اسلام آباد۔6اکتوبر (اے پی پی):وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی، ترقی و خصوصی اقدامات پروفیسر احسن اقبال نے کہا ہے کہ پاکستان کو تیزی سے بدلتے ہوئے عالمی ماحول میں مسابقت کے قابل بنانے کیلئے تعلیم، صحت، آبادی اور انسانی وسائل کی ترقی کو قومی ایمرجنسی کے طور پر لیا جائے۔انہوں نے یہ بات ’’اڑان پاکستان‘‘ کے تحت 11 قومی اقتصادی مشنز میں سے ساتویں مشن انسانی وسائل کی ترقی سے …
انسانی وسائل کی ترقی کیلئے قومی ایمرجنسی نافذ کرنے کی ضرورت ہے، احسن اقبال

مزید خبریں
اسلام آباد۔6اکتوبر (اے پی پی):وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی، ترقی و خصوصی اقدامات پروفیسر احسن اقبال نے کہا ہے کہ پاکستان کو تیزی سے بدلتے ہوئے عالمی ماحول میں مسابقت کے قابل بنانے کیلئے تعلیم، صحت، آبادی اور انسانی وسائل کی ترقی کو قومی ایمرجنسی کے طور پر لیا جائے۔انہوں نے یہ بات ’’اڑان پاکستان‘‘ کے تحت 11 قومی اقتصادی مشنز میں سے ساتویں مشن انسانی وسائل کی ترقی سے متعلق اجلاس سے ورچوئل خطاب کرتے ہوئے کہی۔وفاقی وزیر نے کہا کہ تعلیم اور صحت قومی ایمرجنسی ہیں، اسی طرح تمام سماجی شعبوں کو بھی قومی ایمرجنسی کے طور پر ترجیح دینے کی ضرورت ہے، پاکستان کو انسانی ترقی کے اہداف کے حصول کیلئے طویل المدتی منصوبہ بندی، بین الصوبائی رابطہ و تعاون اور انتظامی اصلاحات پر توجہ دینا ہوگی۔
انہوں نے کہا کہ سیاسی عدم استحکام اور پالیسیوں کے تسلسل میں رکاوٹ کے باعث پاکستان ماضی میں طویل المدتی منصوبوں پر عملدرآمد میں بار بار ناکام رہا جبکہ دیگر ممالک نے 10 سے 15 سالہ منصوبہ بندی کے ذریعے مسلسل ترقی کی۔ پاکستان کو ماضی میں ضائع ہونے والے وقت کا ازالہ بھی کرنا ہوگا۔احسن اقبال نے کہا کہ صوبوں میں اختیارات کے ضرورت سے زیادہ مرکزیت اختیار کرنے کے باعث نچلی سطح پر عوام کو معیاری خدمات کی فراہمی متاثر ہو رہی ہے،اس مسئلے کا حل موثر بلدیاتی نظام اور حکومت کی تیسری سطح کو مضبوط بنانا ہے۔انہوں نے کہا کہ انسانی وسائل ترقی کی بنیاد ہیں تاہم پاکستان کی شرح خواندگی 63 فیصد ہے جو پائیدار ترقی کیلئے درکار سطح سے بہت کم ہے۔ انہوں نے کہا کہ 63 فیصد شرح خواندگی کے ساتھ ترقی کی توقع کرنا خود فریبی کے مترادف ہے۔
وفاقی وزیر نے ملک میں پرائمری سطح پر سو فیصد داخلہ یقینی بنانے، بچوں میں غذائی قلت اور نشوونما میں رکاوٹ کے مسئلے سے نمٹنے، صحت کے نظام کو بہتر بنانے اور آبادی میں اضافے اور دستیاب وسائل کے درمیان توازن قائم کرنے پر زور دیا۔انہوں نے کہا کہ پاکستان کی آبادی میں اضافے کی شرح 2.4 فیصد سے بڑھ کر 2.55 فیصد ہو گئی ہے،آبادی اور وسائل میں عدم توازن غربت اور سماجی بے چینی کے مسائل کو مزید بڑھا سکتا ہے۔احسن اقبال نے کہا کہ تعلیم، صحت اور آبادی سے متعلق منصوبے سیمنٹ اور کنکریٹ کے منصوبوں سے زیادہ اہم ہیں اور ان شعبوں میں سرمایہ کاری کا تسلسل کم از کم ایک دہائی تک برقرار رہنا چاہیے۔انہوں نے سماجی شعبوں میں کام کرنے والے افسران کو ملازمت کا استحکام دینے اور واضح کلیدی کارکردگی اشاریوں (KPIs) کے ساتھ کارکردگی کی بنیاد پر معاہدے متعارف کرانے کی ضرورت پر بھی زور دیا۔
وفاقی وزیر نے کہا کہ وزارت منصوبہ بندی متعلقہ وزارتوں کو تحقیق اور تکنیکی معاونت فراہم کرے گی تاہم ان کے کام کا کریڈٹ حاصل کرنا اس کا مقصد نہیں۔ انہوں نے کہا کہ وزارت کی بنیادی دلچسپی یہ ہے کہ جو منصوبہ بندی کی گئی ہے، اس پر موثر انداز میں عملدرآمد ہو۔انہوں نے کہا کہ پاکستان کو تیز رفتار تکنیکی تبدیلی بالخصوص مصنوعی ذہانت کے دور سے ہم آہنگ ہونا ہوگا اور ایسے انسانی وسائل تیار کرنا ہوں گے جو ابھرتی ہوئی عالمی معیشت میں مسابقت کی صلاحیت رکھتے ہوں۔








