آبادی میں اضافے کی رفتار موجود انتظامی ڈھانچے کی صلاحیت سے بڑھ جانے سے حکومتی اداروں کے لیے عوامی وانتظامی ضروریات پوری کرنا مشکل ہو جاتا ہے، موثر اسلوب حکمرانی اور پائیدار ترقی کے لیے انتظامی ڈھانچے کو آبادی کے حجم اور بدلتی ضروریات کے مطابق ڈھالنا ناگزیر ہے۔ یہ بات عالمی اقتصادی فورم کی جانب سے پاکستان اور دیگر ابھرتی ہوئی معیشتوں کا جائزہ لینے کیلئے کئے جانیوالے ایک …
پاکستان کو بڑھتی ہوئی آبادی کے بہتر انتظام وانصرام کے لیے انتظامی اکائیوں کی تعداد میں اضافہ کرنا ہوگا، عالمی اقتصادی فورم کاتجزیہ

مزید خبریں
اسلام آباد۔9اکتوبر (اے پی پی):آبادی میں اضافے کی رفتار موجود انتظامی ڈھانچے کی صلاحیت سے بڑھ جانے سے حکومتی اداروں کے لیے عوامی وانتظامی ضروریات پوری کرنا مشکل ہو جاتا ہے، موثر اسلوب حکمرانی اور پائیدار ترقی کے لیے انتظامی ڈھانچے کو آبادی کے حجم اور بدلتی ضروریات کے مطابق ڈھالنا ناگزیر ہے۔ یہ بات عالمی اقتصادی فورم کی جانب سے پاکستان اور دیگر ابھرتی ہوئی معیشتوں کا جائزہ لینے کیلئے کئے جانیوالے ایک حالیہ تجزیے میں کہی گئی ہے ۔عالمی اقتصادی فورم کے مطابق چھوٹی آبادیوں کے لیے قائم کردہ انتظامی نظام کو کہیں زیادہ بڑی شہری آبادی اور معاشی و سماجی ناہمواریوں کا شکار آبادی کی ضروریات پوری کرنے کی ذمہ داری سونپنے سے فیصلہ سازی عوام سے دور ہو جاتی ہے، پاکستان اس امر کی واضح مثال ہے کہ انتظامی اصلاحات کیوں ضروری ہیں اور انہیں کس انداز میں آگے بڑھایا جانا چاہیے جہاں اندازوں کے مطابق ملکی آبادی 2030ء تک بڑھ کر 26 کروڑ 50 لاکھ تک پہنچ سکتی ہے۔تجزیہ میں پاکستان کے چاروں صوبوں کے اضلاع کاحوالہ دیتے ہوئے بتایا گیا ہے کہ ملک کا انتظامی ڈھانچہ اس بات کا تعین کرتا ہے کہ حکومتیں محصولات کیسے حاصل کرتی ہیں، عوامی وسائل کی تقسیم کیسی ہوتی ہے ، بنیادی ڈھانچے کی منصوبہ بندی کیسے ہوتی ہے، ہنگامی حالات سے کس طرح نمٹا جاتا ہے اور کارکردگی کا جائزہ کیسے لیا جاتا ہے، انتظامی تقسیم آبادی اور معاشی حقائق سے مطابقت نہ رکھنے سے اسلوب حکمرانی(گورننس) کے مسائل مزید سنگین ہو جاتے ہیں۔
تجزیے کے مطابق گزشتہ ادوار میں آنے والی حکومتوں نے 18 ویں آئینی ترمیم اور ساتویں قومی مالیاتی کمیشن(این ایف سی) ایوارڈ سمیت اہم اقدامات کیے، ان اصلاحات کے تحت صحت اور تعلیم سمیت کئی شعبوں کی ذمہ داریاں صوبوں کو منتقل کی گئیں جبکہ وفاقی قابل تقسیم ٹیکسوں میں صوبوں کا حصہ 47.5 فیصد سے بڑھا کر 57.5 فیصد کر دیا گیا تاہم اس کے باوجود بہت سے اہم فیصلے آج بھی ان علاقوں کے عوام سے دور ہو رہے ہیں جن پر ان فیصلوں کے براہ راست اثرات مرتب ہوتے ہیں، مثال کے طور پر لاہور ضلع کی آبادی تقریبا ایک کروڑ 30 لاکھ جبکہ بلوچستان کے ضلع ہرنائی کی آبادی صرف ایک لاکھ 28 ہزار کے لگ بھگ ہے، اس واضح فرق کے باوجود صوبائی دارالحکومتوں میں بنائی جانیوالی پالیسیوں کے ذریعے دونوں علاقوں کی مختلف ضروریات پوری کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔پاکستان کے منصوبہ بندی کمیشن کے اضلاع میں تعلیمی کارکردگی کاجائزہ لینے والے اشاریہ (ڈسٹرکٹ ایجوکیشن پرفارمنس انڈیکس) کے مطابق جائزہ لیے گئے 134 اضلاع میں سے کوئی بھی ضلع کارکردگی کے لحاظ سے انتہائی اعلیٰ درجے تک نہیں پہنچ سکا،اس صورت حال سے پالیسی سازوں اور اضلاع کے درمیان فاصلے، مختص بجٹ اور عملی نتائج میں فرق نیز اختیارات اور جواب دہی کے درمیان عدم توازن کی عکاسی ہو رہی ہے۔تجزیہ میں کہا گیا ہے کہ دنیا کے کئی بڑے اور متنوع ممالک نے آبادی اور معیشت میں تبدیلیوں کے ساتھ اپنے انتظامی نقشوں میں بھی بارہا ردوبدل کیا ہے
