غزہ میں کھلی نسل کشی ہو رہی ہے، نوی پلے

غزہ میں کھلی نسل کشی ہو رہی ہے، نوی پلے

اقوم متحدہ۔15اکتوبر (اے پی پی):اقوام متحدہ کی سابق ہائی کمشنر برائے انسانی حقوق نوی پلے نے کہا ہے کہ غزہ کی پٹی میں جو کچھ ہو رہا ہے وہ کھلی نسل کشی ہے۔مرکز اطلاعات فلسطین کی رپورٹ کے مطابق نوبل امن انعام یافتہ نوی پلےنے اس بات پر زور دیا ہے مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں اسرائیلی مظالم اور تجاوزات انتہائی سنگین ہیں اور نسل کشی کے درجے تک پہنچ چکے ہیں۔ انہوں نے غزہ کی پٹی اور مقبوضہ مغربی کنارے میں مظالم پر قابضاسرائیلی حکومت کے سخت احتساب اور اس کے رہنماؤں کو حاصل سزا سے استثنا اور استحقاقِ عدمِ عقاب کے خاتمے پر زور دیا ہے۔العربی ٹی وی کو انٹرویو میں انہوں نے کہا کہ غزہ کی پٹی میں جو کچھ ہو رہا ہے وہ بلا شک و شبہ نسل کشی ہے، جیسا کہ مقبوضہ فلسطینی علاقوں اور اسرائیل سے متعلق مستقل بین الاقوامی تحقیقاتی کمیشن نے یہی حتمی نتیجہ اخذ کیا تھا۔

نوی پلے خود اس کمیشن کی سربراہ رہ چکی ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ اپنے اس عہدے سے سبکدوش ہونے کے بعد وہ مسئلہ فلسطین اور اس کی قانونی حمایت سے دستبردار نہیں ہوئیں۔ انہوں نے غزہ کی پٹی اور مقبوضہ مغربی کنارے میں اسرائیلی مظالم کی تحقیقات جاری رکھنے، ان کے دستاویزی ثبوت جمع کرنے اور بین الاقوامی برادری، بالخصوص اقوام متحدہ اور ان تمام عالمی اداروں کو باخبر رکھنے کی اہمیت پر زور دیا جو ان مظالم کو روکنے اور فلسطینیوں کو تحفظ فراہم کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں ۔

نوی پلے نے کہا کہ ہم سیاسی قوت نہیں رکھتے، لیکن ہمارے پاس اس حق کی اخلاقی طاقت ہے کہ ہم اس کردار کو ادا کریں اور دنیا کو، بالخصوص اقوام متحدہ اور ان تمام بااختیار اداروں کو باخبر رکھیں اور ان سے مطالبہ کریں کہ وہ اسرائیلی مظالم کو روکیں اور مقبوضہ مغربی کنارے کے فلسطینیوں کو تحفظ فراہم کریں ۔ نوی پلے نے فلسطینیوں کے خلاف مظالم کے ذمہ دار اسرائیلیوں کے مسلسل احتساب سے بچ نکلنے کے خطرے سے خبردار کرتے ہوئے کہا کہ اسرائیلی رہنما بین الاقوامی قانون کے فریم ورک سے بالکل باہر ہو کر کارروائیاں کر رہے ہیں، جبکہ بین الاقوامی برادری ان مظالم کا خاتمہ کرنے اور مجرموں کے احتساب میں مکمل طور پر مفلوج دکھائی دیتی ہے۔

انہوں نے اسرائیلی مظالم کی دستاویزات کی موجودگی کے باوجود سلامتی کونسل میں ”ویٹو“ کے نام نہاد حق کے استعمال پر شدید تنقید کی، اور کہا کہ ایسے کٹھن حالات میں بین الاقوامی تحرک کو مفلوج کرنا سراسر ناانصافی ہے۔ نیز انہوں نے بین الاقوامی فوجداری عدالت (آئی سی سی ) پر امریکا کی طرف سے عائد کردہ پابندیوں کو ظالمانہ اور ناانصافی پر مبنی قرار دیا۔انہوں نے بین الاقوامی عدل و انصاف کو مستحکم کرنے اور استحقاقِ عدمِ عقاب کا مقابلہ کرنے کی اپیل کی، تاکہ بین الاقوامی قانون کے احترام کو یقینی بنایا جا سکے اور مظلوم فلسطینیوں کے خلاف جرائم کے مرتکب اسرائیلیوں کا احتساب ممکن ہو۔ اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاھو اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی طرف سے انہیں نوبل امن انعام دیے جانے کے فیصلے پر کی جانے والی شدید تنقید کا جواب دیتے ہوئے نوی پلے نے کہا کہ یہ معاندانہ مواقف انہیں ان کے حقوقِ انسانی کے سفر سے ہرگز دور نہیں کر سکتے۔

واضح رہے کہ اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو نے ان پر اخلاقی قطب نما کھو دینے کا الزام لگایا تھا، جبکہ ٹرمپ نے انہیں یہ انعام دینے کے فیصلے کو عذاب اور شرمناک اقدام قرار دیا تھا۔نوی پلے نے جنوبی افریقہ میں نسلی پرست و نسل پرستانہ (اپارتھیڈ) نظام کے خلاف اپنی طویل جدوجہد کا حوالہ دیتے ہوئے پرسکون انداز میں جواب دیا کہ ہم نے نسل پرست نظام کے سائے میں یہی سبق سیکھا ہے کہ ان جیسے ایذا رساں اور زہریلے بیانات کی بالکل پروا نہ کی جائے، کیونکہ ان کے اپنے مخصوص سیاسی ایجنڈے ہیں ۔نوی پلے نے مسئلہ فلسطین میں اپنی مسلسل دلچسپی اور صیہونی مظالم پر گہری نظر رکھنے کے عزم کا اعادہ کیا، اور اس بات پر خوشی کا اظہار کیا کہ جس بین الاقوامی تحقیقاتی کمیشن کی انہوں نے قیادت کی تھی، اس کا کام بدستور جاری ہے، جس نے یہ واضح اور حتمی نتیجہ اخذ کیا تھا کہ صیہونی ریاست نے غزہ کی پٹی میں کھلی نسل کشی کا ارتکاب کیا ہے۔