے کے لیے عراق کے منصوبوں کے تحت عراقی بحری لائن آدھی صدی سے زیادہ کے توقف کے بعد خلیجی خطے میں اپنی تجارتی بحری سرگرمیاں دوبارہ شروع کرنے کے لیے تیار ہے۔ بیان میں کہا گیا کہ عراقی بحری لائن 15 اکتوبر کو متحدہ عرب امارات کی جبل علی بندرگاہ سے عراق کی ام قصر بندرگاہ کی طرف روانہ ہوگی جو قومی بحری کمپنی کو علاقائی تجارتی راستوں پر واپس لانے کا ایک قدم ہے اور کنٹینرز اور سامان کی نقل و حمل کے لیے ایک قومی آپشن فراہم کرتا ہے۔

بیان میں وضاحت کی گئی کہ عراقی بحری لائن کی واپسی کا مقصد عراقی بندرگاہوں کے ذریعے سامان کی نقل و حمل کو فروغ دینا، خطے کے ممالک کے ساتھ تجارت کی حمایت کرنا اور علاقائی بحری ٹرانسپورٹ لائنوں میں قومی کیریئر کی موجودگی کو بڑھانا ہے جو وزارتِ ٹرانسپورٹ کی مختلف اقسام کے ٹرانسپورٹ سسٹم کی ترقی اور اس کی آپریشنل صلاحیتوں کو فعال کرنے کی پالیسیوں کے عین مطابق ہے۔ یاد رہے کہ خطے میں عراقی مال بردار جہازوں کا آخری سفر گزشتہ صدی کے 60 کی دہائی کے وسط میں ہوا تھا جس کی وجہ سے بحری لائن کی سرگرمیوں کا دوبارہ آغاز قومی کیریئرز کی بحالی اور عراقی بحری ٹرانسپورٹ کے شعبے کی ترقی کے راستے میں ایک اہم پیش رفت ہے۔