سہیل آفریدی اور پی ٹی آئی قیادت قبائلی عوام کے سامنے اپنی کارکردگی کا جواب دیں، ڈاکٹر طارق فضل چوہدری

وفاقی وزیر پارلیمانی امور ڈاکٹر طارق فضل چوہدری نے کہا ہے کہ سہیل آفریدی اور تحریک انصاف کی قیادت کو قبائلی عوام کے سامنے اپنی کارکردگی کا جواب دینا چاہیے، امن کے نام پر احتجاجی سیاست کرنے سے مسائل حل نہیں ہوں گے، اس کے لیے سنجیدہ حکمت عملی، مضبوط ادارے اور عملی اقدامات درکار ہیں، قبائلی عوام نے بہت قربانیاں دی ہیں، اب وہ اپنے بچوں کے لیے محفوظ …

اسلام آباد۔10اکتوبر (اے پی پی):وفاقی وزیر پارلیمانی امور ڈاکٹر طارق فضل چوہدری نے کہا ہے کہ سہیل آفریدی اور تحریک انصاف کی قیادت کو قبائلی عوام کے سامنے اپنی کارکردگی کا جواب دینا چاہیے، امن کے نام پر احتجاجی سیاست کرنے سے مسائل حل نہیں ہوں گے، اس کے لیے سنجیدہ حکمت عملی، مضبوط ادارے اور عملی اقدامات درکار ہیں، قبائلی عوام نے بہت قربانیاں دی ہیں، اب وہ اپنے بچوں کے لیے محفوظ مستقبل چاہتے ہیں، سیاسی مفادات کی بھینٹ چڑھنا نہیں چاہتے۔ وفاقی وزیر نے سماجی رابطہ کی ویب سائٹ ایکس پر اپنی ایک تفصیلی پوسٹ میں کہا کہ تحریک انصاف کی صوبے میں طویل حکمرانی کے باوجود آج بھی کئی بنیادی سوالات جواب طلب ہیں۔

انہوں نے سوال کیا کہ سابقہ فاٹا کے انضمام کے بعد وہاں پولیس کا نظام کتنا مضبوط ہوا؟ دہشت گردی کے خاتمے کے لیے کون سے مؤثر ادارے قائم کیے گئے؟ سی ٹی ڈی کی استعداد بڑھانے، تھانوں کی تعداد میں اضافے، جدید نگرانی کے نظام اور نوجوانوں کو روزگار فراہم کرنے کے لیے کیا اقدامات کیے گئے؟ قبائلی اضلاع میں جدید اسپتالوں، اعلیٰ تعلیمی اداروں اور ترقیاتی منصوبوں کی کمی کیوں برقرار رہی؟۔ ڈاکٹر طارق فضل چوہدری نے کہا کہ آج خیبر پختونخوا کے عوام امن و امان کی سنگین صورتحال سے پریشان ہیں۔ پولیس اہلکاروں اور سکیورٹی فورسز کی قربانیاں، دہشت گردی کے واقعات اور عام شہریوں کی مشکلات اس بات کا تقاضا کرتی ہیں کہ سیاست سے بالاتر ہو کر ٹھوس فیصلے کیے جائیں۔

عوام کو نعروں اور جلسوں کے بجائے ایسے اقدامات چاہییں جو ان کی زندگیوں میں حقیقی بہتری لائیں۔انہوں نے کہا کہ قبائلی علاقوں کے عوام بہادر، باوقار اور محب وطن ہیں۔ انہیں اپنے حقوق، تعلیم، روزگار اور بنیادی سہولتوں کے لیے مزید انتظار نہیں کرنا چاہیے۔ ان کے نوجوان صلاحیتوں سے مالا مال ہیں اور انہیں ایسے مواقع ملنے چاہییں جن سے وہ اپنے خاندانوں کی کفالت اور ملکی ترقی میں اپنا کردار ادا کر سکیں۔ ڈاکٹر طارق فضل چوہدری نے کہا کہ مسلم لیگ (ن) کے دور میں فاٹا یونیورسٹی اور چار کیڈٹ کالجز جیسے منصوبوں پر کام کیا گیا۔

مستقبل میں بھی قبائلی اضلاع میں اعلیٰ تعلیم کے فروغ، دانش اسکولوں، جدید طبی سہولتوں، کھیلوں کے مراکز اور روزگار کے مواقع کی فراہمی کے لیے عملی اقدامات ہماری ترجیح ہونی چاہیے۔وفاقی وزیر نے کہا کہ ہم چاہتے ہیں کہ خیبر پختونخوا کے ہر ضلع میں ترقی کے نئے دروازے کھلیں، نوجوانوں کو کاروبار کے مواقع میسر آئیں، سرمایہ کاری بڑھے اور قبائلی علاقوں کو قومی ترقی کے دھارے میں مزید مؤثر انداز میں شامل کیا جائے۔ اس مقصد کے لیے وفاقی اور صوبائی حکومتوں کو باہمی تعاون، وسائل کی منصفانہ تقسیم اور مؤثر حکمت عملی کے ساتھ آگے بڑھنا ہوگا۔

انہوں نے مزید کہا کہ تحریک انصاف کو بھی یہ سمجھنا ہوگا کہ عوامی حمایت کا اصل معیار کارکردگی ہے۔ اگر اقتدار کے طویل عرصے کے بعد بھی امن، روزگار اور بنیادی سہولتوں سے متعلق سوالات موجود ہیں تو ان کا جواب الزامات یا سیاسی بیانات نہیں بلکہ حقائق اور عملی اقدامات ہونے چاہییں۔ ڈاکٹر طارق فضل چوہدری نے کہا کہ ہم خیبر پختونخوا کے عوام کے ساتھ کھڑے ہیں۔ ہماری خواہش ہے کہ اس سرزمین سے دہشت گردی کا خاتمہ ہو، پولیس اور قانون نافذ کرنے والے ادارے مضبوط ہوں، بچوں کو معیاری تعلیم ملے اور ہر گھر میں خوشحالی آئے۔سیاسی اختلافات سے بالاتر ہو کر امن، ترقی اور خوشحالی کے لیے متحد ہوں۔ خیبر پختونخوا کا محفوظ مستقبل ہی پاکستان کی مضبوطی کی ضمانت ہے۔