حکومت نے آئین سے باہر کوئی اقدام نہیں کیا، گورنر راج اور ایمرجنسی کا نفاذ بھی آئینی دائرے میں ہے، محسن نقوی

وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے کہا ہے کہ حکومت نے آئین سے باہر رہ کر کوئی اقدام نہیں کیا، گورنر راج اور ایمرجنسی کا نفاذ بھی آئین کے دائرے میں رہ کر کیا ہے، دہشت گردی کے خلاف جنگ کو سیاسی اختلافات سے بالاتر رکھنا ہوگا اور اس کے خاتمے کے لیے تمام سیاسی قوتوں کو مل کر کام کرنا چاہیے

اسلام آباد۔13اکتوبر (اے پی پی):وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے کہا ہے کہ حکومت نے آئین سے باہر رہ کر کوئی اقدام نہیں کیا، گورنر راج اور ایمرجنسی کا نفاذ بھی آئین کے دائرے میں رہ کر کیا ہے، دہشت گردی کے خلاف جنگ کو سیاسی اختلافات سے بالاتر رکھنا ہوگا اور اس کے خاتمے کے لیے تمام سیاسی قوتوں کو مل کر کام کرنا چاہیے۔منگل کو سینیٹ اجلاس میں قائد حزب اختلاف سینیٹر علامہ راجہ ناصر عباس کی جانب سے اٹھائے گئے نکات کا جواب دیتے ہوئے وفاقی وزیر داخلہ نے کہا کہ اگر آئین کی کسی شق کی خلاف ورزی ہوئی ہے تو ماہرین پر مشتمل کمیٹی قائم کی جائے جو واضح کرے کہ کون سی آئینی شق کی خلاف ورزی کی گئی ہے۔ کسی حکومتی اقدام سے اختلاف کیا جا سکتا ہے تاہم اسے آئین سے متصادم قرار دینے کے لیے متعلقہ آئینی شق اور قانونی بنیاد کی نشاندہی ضروری ہے۔انہوں نے کہا کہ پارلیمنٹ میں پہلے دن سے دہشت گردی کے معاملے پر بات چیت جاری ہے اور اس سلسلے میں مختلف سیاسی رہنمائوں سے بھی تبادلہ خیال کیا گیا ہے۔محسن نقوی نے کہا کہ خیبر پختونخوا میں دہشت گردی کے معاملے پر مذاکرات کے دوران ابتدائی گفتگو دہشت گردی کے خلاف اقدامات اور تعاون سے متعلق نکات پر ہوئی۔

سابق سپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر نے ان نکات سے اتفاق کرتے ہوئے دہشت گردی کے خلاف پاکستان کا ساتھ دینے کی یقین دہانی کرائی تھی تاہم مزید مشاورت کے لیے بات چیت اگلے روز تک موخر کرنے کی تجویز دی گئی۔انہوں نے بتایا کہ مذاکرات کے دوران مختلف تجاویز اور ترامیم پر تفصیلی تبادلہ خیال ہوا اور متعدد تبدیلیاں قبول کی گئیں۔ آخری مرحلے میں بھی مجوزہ متن میں تبدیلیوں پر اتفاق کیا گیا تاہم دو روز کی کوششوں کے باوجود طے شدہ امور پر عمل درآمد نہ ہو سکا۔وفاقی وزیر داخلہ نے کہا کہ حکومت نے مذاکرات میں خیبر پختونخوا کے وزیراعلیٰ کو شامل کرنے یا ان کا نمائندہ بھیجنے کی درخواست بھی کی تھی تاکہ صوبائی حکومت کے موقف اور مذاکراتی ٹیم کے درمیان اختلافات دور کیے جا سکیں۔ انہوں نے کہا کہ حکومت نہیں چاہتی تھی کہ معاملات اس نہج تک پہنچیں اور آخری وقت تک رابطوں کے ذریعے مسائل حل کرنے کی کوشش کی گئی۔محسن نقوی نے کہا کہ ایمرجنسی یا گورنر راج کا نفاذ آسان فیصلہ نہیں تاہم حکومت کو امن و امان کے قیام اور دہشت گردی کے خلاف کارروائیوں میں جانوں کا نذرانہ پیش کرنے والے سکیورٹی اہلکاروں کے تحفظ کے لیے ضروری اقدامات کا جائزہ لینا پڑتا ہے۔

حکومت نے اس سے قبل بھی سیاسی قیادت سے رابطے کیے اور معاملات کو بات چیت کے ذریعے حل کرنے کی کوشش کی۔انہوں نے کہا کہ دہشت گردی کے متعدد واقعات میں افغانستان سے آنے والے عناصر ملوث ہیں تاہم حکومت پختون عوام کو دہشت گردی سے منسوب نہیں کرتی بلکہ دہشت گردوں کو ان کی کارروائیوں کی بنیاد پر دیکھتی ہے۔ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں سکیورٹی فورسز اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی قربانیوں کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔وفاقی وزیر نے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف موثر کارروائیوں کے لیے تمام متعلقہ اداروں اور سیاسی قوتوں کا تعاون ضروری ہے۔ حکومت چاہتی ہے کہ خیبر پختونخوا کے نوجوانوں کو بھی ساتھ لے کر چلا جائے اور کسی طبقے کو الگ تھلگ نہ کیا جائے۔انہوں نے مذاکرات کے حوالے سے کہا کہ حکومت نے ماضی میں بھی پرامن احتجاج کے لیے جگہ فراہم کرنے اور مسائل کو بات چیت کے ذریعے حل کرنے کی پیشکش کی تھی۔ مختلف مواقع پر رابطوں اور پیغامات کے تبادلے کے باوجود بعض امور پر اتفاق نہ ہو سکا، تاہم حکومت نے آخری وقت تک کوشش کی کہ کوئی ایسا اقدام نہ ہو جس سے حالات مزید خراب ہوں۔

محسن نقوی نے واضح کیا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ کسی ایک جماعت یا حکومت کا معاملہ نہیں بلکہ پاکستان کے امن، استحکام اور سلامتی کا مسئلہ ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ اللہ تعالیٰ سکیورٹی فورسز اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کو کامیابی عطا فرمائے گا اور تمام فریق ملک سے دہشت گردی کے خاتمے کے لیے اپنا کردار ادا کریں گے۔