اقوامِ متحدہ نے سوڈان بھر میں شہریوں اور اہم بنیادی ڈھانچے پر مسلسل ڈرون حملوں کی شدید مذمت کی ہے۔ شنہوا کے مطابق اقوامِ متحدہ کے سیکرٹری جنرل کے ترجمان سٹیفن دوجارک نے گزشتہ روز بیان میں کہا ہے کہ ہم اتوار کو سوڈان کی ریاست کردفان کے علاقے الدبّاب (Al Dibab) میں بازار پر ڈرون حملے میں درجنوں شہریوں کی مبینہ ہلاکت کی مذمت کرتے ہیں۔ترجمان نے کہا کہ …
اقوامِ متحدہ کی سوڈان میں ڈرون حملوں میں شہریوں کی اموات کی مذمت

مزید خبریں
اقوام متحدہ۔21اکتوبر (اے پی پی):اقوامِ متحدہ نے سوڈان بھر میں شہریوں اور اہم بنیادی ڈھانچے پر مسلسل ڈرون حملوں کی شدید مذمت کی ہے۔ شنہوا کے مطابق اقوامِ متحدہ کے سیکرٹری جنرل کے ترجمان سٹیفن دوجارک نے گزشتہ روز بیان میں کہا ہے کہ ہم اتوار کو سوڈان کی ریاست کردفان کے علاقے الدبّاب (Al Dibab) میں بازار پر ڈرون حملے میں درجنوں شہریوں کی مبینہ ہلاکت کی مذمت کرتے ہیں۔ترجمان نے کہا کہ یہ حملہ ایک انتہائی تشویش ناک سلسلے کا حصہ ہے۔ انہوں نے ملک بھر میں مسلسل ڈرون حملوں اور ان کے نتیجے میں اہم بنیادی ڈھانچے کو پہنچنے والے نقصان پر گہری تشویش کا اظہار کیا۔
انہوں نے کہا کہ ان حملوں کے باعث ان آبادیوں کو تباہ کن نقصانات اٹھانا پڑ رہے ہیں جو پہلے ہی تین سال سے زائد عرصے سے جاری تنازع کے نتائج سے نبرد آزما ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سوڈان کے دارالحکومت خرطوم میں پیر کورہائشی علاقے پر ڈرون حملے میں دو سے چھ سال کی عمر کے تین بچے اور ان کے والد مبینہ طور پر ہلاک ہو گئے۔ ریاست دارفور کے دارالحکومت نیالا میں بھی پیر کو ڈرون حملے میں رہائشی مکان کو نشانہ بنایا گیا، جس سے شہریوں کی اموات ہوئیں اور آس پاس کے گھروں کو نقصان پہنچا۔ ترجمان نے بتایا کہ منگل کو ریاست وائٹ نیل کے قصبے تندلتی میں ڈرون حملوں سے مرکزی بجلی گھر کو نقصان پہنچا۔
انہوں نے کہا کہ ہم اس بات کا اعادہ کرتے ہیں کہ بین الاقوامی انسانی قانون کے مطابق شہریوں اور شہری تنصیبات کا تحفظ لازمی ہے۔ فوجی کارروائیوں کے دوران تمام فریقین کو شہریوں اور شہری املاک کو نقصان سے بچانے کے لیے مسلسل احتیاط برتنی چاہیے۔ ترجمان نے کہا کہ اقوامِ متحدہ سوڈان کی جنوبی سرحد کے پار ابیائی کے علاقے میں ہونے والے ڈرون حملوں کے سلسلے کی بھی مذمت کرتا ہے۔ ان حملوں میں پیر کو امیئت بازار اور توداچ کے مقامات پر 28 شہری ہلاک ہوئے جبکہ متعدد دیگر افراد زخمی ہوئے یا لاپتا ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کے ذاتی ایلچی پیکا ہاویستو اس وقت جنیوا میں موجود ہیں، جہاں وہ سوڈان میں امن کی کوششوں اور اقدامات کے درمیان رابطہ کاری بہتر بنانے سے متعلق چھٹے مشاورتی اجلاس میں شرکت کر رہے ہیں۔
اس اجلاس کا مقصد حالیہ پیش رفت کے بارے میں مشترکہ فہم پیدا کرنا اور تین سال سے زیادہ عرصے سے جاری خانہ جنگی کے خاتمے کے لیے حل تلاش کرنا ہے۔ اقوامِ متحدہ کے سیکرٹری جنرل کے ترجمان نے کہا کہ جنیوا اجلاس میں نہ تو سوڈانی حکومت کی نمائندگی ہوگی اور نہ ہی ریپڈ سپورٹ فورسز کی کیونکہ اس پلیٹ فارم اور طریقہ کار کے قیام کا مقصد ثالثوں کو اپنی کوششوں میں باہمی رابطہ اور ہم آہنگی پیدا کرنے کا موقع فراہم کرنا تھا۔







