اسلام آباد ماڈل جیل کا منصوبہ مکمل،سیاسی قیدیوں سمیت اسلام آبادکے تمام قیدیوں کو نئی جیل میں منتقل کیا جائے گا، وزیراعظم جلد افتتاح کریں گے، وزیر داخلہ محسن نقوی

وفاقی دارالحکومت میں گزشتہ 17 برس سے تعطل کا شکار اسلام آباد ماڈل جیل کا جدید منصوبہ بالآخر مکمل کر لیا گیا ہے جس کے پہلے مرحلے میں 1500 سے 1800 قیدیوں کو رکھنے کی گنجائش بنائی گئی ہے، اس کا باقاعدہ افتتاح آئندہ چند روز میں وزیراعظم پاکستان کریں گے

اسلام آباد۔27اکتوبر (اے پی پی):وفاقی دارالحکومت میں گزشتہ 17 برس سے تعطل کا شکار اسلام آباد ماڈل جیل کا جدید منصوبہ بالآخر مکمل کر لیا گیا ہے جس کے پہلے مرحلے میں 1500 سے 1800 قیدیوں کو رکھنے کی گنجائش بنائی گئی ہے، اس کا باقاعدہ افتتاح آئندہ چند روز میں وزیراعظم پاکستان کریں گے۔ وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری کے ہمراہ نوتعمیر شدہ ماڈل جیل کا تفصیلی دورہ کیا اور تمام تر انتظامی و تعمیراتی انتظامات کا معائنہ کیا۔ اس موقع پر چیئرمین سی ڈی اے، آئی جی اسلام آباد پولیس، ڈی سی اسلام آباد اور دیگر اعلیٰ حکام بھی وفاقی وزراء کے ہمراہ موجود تھے۔

دورے کے دوران وزیر داخلہ نے جیل ہسپتال، ڈینٹل یونٹ، آپریشن تھیٹر، آٹومیٹک روٹی پلانٹ، کچن، میس، بیرکس، سیلز اور قیدیوں کے لیے بنائے گئے ملاقاتی ایریاز کا تفصیلی جائزہ لیا۔ محسن نقوی نے جیل میس میں قیدیوں کے لیے تیار کردہ کھانا خود کھا کر معیار کو چیک کیا اور فراہم کی گئی سہولیات پر اطمینان کا اظہار کیا۔ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وفاقی وزیر نے بتایا کہ منصوبے پر ابتدائی کام 2009ء اور باقاعدہ تعمیر 2016ء میں شروع ہوئی تھی تاہم سال 2024ء میں جب انہوں نے جائزہ لیا تو یہ صرف 40 سے 50 فیصد تک بنا ہوا تھا۔ انہوں نے قلیل مدت میں کام مکمل کرنے پر طلال چوہدری، وزارت داخلہ، سی ڈی اے اور اسلام آباد پولیس کی دن رات کی کاوشوں کو سراہا۔وزیر داخلہ نے بتایا کہ اگلے فیز کی تکمیل کے بعد جیل میں قیدیوں کی گنجائش 3 سے 4 ہزار سے تجاوز کر جائے گی۔ وزیراعظم کے افتتاح کے فوری بعد اڈیالہ جیل میں قید اسلام آباد کی عدالتوں کے تمام قیدیوں کو مرحلہ وار یہاں منتقل کیا جائے گا۔ سیاسی قیدیوں کی منتقلی کے حوالے سے انہوں نے واضح کیا کہ اسلام آباد کی عدالتوں کے دائرہ اختیار میں آنے والے تمام قیدی اس نئی جیل میں منتقل ہوں گے۔ انہوں نے مزید کہا کہ جیل کو بین الاقوامی معیار کے مطابق فیس ریکگنیشن اور سخت ڈیجیٹل مانیٹرنگ سسٹم سے لیس کیا گیا ہے تاکہ منشیات اور ممنوعہ اشیاء کا داخلہ روکا جا سکے جبکہ عملے کے اثر و رسوخ کے خاتمے کے لیے تعیناتیاں ڈیپوٹیشن پر رکھی گئی ہیں۔