پاکستان کااقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں خلیجی جنگ کے دوران لاپتا ہونے والے افراد کی تلاش اور شناخت کے عمل کوتیز کرنے پر زور

پاکستان نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل پر زور دیا ہے کہ 1990 میں عراق کے کویت پر حملے کے بعد سے لاپتا کویتی شہریوں کی شناخت اور ان کے انجام کا تعین کرنے کے لیے کوششیں تیز کی جائیں تاکہ کئی دہائیوں سے اپنے پیاروں کے منتظر خاندانوں کو ذہنی سکون مل سکے۔اقوام متحدہ میں پاکستان کے قائم مقام مستقل مندوب عثمان جدون نے سلامتی کونسل کے اجلاس سے …

اقوام متحدہ ۔27اکتوبر (اے پی پی):پاکستان نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل پر زور دیا ہے کہ 1990 میں عراق کے کویت پر حملے کے بعد سے لاپتا کویتی شہریوں کی شناخت اور ان کے انجام کا تعین کرنے کے لیے کوششیں تیز کی جائیں تاکہ کئی دہائیوں سے اپنے پیاروں کے منتظر خاندانوں کو ذہنی سکون مل سکے۔اقوام متحدہ میں پاکستان کے قائم مقام مستقل مندوب عثمان جدون نے سلامتی کونسل کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ رپورٹ کے زیر جائزہ عرصے کے دوران کسی نئے لاپتا شخص کی شناخت نہ ہونا باعث تشویش ہے۔

انہوں نے کہا کہ 91۔ 1990 کے المناک واقعات کے طویل انسانی اثرات ختم کرنے کے لیے لاپتا کویتی شہریوں اور تیسرے ممالک کے شہریوں کے انجام کا تعین، ان کی باقیات اہل خانہ کے حوالے کرنے اور کویتی املاک کی واپسی کے لیے فوری اقدامات ضروری ہیں۔انہوں نے عراق اور کویت کی جانب سے باہمی احترام کے عزم کا خیرمقدم کرتے ہوئے امید ظاہر کی کہ یہ مثبت پیش رفت لاپتا افراد کی تلاش، املاک اور سرکاری دستاویزات کی واپسی کے عمل کو آگے بڑھانے میں اہم بنیاد ثابت ہوگی۔عثمان جدون نے کہا کہ اپنے پیاروں کے انجام سے آگاہی کے لیے کئی دہائیوں سے منتظر خاندانوں کے لیے ہر قابلِ اعتماد اطلاع نئی امید پیدا کرتی ہے۔

ان کے مطابق یہ دیرینہ انسانی مسئلہ ٹھوس اور تیز تر کوششوں کا تقاضا کرتا ہے۔ انہوں نے پیش رفت نہ ہونے پر مایوسی کو تسلیم کرتے ہوئے کہا کہ کئی دہائیوں پر محیط تلاش میں مشکلات اور تکنیکی پیچیدگیاں بھی درپیش ہیں۔پاکستانی مندوب نے اس بات پر بھی زور دیا کہ کویتی املاک، بالخصوص قومی آرکائیوز اور تاریخی ریکارڈ کی تلاش اور واپسی کو ترجیح دی جانی چاہیے۔

 

مزید خبریں