تین عدالتوں کے فیصلے خلاف ہوں تو نظرثانی میں پورا کیس دوبارہ نہیں کھولا جا سکتا، سپریم کورٹ
تین عدالتوں کے فیصلے خلاف ہوں تو نظرثانی میں پورا کیس دوبارہ نہیں کھولا جا سکتا، سپریم کورٹ

مزید خبریں
اسلام آباد۔7اکتوبر (اے پی پی):سپریم کورٹ نے قرار دیا ہے کہ جب تین عدالتوں کے فیصلے کسی فریق کے خلاف آچکے ہوں تو نظرثانی میں دوبارہ پورا کیس نہیں کھولا جا سکتا، عدالت نے وکیل غلام مصطفیٰ کندوال کی نظرثانی درخواست خارج کرتے ہوئے دوران سماعت عائد کیا گیا 25 ہزار روپے جرمانے کا حکم واپس لے لیا۔سماعت کے دوران جسٹس نعیم اختر افغان نے ریمارکس دیئے کہ تین عدالتوں کے فیصلے آپ کے خلاف ہیں، سپریم کورٹ نے بھی نظرثانی کی اجازت نہیں دی، اب آپ دوبارہ سے پورا کیس نہیں کھول سکتے۔
جسٹس نعیم اختر افغان نے یہ بھی ریمارکس دیئے کہ سپریم کورٹ کے ہر فیصلے کے خلاف نظرثانی دائر کی جاتی ہے۔سماعت کے دوران وکیل غلام مصطفیٰ کندوال اور ججز کے درمیان سخت جملوں کا تبادلہ بھی ہوا۔عدالت نے سماعت کے دوران وکیل پر 25 ہزار روپے جرمانہ عائد کیا تاہم نظرثانی درخواست خارج کرتے ہوئے جرمانے کا حکم واپس لے لیا۔








