بصارت سے محروم افراد کو معاشرے کا فعال، خودمختار، باوقار شہری بنانے کے لیے اجتماعی کوششیں کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے، سفید چھڑی نابینا افراد کے لیے محض راستہ تلاش کرنے کا ذریعہ نہیں بلکہ خوداعتمادی، آزادی اور محفوظ نقل و حرکت کی علامت ہے
بصارت سے محروم افراد کو خودمختار بنانے کے لیے مؤثر اقدامات ضروری ہیں، پروفیسر عثمان بٹ

مزید خبریں
سیالکوٹ۔ 15 اکتوبر (اے پی پی):بصارت سے محروم افراد کو معاشرے کا فعال، خودمختار، باوقار شہری بنانے کے لیے اجتماعی کوششیں کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے، سفید چھڑی نابینا افراد کے لیے محض راستہ تلاش کرنے کا ذریعہ نہیں بلکہ خوداعتمادی، آزادی اور محفوظ نقل و حرکت کی علامت ہے۔ان خیالات کا اظہار پروفیسر عثمان بٹ نےسفید چھڑی کے عالمی دن کے موقع پر منعقدہ سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے کیا اپنے خطاب میں انہوں نے مزید کہا کہ بصارت سے محروم افراد بھی صلاحیتوں، قابلیت اور عزم کے اعتبار سے کسی سے کم نہیں، انہیں تعلیم، روزگار، صحت اور دیگر شعبوں میں مساوی مواقع فراہم کرکے قومی ترقی کے عمل میں مؤثر کردار ادا کرنے کے قابل بنایا جا سکتا ہے۔
پروفیسر عثمان بٹ نے کہا کہ نابینا افراد کو درپیش مشکلات کم کرنے کے لیے عوامی مقامات، تعلیمی اداروں، ہسپتالوں، سڑکوں اور ٹرانسپورٹ کے نظام کو ان کی ضروریات کے مطابق بہتر بنانا ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ سفید چھڑی استعمال کرنے والے افراد کو سڑک عبور کرنے، راستہ تلاش کرنے یا کسی عوامی مقام تک پہنچنے میں مدد فراہم کرنا معاشرتی ذمہ داری ہے، تاہم ان کی خودمختاری اور عزت نفس کا احترام بھی ملحوظ خاطر رکھا جانا چاہیے۔ انہوں نے مزید کہا کہ خصوصی افراد کے حقوق کے تحفظ، جدید سہولیات کی فراہمی، معیاری تعلیم تک رسائی اور معاشرتی شعور بیدار کرنے کے لیے آگاہی مہمات جاری رکھنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔








