جنوبی کوریا اور جاپان کی امریکا کے ساتھ جاری مشترکہ فوجی مشقیں جزیرہ نما کوریا اور شمال مشرقی ایشیا میں جنگ کے نئے خطرات پیدا کر رہی ہیں۔ شمالی کوریا کےسرکاری خبر رساں ادارے کورین سینٹرل نیوز ایجنسی (کے سی این اے) نے جاری تبصرے میں کہا کہ جنوبی کوریا کی فوج اور امریکی افواج نے پیر کو بڑے پیمانے پر فوجی مشقوں ’’ہوگوک‘‘ کا آغاز کیا، جو 30 اکتوبر …
جنوبی کوریا اور جاپان کی امریکا کے ساتھ جاری مشترکہ فوجی مشقیں خطےمیں جنگ کے نئے خطرات پیدا کر رہی ہیں،شمالی کوریا

مزید خبریں
پیانگ یانگ۔21اکتوبر (اے پی پی):جنوبی کوریا اور جاپان کی امریکا کے ساتھ جاری مشترکہ فوجی مشقیں جزیرہ نما کوریا اور شمال مشرقی ایشیا میں جنگ کے نئے خطرات پیدا کر رہی ہیں۔ شمالی کوریا کےسرکاری خبر رساں ادارے کورین سینٹرل نیوز ایجنسی (کے سی این اے) نے جاری تبصرے میں کہا کہ جنوبی کوریا کی فوج اور امریکی افواج نے پیر کو بڑے پیمانے پر فوجی مشقوں ’’ہوگوک‘‘ کا آغاز کیا، جو 30 اکتوبر تک جاری رہیں گی۔ جنوبی کوریا نے اعلان کیا ہے کہ ان مشقوں کے ذریعے زمینی، بحری اور فضائی شعبوں میں تعاون کو مزید فروغ دینے اور جنگی صورتحال کی عملی مشقوں کو تیز کرنے پر توجہ دی جائے گی۔
کے سی این اے نے جنوبی کوریا کے اس بیان کو فوجی مشقوں کی ’’جارحانہ اور اشتعال انگیز‘‘ نوعیت کا کھلا اعتراف قرار دیا۔تبصرے میں جاپان اور امریکا کی ایک اور بڑی مشترکہ فوجی مشق پر بھی تنقید کی گئی، جو پیر کو شروع ہوئی۔ ’’کین سوورڈ‘‘ کے نام سے ہونے والی ان مشقوں میں جوہری توانائی سے چلنے والا طیارہ بردار بحری جہاز یو ایس ایس تھیوڈور روزویلٹ اور اس کا اسٹرائیک گروپ حصہ لیں گے، جبکہ امریکا کا جدید بحری جہاز شکن میزائل نظام ’’این ایم ای ایس آئی ایس‘‘ پہلی مرتبہ جاپان میں تعینات کیا جائے گا۔
کے سی این اے کے مطابق جنوبی کوریا اور جاپان خطے کے دیگر ممالک اور شمالی کوریا کے خلاف ایک ’’پراکسی جنگ‘‘ میں صفِ اول کا کردار ادا کرنے جا رہے ہیں، جس کا مقصد ایشیا پیسیفک خطے میں نیٹو طرز کا اتحاد تشکیل دینا ہے۔مضمون میں کہا گیا کہ شمالی کوریا اپنی خودمختاری کے دفاع کے عزم کا اعادہ کرتا رہے گا اور اپنے دفاع کے لیے قابلِ اعتماد جنگی بازدار قوت کو مسلسل جدید بنانے، مضبوط کرنے اور ذمہ دارانہ انداز میں اس کا مظاہرہ کرنے کا سلسلہ جاری رکھے گا۔








