وفاقی وزیر خزانہ سینیٹر محمد اورنگزیب نے کہا ہے کہ ایکسپو کے انعقادسے کاروبار اور سرمایہ کاروں کے اعتماد میں بہتری آئے گی، پاکستان دنیا میں پولٹری کی پیداوار کے حوالے سے 11واں بڑا ملک ہے، پولٹری کے شعبہ کے حوالے سے درپیش مسائل کے حل کےلئے مقامی سطح پر اقدامات کو یقینی بنایاجا رہا ہے
پولٹری کے شعبہ کے حوالے سے درپیش مسائل کے حل کےلئے مقامی سطح پر اقدامات کو یقینی بنایاجا رہا ہے، وزیر خزانہ

مزید خبریں
اسلام آباد/لاہور۔10اکتوبر (اے پی پی):وفاقی وزیر خزانہ سینیٹر محمد اورنگزیب نے کہا ہے کہ ایکسپو کے انعقاد سے کاروبار اور سرمایہ کاروں کے اعتماد میں بہتری آئے گی، پاکستان دنیا میں پولٹری کی پیداوار کے حوالے سے 11واں بڑا ملک ہے، پولٹری کے شعبہ کے حوالے سے درپیش مسائل کے حل کےلئے مقامی سطح پر اقدامات کو یقینی بنایاجا رہا ہے۔وزیر خزانہ نے ان خیالات کا اظہار ہفتہ کو لاہور میں منعقدہ انٹرنیشنل پولٹری ایکسپو 2026کی تقریب سے خطاب کرتےہوئے کیا۔ انہوں نے کہاکہ ایکسپو میں 200 سے زیادہ سٹالز لگائے گئے ہیں جس میں کاروباری برادری گہری دلچسپی کا مظاہرہ کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پولٹری کی پیداوار کے حوالے سے پاکستان دنیا کا 11 واں بڑا ملک ہے اور اس شعبہ سے 15 لاکھ خاندان منسلک ہیں، پولٹری کے شعبہ کی پیداوار میں 2.5 ارب کلوگرام گوشت اور 28 ملین سے زیادہ انڈے شامل ہیں۔ وزیر خزانہ نے کہا کہ پولٹری کا شعبہ دیہی علاقوں میں روزگار کی فراہمی میں اہم کردار کے ساتھ ساتھ پروٹین کی دستیابی کو بھی یقینی بنا رہا ہے ۔ سینیٹر محمد اورنگزیب نے کہا کہ وسطی اور جنوبی ایشیا کے خطے میں گوشت کی برآمدات میں پولٹری کےگوشت کی شرح کم ہے اور پولٹری کی قومی برآمدات کا حجم 4 ملین ڈالر سے زیادہ نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ پولٹری کا شعبہ ملک کی غذائی ضروریات کو پورا کرنے میں اہم کردار ادا کر رہا ہے، پولٹری کی صنعت پاکستان کی معیشت اور روزگار کے مواقع پیدا کرنے میں اہمیت کی حامل ہے۔ وفاقی وزیر خزانہ نے کہا کہ پولٹری کے شعبہ میں سرمایہ کاری سے معاشی سرگرمیوں کو فروغ دیا جاسکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ زرعی معیشت کی ترقی کے لئے لائیوسٹاک اور پولٹری کے شعبوں کو مضبوط بنانا ضروری ہے۔ سینیٹر محمد اورنگزیب نے کہا کہ پولٹری کی صنعت میں جدید ٹیکنالوجیز کے استعمال سے پیداوار میں خاطر خواہ اضافہ یقینی بنایا جاسکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پولٹری کے شعبہ کی ترقی کےلئے نجی شعبہ کا کردار اہم ہے۔ وزیر خزانہ نے مزید کہا کہ غذائی تحفظ کےلئے مرغی کے گوشت اور انڈوں کی فراہمی ناگزیر ہے۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ پولٹری کی صنعت اور اس سے منسلک کاروبار کے فروغ کےلئے سازگار ماحول کی فراہمی بنیادی اہمیت کی حامل ہے۔ وزیر خزانہ نے کہا کہ حکومت معیشت کے مختلف شعبوں میں ترقی اور سرمایہ کاری کے فروغ پر خصوصی توجہ دے رہی ہے اور پولٹری کی صنعت کے مسائل کے حل کےلئے مقامی سطح پر اقدامات کو یقینی بنایا جا رہا ہے۔








