پٹرولیم ڈویژن کی قائمہ کمیٹی کا اجلاس ،کمیٹی نے 4 ستمبر 2026 کو منعقدہ گزشتہ اجلاس کے منٹس کی توثیق کی
پٹرولیم ڈویژن کی قائمہ کمیٹی کا اجلاس ،کمیٹی نے 4 ستمبر 2026 کو منعقدہ گزشتہ اجلاس کے منٹس کی توثیق کی

مزید خبریں
اسلام آباد۔8اکتوبر (اے پی پی):پٹرولیم ڈویژن کی قائمہ کمیٹی کا اجلاس جمعرات کو رکن قومی اسمبلی سید مصطفیٰ محمود کی زیر صدارت منعقد ہوا۔اجلاس میں کمیٹی نے 4 ستمبر 2026 کو منعقدہ گزشتہ اجلاس کے منٹس کی توثیق کی ۔ اجلاس میں ایک رکن نے دستاویزات کی تاخیر سے فراہمی پر اظہار تشویش کیا۔پٹرولیم ڈویژن نے یقین دہانی کرائی کہ تمام مطلوبہ دستاویزات مقررہ وقت کے اندر فراہم کر دی جائیں گی۔ اجلاس میں نیچرل گیس (ڈویلپمنٹ سرچارج) (ترمیمی) بل 2026 اور گیس انفراسٹرکچر ڈویلپمنٹ سیس (ترمیمی) بل 2026 پر غور آئندہ اجلاس تک موخر کرنے کی تجویز دی گئی جسے کمیٹی نے منظور کر لیا۔ کمیٹی کو پٹرول اور گیس کی قیمتوں کے تعین کے طریقہ کار جبکہ پاکستان اسٹیٹ آئل (پی ایس او) اور آئل اینڈ گیس ڈویلپمنٹ کمپنی لمیٹڈ (او جی ڈی سی ایل) کی کارکردگی اور کامیابیوں پر تفصیلی بریفنگ دی گئی۔ کمیٹی کو بتایا گیا کہ بین الاقوامی پٹرولیم مارکیٹ کو خام تیل اور ریفائنڈ پٹرولیم مصنوعات، شپنگ، انشورنس اور ریفائننگ کی صلاحیت کے حوالے سے غیر معمولی بحران کا سامنا ہے۔
شپنگ اور انشورنس اخراجات میں نمایاں اضافہ، طویل تر نقل و حمل کے راستوں اور غیر معمولی طور پر بلند کریک اسپریڈز کے باعث پٹرولیم مصنوعات کی بین الاقوامی لاگت میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ وزیر پٹرولیم نے کہا کہ حکومت بلا تعطل فراہمی یقینی بنانے اور بین الاقوامی قیمتوں میں اچانک اضافے کے صارفین پر اثرات کم کرنے کے لیے تمام ممکنہ اقدامات کر رہی ہے۔ ایک سوال کے جواب میں اوگرا نے بتایا کہ موجودہ قیمتوں کے تعین کا طریقہ کار ایک شفاف فارمولے پر مبنی ہے جو اس کی ویب سائٹ پر عوامی طور پر دستیاب ہے اور اس میں بین الاقوامی مارکیٹ کی قیمتیں اور پی ایس او کا متعلقہ ڈیٹا شامل کیا جاتا ہے۔ پٹرول اور ڈیزل کی بنیادی قیمت سات روزہ رولنگ ایوریج، قابل اطلاق شرح مبادلہ اور دیگر مقررہ اجزا کی بنیاد پر متعین کی جاتی ہے۔
کمیٹی نے پٹرولیم قیمتوں کے مختلف اجزا، جن میں ٹیکسز، لیویز، نقل و حمل کے اخراجات اور بین الاقوامی بینچ مارکس کے حوالے سے شفافیت، پیش بینی اور عوامی آگاہی بڑھانے کی ضرورت پر زور دیا۔ کمیٹی نے ریفائنریوں کی آپریشنز اور اپ گریڈیشن کی صورتحال کا بھی جائزہ لیا۔ وزیر پٹرولیم ڈویژن نے بتایا کہ پانچ میں سے چار ریفائنریوں نے اپ گریڈیشن کے معاہدے کر لیے ہیں جبکہ باقی ایک ریفائنری کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں۔ حکومت مقامی پیداوار زیادہ سے زیادہ کرنے اور درآمد شدہ ریفائنڈ مصنوعات پر انحصار کم کرنے کے لیے ریفائنریوں کے ساتھ رابطے میں ہے۔کمیٹی نے آئندہ اسموگ اور موسم سرما کے دوران زیادہ سلفر والی پٹرولیم مصنوعات کی پیداوار اور اس کے ممکنہ ماحولیاتی اثرات پر بھی تشویش کا اظہار کیا۔ کمیٹی نے پٹرولیم سمگلنگ کے معاملے پر بھی غور کیا۔ کمیٹی کو بتایا گیا کہ حکومت سرحدی نگرانی مزید مضبوط بنا رہی ہے اور غیر قانونی تجارت کی روک تھام کے لیے اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ پٹرولیم ڈویژن نے بتایا کہ پٹرولیم سپلائی چین کی اینڈ ٹو اینڈ ڈیجیٹلائزیشن نظام میں داخل ہونے والی اور فروخت ہونے والی مقدار کے درمیان فرق کی نشاندہی کے لیے طویل المدتی موثر طریقہ کار ثابت ہوگی۔
