کلونجی کی منافع بخش کاشت، کم پانی اورکم لاگت سے بہترآمدن ممکن ہے، اسسٹنٹ ڈائریکٹر زراعت توسیع
کلونجی کی منافع بخش کاشت، کم پانی اورکم لاگت سے بہترآمدن ممکن ہے، اسسٹنٹ ڈائریکٹر زراعت توسیع

مزید خبریں
فیصل آباد۔ 07 اکتوبر (اے پی پی):اسسٹنٹ ڈائریکٹر زراعت توسیع فیصل آباد عامر صدیق نے کہا ہے کہ کاشتکار نئی اور منافع بخش فصلوں کی کاشت میں ہمیشہ پیش پیش رہے ہیں، کلونجی ایک قیمتی دوائی اور غذائی فصل ہے جو دیگر فصلوں کے مقابلے میں کم پانی اور کم لاگت سے کاشت کرکے کاشتکاروں کو بہتر منافع فراہم کرسکتی ہے۔ بدھ کو یہاں جاری اپنے ایک بیان میں انہوں نے بتایا کہ کلونجی صدیوں سے مختلف بیماریوں کے علاج کے لیے استعمال ہوتی آرہی ہے اور مدافعتی نظام کو مضبوط بنانے، خون میں شکر اور کولیسٹرول کی سطح کو کنٹرول کرنے، دل کی بیماریوں، کینسر اور جلدی مسائل کے علاج میں معاون سمجھی جاتی ہے، جبکہ بدہضمی سمیت معدے کے مسائل، بالوں کی صحت بہتر بنانے اور ذہنی دباؤ کم کرنے میں بھی مفید ہے۔
اسلامی تعلیمات میں بھی کلونجی کو موت کے علاوہ ہر بیماری کا علاج قرار دیا گیا ہے، جس سے اس کی مذہبی اور طبی اہمیت مزید بڑھ جاتی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ کلونجی کی کاشت کے لیے معتدل آب و ہوا اور زرخیز زمین والے علاقے موزوں ہیں، جن میں وسطی پنجاب کے فیصل آباد، جھنگ اور سرگودھا، جنوبی پنجاب کے بہاولپور، رحیم یار خان، ملتان اور خانیوال جبکہ بالائی پنجاب کے راولپنڈی اور اٹک شامل ہیں۔انہوں نے کہا کہ زمین کی تیاری کے لیے دو مرتبہ ہل اور ایک مرتبہ روٹاویٹر چلا کر لیزر لیولر کی مدد سے کھیت ہموار کیا جائے، اس کے بعد ایک مرتبہ ہل چلا کر رجر کی مدد سے کھیلیاں بنائی جائیں۔ ہموار زمین پر چھٹے کی نسبت پٹریوں پر چوکا لگا کر کاشت کرنے سے پودوں کی بڑھوتری اور پیداوار میں خاطر خواہ اضافہ ہوتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ کلونجی کی کاشت پٹریوں پر زیادہ موزوں ہے، جس کے لیے 45 سینٹی میٹر کے فاصلے پر پٹریاں بنائی جائیں اور بیج پٹریوں کے دونوں اطراف 15 سینٹی میٹر کے فاصلے پر چوکا لگا کر ہلکی مٹی کی تہہ سے ڈھانپ دیا جائے، تاہم بیج ایک انچ سے زیادہ گہرائی پر نہ بویا جائے۔ بیج اگنے کے 15 سے 20 دن بعد چھدرائی کی جائے جبکہ فی ایکڑ اڑھائی کلوگرام بیج کافی ہوتا ہے۔ انہوں کہا کہ پنجاب میں کلونجی کی کاشت کے لیے بہترین وقت اکتوبر کے آخری ہفتے سے نومبر کے پہلے ہفتے تک ہے، جبکہ دیر سے کاشت کی گئی فصل کمزور رہتی اور پیداوار کم ہوجاتی ہے۔ انہوں نے آبپاشی کے حوالے سے بتایا کہ پہلی آبپاشی بوائی کے فوراً بعد کی جائے تاکہ بیج کا اگاؤ بہتر ہو، اس کے بعد فصل کی ضرورت کے مطابق 15 سے 20 دن کے وقفے سے پانی دیا جائے۔
پھول آنے اور بیج پکنے کے دوران پانی کی فراہمی پر خصوصی توجہ دی جائے کیونکہ اس مرحلے پر پانی کی کمی پیداوار کو متاثر کرسکتی ہے، تاہم کٹائی سے دو ہفتے قبل آبپاشی بند کردی جائے تاکہ بیج اچھی طرح خشک ہوسکے۔ آبپاشی کے دوران پانی کی زیادتی سے گریز کیا جائے کیونکہ کھڑا پانی فصل کو نقصان پہنچا سکتا ہے۔








