امریکی سپریم کورٹ، کیلیفورنیا میں ڈاک کے ذریعے موصول 20 ہزار ووٹوں کی گنتی روکنے کی وائٹ ہاؤس کی درخواست مسترد

امریکی سپریم کورٹ نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ کی جانب سے ریاست کیلیفورنیا میں ڈاک کے ذریعے موصول ہونے والے 20 ہزار سے زائد ووٹوں کی گنتی عارضی طور پر روکنے کی ہنگامی درخواست مسترد کر دی ، یہ ووٹ مبینہ طور پر ایسے افراد کے ڈالے جانے کا دعویٰ کیا گیا تھا جو امریکی شہری نہیں ۔شنہوا کے مطابق سپریم کورٹ نے پیر کو یہ فیصلہ امریکی وسط …

واشنگٹن ۔3نومبر (اے پی پی):امریکی سپریم کورٹ نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ کی جانب سے ریاست کیلیفورنیا میں ڈاک کے ذریعے موصول ہونے والے 20 ہزار سے زائد ووٹوں کی گنتی عارضی طور پر روکنے کی ہنگامی درخواست مسترد کر دی ، یہ ووٹ مبینہ طور پر ایسے افراد کے ڈالے جانے کا دعویٰ کیا گیا تھا جو امریکی شہری نہیں ۔شنہوا کے مطابق سپریم کورٹ نے پیر کو یہ فیصلہ امریکی وسط مدتی انتخابات کے لیے پولنگ شروع ہونے سے چند گھنٹے قبل سنایا۔

امریکی محکمہ انصاف نے اسی روز عدالت عظمیٰ سے ہنگامی مداخلت کی درخواست کی تھی۔محکمہ انصاف نے 15 اکتوبر کو کیلیفورنیا کے انتخابی حکام کے خلاف مقدمہ دائر کرتے ہوئے دعویٰ کیا تھا کہ ریاست میں 20 ہزار سے زائد ایسے ممکنہ غیر شہری ووٹرز رجسٹرڈ ہیں۔ محکمے نے مطالبہ کیا تھا کہ فراہم کردہ فہرست میں شامل افراد کے ناموں اور شہریت کی تصدیق کی جائے اور تصدیق مکمل ہونے تک ان کے ڈاک کے ذریعے ڈالے گئے ووٹوں کی گنتی روک دی جائے۔

صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر قائم مقام امریکی نائب اٹارنی جنرل ٹرینٹ میک کوٹر کا خط بھی شیئر کیا جس میں کہا گیا کہ وفاقی انتخابات میں غیر شہریوں کو جان بوجھ کر ووٹ ڈالنے کی سہولت فراہم کرنا غیر قانونی ہے۔ ٹرمپ نے کیلیفورنیا کے انتخابی حکام کو جیل بھیجنے کی دھمکی بھی دی۔رپورٹ کے مطابق اس سے قبل متعدد وفاقی جج محکمہ انصاف کی درخواستیں مسترد کرتے ہوئے انہیں غیر آئینی قرار دے چکے ہیں۔

دوسری جانب لاس اینجلس ٹائمز نے رپورٹ کیا تھا کہ محکمہ انصاف کی جانب سے فراہم کردہ فہرست میں ناموں کی تصدیق کا طریقہ کار شفاف اور قابل اعتماد نہیں تھا اس لیے صرف غیر مصدقہ ریکارڈ کی بنیاد پر ووٹ مسترد کرنا ممکن نہیں ۔کیلیفورنیا کے گورنر گیون نیوسم نے خدشہ ظاہر کیا کہ وفاقی حکومت ووٹوں اور دیگر انتخابی مواد کے حصول کے لیے تلاشی کے وارنٹ حاصل کرنے کی کوشش بھی کر سکتی ہے جس سے ریاست میں ووٹوں کی گنتی اور انتخابی نتائج کی حتمی توثیق کا عمل متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