لاہور کے باغ میں لگے بودھی کے تاریخی درخت نے پھولوں کی چادر اوڑھ لی

لاہور کے باغ میں لگے بودھی کے تاریخی درخت نے پھولوں کی چادر اوڑھ لی

لاہور۔8اکتوبر (اے پی پی):پنجاب ہارٹی کلچر اتھارٹی کے زیر انتظام لاہور کی نیشنل بینک پارک میں بودھی کے درخت پر لگے گلابی پھولوں کی بہار نے باغ کو نئی رعنائی بخشی ہے۔ ڈائریکٹر جنرل احمد عثمان جاوید کا کہنا ہے کہ یہ درخت مذہبی شناخت بھی رکھتا ہے، بدھ مت کے پیروکار اس درخت کو، جسے مقامی طور پر "بدھا ٹری” کہا جاتا ہے، مقدس مانتے ہیں۔

روایت کے مطابق سدھارتھ گوتم نے بودھ گایا کے مقام پر اسی درخت کے نیچے مراقبہ کیا اور گیان پا کر "بدھ” یعنی "بیدار شخص” کہلائے۔ بدھ مت کے پیروکار مذہبی آثار، بشمول گوتم بدھ کے جسمانی باقیات، کی تعظیم کرتے ہیں اور یہی احترام بودھی کے درخت کو بھی دیتے ہیں۔ احمد عثمان جاوید نے کہا کہ ایک زندہ پودا ہونے کے ناطے یہ درخت بدھ اور ان کے گیان کے درمیان تعلق سمجھا جاتا ہے، بدھ مت کے پیروکار درخت کو ایک الگ ہستی مانتے اور عقیدت کے ساتھ اس کے پاس آتے ہیں۔ پی ایچ اے لاہور کے لارنس گارڈن، نیشنل بینک باغ اور ریس کورس باغ میں بودھی کے درختوں کی دیکھ بھال کر رہا ہے۔

پاکستان میں یہ درخت عموما ستمبر سے نومبر کے دوران پتوں کا کچھ حصہ جھاڑنے کے بعد پھولتا ہے اور اسے دھوپ خوب راس آتی ہے۔ احمد عثمان جاوید نے کہا کہ بدھا ٹری محض آرائشی پودا نہیں، اس میں ایک تاریخ بسی ہے، ہم چاہتے ہیں کہ لاہور کے باغات میں موجود تاریخی ورثے کو بھی اجاگر کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ پی ایچ اے ان درختوں کی دیکھ بھال جاری رکھے گی۔