نائجیریا نے 1996ء تک اپنے تین علاقائی نظاموں کو وسعت دے کر 36 ریاستوں میں تبدیل کر دیا، انڈونیشیا میں صوبوں کی تعداد 27 سے بڑھ کر اب 38 ہو چکی ہے، کینیا نے 2013ء میں اپنے آٹھ صوبوں کی جگہ 47 منتخب کائونٹی حکومتیں قائم کیں، ان کائونٹی حکومتوں کو قومی آمدن میں سے فارمولے کے تحت حصہ دیا جاتا ہے جس میں آبادی اور غربت کو بھی ملحوظ خاطر رکھا جاتاہے،انڈونیشیا، نائجیریا اور برازیل میں وفاقی سطح کے پہلے درجے کی انتظامی اکائیوں کی اوسط آبادی تقریبا 60 لاکھ سے 80 لاکھ نفوس کے درمیان ہے جو پاکستان میں اس وقت فی صوبہ اوسطاً تقریبا چھ کروڑ آبادی سے کہیں کم ہے۔تجزیہ میں ماہرین نے پاکستان کیلئے انتظامی اصلاحات کے حوالے سے مختلف تجاویز پیش کی ہیں ، ان میں سے ایک تجویز موجودہ چاروں صوبوں کو مزید چار، چار حصوں میں تقسیم کرکے مجموعی طور پر 16 انتظامی حکومتی اکائیاں قائم کرنے کی ہے، اس سے ہر انتظامی اکائی کی اوسط آبادی تقریبا چھ کروڑ سے کم ہو کر ڈیڑھ کروڑ رہ جائے گی۔ تجزیہ میں دوسری تجویز آبادی میں توازن یا جغرافیائی ہم آہنگی کو مدنظر رکھتے ہوئے 23 سے 25 تک انتظامی اکائیاں قائم کرنے اور تیسری تجویز موجودہ ڈویژنوں کو بنیاد بنا کر 30 سے زائد انتظامی اکائیاں تشکیل دینے کی ہے جن کی اوسط آبادی دنیا کی دیگر بڑی وفاقی ریاستوں کے قریب ہو سکتی ہے۔تجزیے میں کہا گیا ہے کہ کم تعداد میں بڑی انتظامی اکائیوں کے لیے اگرچہ قانون سازی اور مالی وسائل کی فراہمی نسبتاً آسان ہو سکتی ہے تاہم اس کے برعکس زیادہ تعداد میں چھوٹی انتظامی اکائیاں قائم کرنے سے انتظامی مراکز اور سیاسی اختیارات عوام کے قریب آ سکتے ہیں تاہم اس عمل پر منتقلی کے اخراجات بڑھیں گے اور موثر انتظامی صلاحیت بھی درکار ہوگی۔
اس حوالہ سے لبنان کی مثال سے بھی سبق حاصل کیا جا سکتا ہے جہاں مالی وسائل اور ادارہ جاتی صلاحیت کے بغیر انتظامی تقسیم مسائل پیدا کر سکتی ہے جس طرح اختیارات کا حد سے زیادہ ارتکاز عوامی مسائل کے حل میں رکاوٹ بنتا ہے اسی طرح اگر چھوٹی بلدیاتی اکائیوں کو عوامی خدمات کی فراہمی کے لیے مناسب مالی وسائل اور خودمختاری حاصل نہ ہو تو وہ بھی غیر موثر ثابت ہو سکتی ہیں۔تجزیہ میں اس بات پر زور دیا گیا ہے کہ انتظامی حدود کے تعین کے ساتھ مالی وسائل اور ذمہ داریوں کی بھی واضح تقسیم ضروری ہے۔ اگر چھوٹی انتظامی اکائیاں قائم کر دی جائیں، لیکن انہیں وسائل کی باقاعدہ فراہمی، محصولات جمع کرنے کے موثر اختیارات اور عوامی خدمات کی واضح ذمہ داریاں نہ دی جائیں تو اختیارات کا ارتکاز صرف نچلی سطح پر منتقل ہو کر رہ جائے گا۔تجزیہ میں بتایاگیاہے کہ مالی سال 2024-25 کے دوران صوبائی حکومتوں نے 983 ارب روپے کے ٹیکس محصولات جمع کیے، جو مجموعی قومی پیداوار کے 0.9 فیصد سے بھی کم تھے۔ دوسری جانب زراعت کا ملکی معیشت میں مجموعی اضافی قدر کے لحاظ سے حصہ 24 فیصد ہے، لیکن اس شعبے سے زرعی آمدن پر ٹیکس کی وصولی تاریخی طور پر اس کے معاشی حجم کے مقابلے میں بہت کم رہی ہے، بین الاقوامی مالیاتی فنڈ کے اندازے کے مطابق زراعت پر موثر ٹیکس کی شرح صرف 0.3 فیصد ہے، صوبائی محصولات جمع کرنے والے اداروں کو طویل عرصے سے محدود انتظامی صلاحیت، ٹیکس قوانین پر کمزور عمل درآمد اور ناکافی معلومات جیسے مسائل کا سامنا ہے۔
تجزیے کے مطابق انتظامی اکائیوں کی تعداد میں اضافہ بذات خود مقصد نہیں ہونا چاہیے، بلکہ اصل ضرورت انتظامی حجم، اختیارات، وسائل اور جواب دہی میں توازن پیدا کرنے کی ہے۔ جب آبادی اداروں کی صلاحیت سے زیادہ تیزی سے بڑھنے لگے تو حکومتوں کو اپنے انتظامی ڈھانچے میں ایسی اصلاحات کرنی چاہئیں جن سے فیصلہ سازی اور وسائل عوام کے قریب آئیں اور حکومتیں ان لوگوں کی ضروریات کے مطابق کام کر سکیں جو ان فیصلوں کے اثرات براہ راست برداشت کرتے ہیں۔