کمیٹی نے گیس کے شعبے سے متعلق امور بشمول گیس کی قیمتیں، ریونیو ریکوائرمنٹس اور ایس این جی پی ایل اور ایس ایس جی سی کے گردشی قرضوں پر بھی غور کیا۔ اوگرا نے مقررہ قیمتوں، صارفین کی قیمتوں اور ریونیو ریکوائرمنٹس میں فرق سے آگاہ کیا اور بتایا کہ ایس این جی پی ایل اور ایس ایس جی سی ایل کی واجب الادا رقوم پر مفاہمت کی ضرورت ہے۔ کمیٹی نے دونوں کمپنیوں کی واجبات اور ریونیو شارٹ فال کے درست اور تازہ ترین اعداد و شمار آئندہ اجلاس میں پیش کرنے کی ہدایت کی۔ کمیٹی نے یونیورسل گیس ڈسٹری بیوشن کمپنی (یو جی ڈی سی) اور نئی پالیسی کے تحت گیس کی کمرشل فروخت سے متعلق معاملہ آئندہ اجلاس کے خصوصی ایجنڈا میں شامل کرنے کا فیصلہ کیا۔
کمیٹی نے یو جی ڈی سی کے نمائندے کو مدعو کرنے کی ہدایت کی تاکہ کمپنی کی منظوری، گیس کی خرید و فروخت کے طریقہ کار، صارفین، قیمتوں، نقل و حمل کے انتظامات، ایس این جی پی ایل/ایس ایس جی سی ایل کے انفراسٹرکچر کے استعمال اور متعلقہ ریگولیٹری تقاضوں سے متعلق تفصیلی معلومات فراہم کی جا سکیں۔ کمیٹی نے لائٹ ڈیزل آئل (ایل ڈی او) کے ذریعے کسانوں کو نسبتاً سستا ایندھن فراہم کرنے کے امکان پر بھی غور کیا۔ اجلاس میں کمیٹی نے سیکرٹری پٹرولیم ڈویژن کو ضروری تحقیق کرکے آئندہ اجلاس میں تفصیلات پیش کرنے کی ہدایت کی۔ اجلاس کے دوران واضح کیا گیا کہ پٹرولیم لیوی کو نان ٹیکس ریونیو کے طور پر شمار کیا جاتا ہے جو کسٹمز ڈیوٹی اور دیگر ٹیکسز سے الگ ہے، تاہم یہ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کا ایک اہم جزو ہے۔
کمیٹی نے تیل اور گیس کے کنوؤں کے پانچ کلومیٹر کے دائرے میں گیس کی سہولیات فراہم کرنے کے معاملے پر بھی غور کیا اور مقامی آبادیوں کو ریلیف اور مراعات فراہم کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔ سیکرٹری نے بتایا کہ رواں سال کے لیے ایک ارب روپے مختص کیے گئے ہیں، جن میں سے 70 فیصد ایس ایس جی سی اور 30 فیصد ایس این جی پی ایل کے لیے مرحلہ وار اسکیموں پر عملدرآمد کے لیے مختص کرنے کی تجویز ہے۔ کمیٹی نے معاملہ آئندہ اجلاس کے ایجنڈے میں شامل کرنے اور سابقہ فیصلوں، عملدرآمد کی پیش رفت اور مختص فنڈز کے استعمال کی تفصیلات فراہم کرنے کی ہدایت کی۔اجلاس میں کمیٹی کے ارکان ممبر قومی اسمبلی انوار الحق چوہدری، محمد بلال بدر، احمد رضا مانیکا، شائستہ خان، حاجی جمال شاہ کاکڑ، سید نوید قمر، اسد عالم نیازی، صلاح الدین جونیجو ،محمد معین عامر پیرزادہ، پٹرولیم ڈویژن، وزارت پارلیمانی امور، اوگرا، او جی ڈی سی ایل، ایس این جی پی ایل، ایس ایس جی سی ایل اور محکمہ توانائی پنجاب کے سینئر افسران نے بھی اجلاس میں شرکت کی۔








