حکومتِ خیبر پختونخوا نے صوبے میں انتظامی امور کی مؤثر انجام دہی، سرکاری مشینری کے درمیان بہتر رابطہ کاری اور عوامی خدمات کے تسلسل کو یقینی بنانے کے لیے ایریا ڈویلپمنٹ سیکرٹریٹ (اے ڈی ایس) کے قیام اور اس کے عملی امور کی انجام دہی کے سلسلے میں اہم انتظامی اقدامات کی منظوری دے دی ہے
حکومت خیبر پختونخواکی انتظامی ڈھانچے کی تنظیمِ نواور ایریا ڈویلپمنٹ سیکرٹریٹ کے قیام کی منظوری، مختلف محکموں کے 30 افسران کی عارضی تعیناتی کا فیصلہ

مزید خبریں
پشاور۔ 21 اکتوبر (اے پی پی):حکومتِ خیبر پختونخوا نے صوبے میں انتظامی امور کی مؤثر انجام دہی، سرکاری مشینری کے درمیان بہتر رابطہ کاری اور عوامی خدمات کے تسلسل کو یقینی بنانے کے لیے ایریا ڈویلپمنٹ سیکرٹریٹ (اے ڈی ایس) کے قیام اور اس کے عملی امور کی انجام دہی کے سلسلے میں اہم انتظامی اقدامات کی منظوری دے دی ہے۔محکمہ انسانی وسائل و انتظامی امور خیبر پختونخوا کی جانب سے جاری کردہ نوٹیفکیشن کے مطابق مجاز حکام کی منظوری اور وفاقی حکومت کے متعلقہ احکامات کی روشنی میں مختلف صوبائی محکموں سے افسران کی عارضی منتقلی اور ایریا ڈویلپمنٹ سیکرٹریٹ میں تعیناتی کے انتظامات کئے گئے ہیں، جن کا مقصد نامزد اضلاع میں انتظامی امور کو منظم انداز میں آگے بڑھانا اور سرکاری خدمات کی فراہمی میں تسلسل برقرار رکھنا ہے۔ نوٹیفکیشن کے مطابق ایریا ڈویلپمنٹ سیکرٹریٹ صوبائی حکومت کی جانب سے نامزد اضلاع کیلئے قائم کیا گیا انتظامی فورم ہوگا، جس کی سربراہی ایڈیشنل چیف سیکرٹری/ایڈمنسٹریٹر کریں گے۔ اس انتظامی بندوبست کے تحت مختلف صوبائی محکموں سے مجموعی طور پر 30 افسران کی آسامیاں عارضی طور پر ایریا ڈویلپمنٹ سیکرٹریٹ کو منتقل کی جائیں گی، جن میں گریڈ 20 کے پانچ اسپیشل سیکرٹریز، گریڈ 18 کے دس ڈپٹی سیکرٹریز اور گریڈ 17 کے پندرہ سیکشن افسران شامل ہیں۔
ان افسران کے ساتھ متعلقہ دفتری، وزارتی اور معاون عملہ بھی دستیاب رہے گا تاکہ دفتری امور کی انجام دہی، انتظامی معاونت اور سرکاری ذمہ داریوں کی تکمیل میں کسی قسم کا تعطل پیدا نہ ہو۔ جاری کردہ نوٹیفکیشن کے تحت پانچ اسپیشل سیکرٹریز کی آسامیاں محکمہ انسانی وسائل و انتظامی امور، محکمہ قانون، محکمہ ابتدائی و ثانوی تعلیم، محکمہ داخلہ اور محکمہ صحت سے عارضی طور پر ایریا ڈویلپمنٹ سیکرٹریٹ کو منتقل کی جائیں گی۔ اسی طرح دس ڈپٹی سیکرٹریز کی آسامیاں محکمہ ماحولیات، محکمہ ابتدائی و ثانوی تعلیم، محکمہ توانائی و برقیات، محکمہ خزانہ، محکمہ داخلہ اور محکمہ زکوٰۃ، عشر و سماجی بہبود سے منسلک ہوں گی جبکہ پندرہ سیکشن افسران کی آسامیاں محکمہ زراعت، محکمہ خزانہ، محکمہ اعلیٰ تعلیم، محکمہ داخلہ، محکمہ ابتدائی و ثانوی تعلیم، محکمہ ثقافت، محکمہ زکوٰۃ، عشر و سماجی بہبود، محکمہ توانائی و برقیات، محکمہ معدنیات اور محکمہ منصوبہ بندی و ترقیات و بین الصوبائی رابطہ سے متعلق ہوں گی۔ نوٹیفکیشن میں واضح کیا گیا ہے کہ ایریا ڈویلپمنٹ سیکرٹریٹ میں تعینات کیے جانے والے گریڈ 20 کے پانچ اسپیشل سیکرٹریز کو حکومت کے سیکرٹریز کے طور پر نامزد کیا جائے گا۔ یہ افسران ایڈیشنل چیف سیکرٹری/ایڈمنسٹریٹر کی جانب سے تفویض کردہ امور کے حوالے سے متعلقہ سیکرٹریز کے اختیارات استعمال کریں گے اور اپنی ذمہ داریاں انجام دیں گے۔
سیکرٹریز اور دیگر افسران کے درمیان کام کی تقسیم، ذمہ داریوں کے تعین اور دفتری امور کی تنظیم کا اختیار ایڈیشنل چیف سیکرٹری/ایڈمنسٹریٹر کے پاس ہوگا تاکہ انتظامی معاملات واضح دائرۂ کار کے تحت آگے بڑھ سکیں۔ سرکاری امور کی مؤثر انجام دہی کے لیے نوٹیفکیشن میں یہ بھی طے کیا گیا ہے کہ ایریا ڈویلپمنٹ سیکرٹریٹ میں تعینات افسران کے لیے سول سیکرٹریٹ پشاور کے منسٹرز بلاک میں پہلے سے دستیاب وزارتی سوئٹس نمبر 12، 13، 14 اور 15 استعمال کیے جائیں گے۔ ڈپٹی سیکرٹریز اور سیکشن افسران اپنے موجودہ دفاتر، فرنیچر، دفتری آلات، معاون عملے اور دیگر دستیاب سہولیات کے ذریعے مزید احکامات تک اپنے فرائض انجام دیتے رہیں گے۔ اسی طرح افسران کو پہلے سے فراہم کردہ سرکاری گاڑیاں اور ان سے متعلقہ سہولیات بھی برقرار رہیں گی، جبکہ متعلقہ محکموں کو موجودہ رہائشی، سفری، مواصلاتی، دفتری اور دیگر انتظامی انتظامات کے تسلسل کو یقینی بنانے کی ہدایت کی گئی ہے۔ انتظامی امور کے ساتھ ساتھ مالیاتی معاملات کی تنظیم کے لیے محکمہ خزانہ کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ ایریا ڈویلپمنٹ سیکرٹریٹ اور متعلقہ انتظامی محکموں کی مشاورت سے ضروری مالیاتی انتظامات کرے۔ ان میں متعلقہ اکاؤنٹس ہیڈز کی نشاندہی، بجٹ میں ضروری ردوبدل، تنخواہوں اور الاؤنسز کے لیے فنڈز کی فراہمی، عملی اخراجات کی منظوری، ترقیاتی اخراجات سے متعلق انتظامات اور ڈرائنگ اینڈ ڈسبرسنگ افسران کے تعین جیسے امور شامل ہیں۔
تمام اخراجات متعلقہ مالیاتی قواعد و ضوابط اور مقررہ طریقۂ کار کے مطابق کیے جائیں گے، جبکہ اضافی انسانی وسائل، دفتری سامان، ٹرانسپورٹ اور دیگر انتظامی ضروریات کا جائزہ مجاز منظوری کے تحت ضرورت کے مطابق لیا جائے گا۔ نوٹیفکیشن میں سرکاری ملازمین کے حقوق اور سروس اسٹیٹس کے تحفظ کو بھی ملحوظِ خاطر رکھا گیا ہے۔ اس کے مطابق مذکورہ عارضی انتظامات سے افسران کی بنیادی ملازمتی حیثیت، سینیارٹی، پنشن کے حقوق یا دیگر قابلِ اطلاق مراعات متاثر نہیں ہوں گی۔ منتقل کی جانے والی آسامیاں اپنے متعلقہ بنیادی محکموں کے ساتھ منسلک اور قابلِ شناخت رہیں گی تاکہ مستقبل میں ضرورت کے مطابق ان کی واپسی یا مناسب انتظامی ایڈجسٹمنٹ ممکن ہو سکے۔ اس اقدام کا مقصد انتظامی ضروریات پوری کرنے کے ساتھ ساتھ سرکاری ملازمین کے جائز سروس حقوق اور ادارہ جاتی تسلسل کو برقرار رکھنا ہے۔ محکمہ انسانی وسائل و انتظامی امور، محکمہ خزانہ، محکمہ انتظامیہ، ایریا ڈویلپمنٹ سیکرٹریٹ اور دیگر متعلقہ محکموں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ اس نوٹیفکیشن پر عمل درآمد کے لیے باہمی رابطہ کاری کو یقینی بنائیں اور ضروری کارروائی بلا تاخیر مکمل کریں۔ ان انتظامات پر عمل درآمد کی مجموعی نگرانی محکمہ انسانی وسائل و انتظامی امور کرے گا، جبکہ تمام متعلقہ انتظامی محکمے اور منسلک ادارے اپنی ذمہ داریوں کے مطابق ضروری اقدامات کریں گے۔ حکومتِ خیبر پختونخوا کی جانب سے جاری کردہ نوٹیفکیشن کے مطابق یہ انتظامات فوری طور پر نافذ العمل ہوں گے اور مزید احکامات تک برقرار رہیں گے۔
مجاز اتھارٹی کو مروجہ آئینی اور انتظامی ضوابط کے تحت ان میں ترمیم کرنے یا انہیں واپس لینے کا اختیار حاصل ہوگا۔ اس انتظامی پیش رفت کے ذریعے صوبائی حکومت نے نامزد اضلاع میں سرکاری امور کی تنظیم، مختلف محکموں کے درمیان رابطہ کاری اور انتظامی ذمہ داریوں کی مؤثر انجام دہی کے لیے ایک باقاعدہ ادارہ جاتی بندوبست وضع کیا ہے۔







