پشاور ہائیکورٹ نے سانحہ دیر کالونی متاثرین ، سکول کی چھت گرنے کے واقعے سے متعلق دائر درخواستوں پر جواب طلب کرلیا

پشاور ہائیکورٹ نے سانحہ دیر کالونی متاثرین ، سکول کی چھت گرنے کے واقعے سے متعلق دائر درخواستوں پر خیبر پختونخوا کے چیف سیکرٹری اور محکمہ تعلیم سمیت متعلقہ حکام کو نوٹس جاری کرتے ہوئے جواب طلب کر لیا ہے

پشاور۔ 21 اکتوبر (اے پی پی):پشاور ہائیکورٹ نے سانحہ دیر کالونی متاثرین ، سکول کی چھت گرنے کے واقعے سے متعلق دائر درخواستوں پر خیبر پختونخوا کے چیف سیکرٹری اور محکمہ تعلیم سمیت متعلقہ حکام کو نوٹس جاری کرتے ہوئے جواب طلب کر لیا ہے۔درخواستوں میں واقعے کی وجوہات معلوم کرنے کے لیے جوڈیشل کمیشن بنانے، جاں بحق طلبہ اور خاتون ٹیچر کے لواحقین کو شہدا پیکیج دینے اور زخمی طلبہ کو مفت طبی سہولیات سمیت معاوضہ فراہم کرنے کی استدعا کی گئی ہے۔ کیس کی سماعت جسٹس سید ارشد علی اور جسٹس فرح جمشید پر مشتمل بنچ نے کی، عدالت نے چیف سیکرٹری خیبر پختونخوا، سیکرٹری ایلیمنٹری اینڈ سیکنڈری ایجوکیشن، پرائیویٹ سکول ریگولیٹری اتھارٹی، سیکرٹری ورکس اینڈ سروسز، سیکرٹری فنانس اور لینڈ یوز اینڈ بلڈنگ اتھارٹی سمیت متعلقہ فریقین سے جواب طلب کیا ہے۔ درخواست گزاروں کے وکیل نے عدالت سے استدعا کی کہ سکول کی چھت گرنے کے واقعے کی وجوہات معلوم کرنے اور ذمہ داران کا تعین کرنے کے لیے جوڈیشل کمیشن قائم کیا جائے۔درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا کہ واقعے کی شفاف تحقیقات ضروری ہیں تاکہ یہ معلوم ہو سکے کہ سکول کی عمارت کی تعمیر، منظوری، رجسٹریشن اور حفاظتی انتظامات میں کسی قسم کی کوتاہی ہوئی یا نہیں۔

وکیل نے عدالت سے یہ بھی درخواست کی کہ اگر تحقیقات میں غفلت ثابت ہو تو ذمہ دار سکول مالکان، انتظامیہ اور متعلقہ حکام کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے۔درخواست گزاروں کے وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ سانحے میں جاں بحق ہونے والے طلبہ اور خاتون ٹیچر کے اہل خانہ کو شہدا پیکیج فراہم کیا جائے، اس کے علاوہ زخمی طلبہ کو مفت طبی سہولیات اور مناسب معاوضہ دینے کی بھی استدعا کی گئی۔درخواست میں کہا گیا کہ متاثرہ خاندانوں کی معاونت کے ساتھ ساتھ ایسے اقدامات بھی ضروری ہیں جن سے مستقبل میں تعلیمی اداروں میں اس نوعیت کے حادثات کی روک تھام ممکن ہو سکے درخواست گزاروں نے عدالت سے استدعا کی کہ صوبے بھر کے سرکاری اور نجی سکولوں کی عمارتوں کا اسٹرکچرل اور فائر سیفٹی آڈٹ کرایا جائے۔وکیل کے مطابق، غیر محفوظ عمارتوں کی نشاندہی کرکے انہیں مرمت اور حفاظتی اقدامات مکمل ہونے تک استعمال سے روکنے کے احکامات جاری کیے جائیں، تاکہ طلبہ اور تدریسی عملے کی جانوں کو خطرات سے بچایا جا سکے۔درخواست میں صوبے کے تعلیمی اداروں کے لیے محفوظ سکولوں کی پالیسی اور عمارتوں کے لازمی حفاظتی معیار پر مؤثر عمل درآمد یقینی بنانے کی استدعا بھی کی گئی۔

درخواست گزاروں کے وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ سکولوں کی عمارتوں کی حفاظت یقینی نہ بنانا آئین کے آرٹیکلز 4، 9، 14، 25 اور 25 اے کے تحت شہریوں کے حقوق سے متعلق سوالات پیدا کرتا ہے۔درخواست میں متعلقہ حکام سے تعلیمی اداروں کی عمارتوں کی حفاظت یقینی بنانے اور غفلت ثابت ہونے کی صورت میں ذمہ دار افراد کے خلاف فوجداری اور محکمانہ کارروائی کرنے کی استدعا کی گئی۔