بچوں کے آن لائن تحفظ کے لیے سخت ریگولیٹری اقدامات ناگزیر، سوشل میڈیا کے لیے عمر کی تصدیق اور والدین کی اجازت کی سفارش

پاکستان میں بچوں کو سائبر بلنگ، آن لائن ہراسانی اور ڈیجیٹل گرومنگ جیسے سنگین خطرات سے بچانے کے لیے 16 سال سے کم عمر صارفین کے سوشل میڈیا اکائونٹس کے لیے عمر کی سائنسی تصدیق اور والدین کی باقاعدہ رضامندی کو قانونی طور پر لازمی قرار دینے کی سفارش کر دی گئی ہے۔

اسلام آباد۔12اکتوبر (اے پی پی):پاکستان میں بچوں کو سائبر بلنگ، آن لائن ہراسانی اور ڈیجیٹل گرومنگ جیسے سنگین خطرات سے بچانے کے لیے 16 سال سے کم عمر صارفین کے سوشل میڈیا اکائونٹس کے لیے عمر کی سائنسی تصدیق اور والدین کی باقاعدہ رضامندی کو قانونی طور پر لازمی قرار دینے کی سفارش کر دی گئی ہے۔

چائلڈ پروٹیکشن اینڈ ویلفیئر بیورو (سی پی ڈبلیو بی) پنجاب اور وفاقی وزارت انسانی حقوق کے زیر اہتمام یونیسیف اور یو این ایف پی اے کے اشتراک سے منعقدہ قومی پالیسی ڈائیلاگ ’’سیف سکرول‘‘ کے دوران چیئرپرسن سارہ احمد نے 10 نکاتی جامع سفارشات پیش کیں۔ان سفارشات میں زور دیا گیا ہے کہ 16 سال سے کم عمر صارفین کے لیے قابل اعتماد ایج اشورنس ٹیکنالوجی اور والدین کی باقاعدہ تصدیق کو ناگزیر بنایا جائے جبکہ وفاقی قانون نافذ کرنے والے اداروں، پی ٹی اے اور صوبائی چائلڈ پروٹیکشن بیوروز کے مابین اشتراک عمل کو قانونی شکل دی جائے۔

سفارشات میں ڈیجیٹل ہراسانی اور گرومنگ کی شکایات کے فوری ازالے کے لیے 24 گھنٹے فعال رسپانس سسٹم کے قیام، بچوں کے ڈیٹا و پرائیویسی کے تحفظ اور سوشل میڈیا کمپنیوں کو نقصان دہ الگورتھمز اور مواد کی فلٹرنگ کا پابند بنانے کا مطالبہ بھی شامل ہے۔پالیسی مذاکرے میں پارلیمنٹیرینز، آئی ٹی و قانونی ماہرین، سول سوسائٹی اور نوجوان نمائندوں نے شرکت کی جہاں بچوں کے ڈیجیٹل حقوق اور ریگولیٹری فریم ورک کا جائزہ لیا گیا۔ چیئرپرسن سی پی ڈبلیو بی سارہ احمد نے اپنے خطاب میں کہا کہ بچوں کے تحفظ کے لیے اب روایتی تدابیر ناکافی ہیں اور جدید دور کے تقاضوں کے مطابق فوری قانون سازی ناگزیر ہو چکی ہے۔

انہوں نے صوبے میں بچوں کے حقوق کے تحفظ اور فلاحی اصلاحات کے لیے وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز کی مستقل حمایت کا بھی اعتراف کیا۔سپیکر پنجاب اسمبلی ملک محمد احمد خان نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ بچوں کو آن لائن خطرات سے بچانا ریاست اور معاشرے کی مشترکہ آئینی و سماجی ذمہ داری ہے، جس کے لیے صرف قوانین بنانا کافی نہیں بلکہ ان کے موثر نفاذ اور نگرانی کا فول پروف نظام بنانا ہوگا۔

تقریب سے خطاب میں آسٹریلوی ہائی کمشنر ٹموتھی کین نے بین الاقوامی ریگولیٹری ماڈلز اور سیفٹی بائی ڈیزائن کے اصولوں پر روشنی ڈالتے ہوئے عالمی سطح کے تجربات اور سرحد پار تعاون کے اشتراک پر زور دیا۔مذاکرے کے اختتام پر شرکا نے متفقہ طور پر واضح کیا کہ ریاستی اداروں، تعلیمی نظام، والدین اور عالمی ٹیک کمپنیوں کے درمیان مضبوط شراکت داری ناگزیر ہے تاکہ نئی نسل کو نقصان دہ مواد سے بچاتے ہوئے محفوظ ڈیجیٹل ماحول فراہم کیا جا سکے۔ سی پی ڈبلیو بی نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ پیش کردہ سفارشات کو جلد از جلد قانون سازی کا حصہ بنانے کے لیے عملی اقدامات جاری رکھے جائیں گے۔