ڈپٹی کمشنر استور و چیئرپرسن ڈسٹرکٹ انسدادِ پولیو کمیٹی میڈم نیلم علی کی زیرِ صدارت ضلع استور میں انسدادِ پولیو مہم کی تیاریوں، انتظامات اور مؤثر حکمتِ عملی کا جائزہ لینے کے لیے ایک اہم اجلاس منعقد ہوا، جس میں مہم کو کامیاب بنانے، پانچ سال سے کم عمر بچوں تک پولیو سے بچاؤ کے قطرے پہنچانے اور متعلقہ محکموں کے درمیان مؤثر رابطہ کاری کو یقینی بنانے کے امور …
استور ،انسدادِ پولیو مہم کی تیاریوں کے حوالے سے اجلاس، 14 ہزار 500 بچوں کو قطرے پلانے کا ہدف مقرر کر

مزید خبریں
استور۔ 15 اکتوبر (اے پی پی):استور (اے پی پی) ڈپٹی کمشنر استور و چیئرپرسن ڈسٹرکٹ انسدادِ پولیو کمیٹی میڈم نیلم علی کی زیرِ صدارت ضلع استور میں انسدادِ پولیو مہم کی تیاریوں، انتظامات اور مؤثر حکمتِ عملی کا جائزہ لینے کے لیے ایک اہم اجلاس منعقد ہوا، جس میں مہم کو کامیاب بنانے، پانچ سال سے کم عمر بچوں تک پولیو سے بچاؤ کے قطرے پہنچانے اور متعلقہ محکموں کے درمیان مؤثر رابطہ کاری کو یقینی بنانے کے امور پر تفصیلی غور کیا گیا۔اجلاس میں ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر استور ڈاکٹر عارف عباس، اسسٹنٹ کمشنر استور محمد شعیب، اسسٹنٹ کمشنر شونٹر توثیق احمد سمیت مختلف متعلقہ محکموں کے سربراہان نے شرکت کی۔ اجلاس کے دوران انسدادِ پولیو مہم کے انتظامی و عملی اقدامات، ٹیموں کی تعیناتی، نگرانی کے نظام اور مہم کے مقررہ اہداف کے حصول کے حوالے سے تبادلہ خیال کیا گیا۔اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے ڈپٹی کمشنر استور میڈم نیلم علی نے کہا کہ انسدادِ پولیو ایک اہم قومی مہم ہے، جس کی کامیابی کے لیے تمام متعلقہ محکموں، محکمہ صحت، ضلعی انتظامیہ اور معاشرے کے ہر فرد کو اپنا کردار پوری ذمہ داری اور دیانت داری کے ساتھ ادا کرنا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ بچوں کو پولیو جیسے موذی مرض سے محفوظ رکھنا ہم سب کی مشترکہ ذمہ داری اور قومی فریضہ ہے، جس کے لیے اجتماعی کوششیں ناگزیر ہیں۔انہوں نے متعلقہ محکموں کے سربراہان پر زور دیا کہ وہ انسدادِ پولیو مہم کے دوران محکمہ صحت کے ساتھ مکمل تعاون کریں اور اس بات کو یقینی بنائیں کہ کوئی بھی بچہ پولیو سے بچاؤ کے حفاظتی قطروں سے محروم نہ رہے۔
اس سے قبل ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر استور ڈاکٹر عارف عباس نے اجلاس کو انسدادِ پولیو مہم کی تیاریوں، دستیاب وسائل، ٹیموں کی تشکیل اور مہم کے اہداف کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ دی۔ انہوں نے بتایا کہ مہم کے دوران ضلع بھر میں مجموعی طور پر 129 موبائل ٹیمیں تشکیل دی گئی ہیں، جو گھر گھر جا کر پانچ سال سے کم عمر بچوں کو پولیو سے بچاؤ کے قطرے پلائیں گی۔انہوں نے بتایا کہ بچوں تک رسائی کو آسان بنانے اور مہم کے دائرہ کار کو مؤثر بنانے کے لیے 31 فکسڈ سینٹرز اور چار ٹرانزٹ پوائنٹس بھی قائم کیے جائیں گے، جہاں بچوں کو پولیو سے بچاؤ کے قطرے پلانے کے انتظامات کیے جائیں گے۔ ان اقدامات کا مقصد مہم کے دوران زیادہ سے زیادہ بچوں تک رسائی حاصل کرنا اور حفاظتی قطروں کی فراہمی کو یقینی بنانا ہے۔ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر کے مطابق مہم کی مؤثر نگرانی اور ٹیموں کی کارکردگی کا جائزہ لینے کے لیے 10 یونین کونسل مانیٹرنگ افسران (یو سی ایم اوز) اور 36 ایریا انچارجز اپنے فرائض انجام دیں گے۔ نگرانی کے اس نظام کے تحت فیلڈ ٹیموں کی سرگرمیوں، بچوں کو حفاظتی قطرے پلانے کے عمل اور مہم کے مقررہ اہداف پر پیش رفت کا جائزہ لیا جائے گا۔انہوں نے مزید بتایا کہ ضلع استور میں اس مہم کے دوران مجموعی طور پر 14 ہزار 500 بچوں کو پولیو سے بچاؤ کے قطرے پلانے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔
محکمہ صحت اس ہدف کے حصول کے لیے تمام ضروری انتظامات مکمل کر رہا ہے، جبکہ ضلعی انتظامیہ اور دیگر متعلقہ محکموں کے تعاون سے مہم کو مؤثر اور کامیاب بنانے کی کوششیں کی جائیں گی۔اجلاس میں اس عزم کا اظہار کیا گیا کہ انسدادِ پولیو مہم کے دوران تمام متعلقہ ادارے باہمی رابطے اور اشتراکِ عمل کے ذریعے اپنی ذمہ داریاں ادا کریں گے تاکہ ضلع استور کے بچوں کو پولیو سے محفوظ بنانے کے لیے قومی مہم کے مقررہ اہداف حاصل کیے جا سکیں۔







