غربت سے خوشخالی کے موضوع پر بین الاقوامی کانفرنس پی پی اے ایف کی میزبانی میں 13 اور 14 اکتوبر کو اسلام آباد میں ہوگی

پاکستان پاورٹی ایلیویشن فنڈ (پی پی اے ایف) 13 اور 14 اکتوبر کو اسلام آباد میں’’غربت سے خوشحالی‘‘ کے موضوع کے تحت بین الاقوامی کانفرنس کی میزبانی کرے گا

اسلام آباد۔6اکتوبر (اے پی پی):پاکستان پاورٹی ایلیویشن فنڈ (پی پی اے ایف) 13 اور 14 اکتوبر کو اسلام آباد میں’’غربت سے خوشحالی‘‘ کے موضوع کے تحت بین الاقوامی کانفرنس کی میزبانی کرے گا ۔ پی پی اے ایف، وزارتِ تخفیفِ غربت و سماجی تحفظ، پیغامِ پاکستان اور سینٹر آف ایکسیلنس فار نیشنل کوہیژن اینڈ آؤٹ ریچ اسلام آباد کے اشتراک سے ہونے والی ’’انٹرنیشنل کانفرنس آن انکلیوسِو اینڈ ریزیلینٹ اکنامک ایمپاورمنٹ اینڈ گروتھ ‘‘ نامی یہ کانفرنس غربت کے خاتمے کے عالمی دن(17 اکتوبر) کے حوالے سے منعقد کی جا رہی ہے ،اس کا مقصد غربت سے خوشحالی کی جانب پائیدار راستے استوار کرنا، معاشی استحکام کو مضبوط بنانا اور غربت میں کمی اور جامع معاشی خودمختاری کے لیے دیرپا حل تلاش کرنا ہے۔ کانفرنس کے حوالے سے بریفنگ دیتے ہوئے پی پی اے ایف کے چیف ایگزیکٹو آفیسر نادر گل بریچ نے کہا کہ اس کا مقصد غربت میں کمی کے لیے ایک زیادہ پائیدار اور مؤثر طریقہ کار کو فروغ دینا ہے جس کے تحت سماجی تحفظ کو معاشی خودمختاری، پائیدار ذرائع معاش اور کمزور طبقات کے لیے ایسے بامعنی مواقع سے مربوط کیا جائے جو انہیں مستقل معاشی خودانحصاری کی جانب لے جا سکیں۔انہوں نے کہا کہ کانفرنس میں کمزور اور مستحق گھرانوں کو پائیدار ذرائع معاش فراہم کرنے اور انہیں معاشی و موسمیاتی بحرانوں خصوصاً سیلاب، بیماری اور دیگر ایسے حالات سے نمٹنے کے قابل بنانے کے لیے عملی اور قابلِ توسیع حکمتِ عملیوں کا جائزہ لیا جائے گا ۔نادر گل بریچ نے کہا کہ کانفرنس کا ایک مقصد یہ بھی ہے کہ اس امر کا جائزہ لیا جائے کہ سماجی تحفظ کو محض فوری امداد تک محدود رکھنے کے بجائے خود انحصاری کے وسیع تر راستے میں کیسے تبدیل کیا جا سکتا ہے تاکہ گھرانے پیداواری اثاثے تشکیل دے سکیں، منڈیوں تک رسائی حاصل کریں اور آمدن کے زیادہ پائیدار ذرائع پیدا کر سکیں۔پی پی اے ایف حکام کے مطابق کانفرنس میں حکومتی پالیسی سازوں اور اعلیٰ حکام، شنگھائی تعاون تنظیم (ایس سی او)کے رکن ممالک کے نمائندوں، بین الاقوامی ترقیاتی شراکت داروں، کثیرالجہتی و دوطرفہ ڈونرز، مالیاتی اداروں، نجی شعبے کے نمائندوں، محققین و ماہرین تعلیم، سول سوسائٹی تنظیموں، دیہی برادریوں کے نمائندوں اور سماجی تحفظ، غربت سے نجات اور جامع معاشی ترقی کے شعبوں میں کام کرنے والے عالمی ماہرین کو مدعو کیا جائے گا۔کانفرنس کے دوران سماجی تحفظ اور پائیدار ذرائع معاش کے درمیان روابط کو مزید مضبوط بنانے پر توجہ دی جائے گی جبکہ کمزور طبقات کے لیے معاشی مواقع کو وسعت دینے کے سلسلے میں منڈیوں تک رسائی، روزگار، سرمایہ کاری، ٹیکنالوجی اور مالی معاونت کے مؤثر طریقہ کار کا بھی جائزہ لیا جائے گا۔شرکا اس امر پر بھی غور کریں گے کہ منظم اور مربوط کمیونٹیز کس طرح مختلف پروگراموں کے اختتام کے بعد بھی ترقی کے ثمرات کو برقرار رکھنے میں کردار ادا کر سکتی ہیں جبکہ مضبوط مارکیٹ روابط مویشیوں اور چھوٹے پیمانے کے آلات سمیت پیداواری اثاثوں کو قابلِ عمل اور پائیدار ذرائع آمدن میں تبدیل کرنے میں مددگار ثابت ہو سکتے ہیں۔حکومت، ترقیاتی شراکت دار، مالیاتی ادارے اور نجی شعبہ جامع معاشی ترقی کے لیے سازگار ماحول پیدا کرنے اور کمزور گھرانوں کی معاشی لچک مضبوط بنانے میں اپنے اپنے کردار پر غور کریں گے۔ کانفرنس میں شواہد، عملی تجربات اور کمیونٹی کی آرا کو یکجا کرتے ہوئے غربت میں کمی کے عمل کو مزید جامع، پائیدار اور مؤثر بنانے کے لیے عملی ترجیحات وضع کی جائیں گی تاکہ غربت سے خوشحالی کی جانب پائیدار منتقلی کو مزید مضبوط بنایا جا سکے۔