ڈی جی آئی ایس پی آرمیجر جنرل آصف غفور کی آپریشن ردالفساد اور مشرقی و مغربی سرحد پر سکیورٹی صورتحال کے حوالے سے میڈیا کوبریفنگ

راولپنڈی۔ 28 دسمبر (اے پی پی ) پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ(آئی ایس پی آر) کے ڈائریکٹر جنرل ‘میجر جنرل آصف غفور نے کہا ہے کہ کلبھوشن کی اہل خانہ کے ساتھ ملاقات کے لیے کوئی دباو نہیں تھا اس ملاقات کی اجازت انسانی ہمدردی کی بنیاد پر دی گئی‘کلبھوشن کی رحم کی اپیل آرمی چیف کے پاس ہے ‘ملاقات کا اپیل کے فیصلے پر کوئی اثر نہیں پڑے …

راولپنڈی۔ 28 دسمبر (اے پی پی ) پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ(آئی ایس پی آر) کے ڈائریکٹر جنرل ‘میجر جنرل آصف غفور نے کہا ہے کہ کلبھوشن کی اہل خانہ کے ساتھ ملاقات کے لیے کوئی دباو نہیں تھا اس ملاقات کی اجازت انسانی ہمدردی کی بنیاد پر دی گئی‘کلبھوشن کی رحم کی اپیل آرمی چیف کے پاس ہے ‘ملاقات کا اپیل کے فیصلے پر کوئی اثر نہیں پڑے گا ‘پاکستان نے حقانی نیٹ ورک سمیت تمام گروپوں کے خلاف بلا تفریق کارروائی کی ہے، امریکا اور افغان حکام ہمارے تعاون سے بخوبی آگاہ ہیں اور حقانی نیٹ ورک کے خلاف کارروائی نہ کرنے کا امریکی موقف کارآمد نہیں‘افواج پاکستان دوستوں کے ساتھ مل کر کام کررہی ہیں اور کرنا چاہتی ہیں لیکن عزت پر سمجھوتہ نہیں کرسکتے، ہم کسی بھی طرح کا تصادم نہیں چاہتے، ہم دوستوں سے تنازع نہیں چاہتے، پاکستان کا تحفظ یقینی بنائیں گے‘رواں سال 7 بڑے دہشت گرد نیٹ ورک توڑے گئے اور خودکش حملہ آوروں کو گرفتار کیا گیا جن میں زیادہ تر افغانی خودکش حملہ آور شامل ہیں ‘مجموعی طور پر 483 دہشت گردی کے منصوبے ناکام بنائے گئے۔وہ جمعرات کو آئی ایس پی آر میں ملک کی مجموعی سلامتی کی صورتحال ‘آپریشن ردالفساد اور مشرقی و مغربی سرحد پر سکیورٹی صورتحال کے حوالے ذرائع ابلاغ کو بریفنگ دے رہے تھے ۔ ڈی جی آئی ایس پی آر میجر جنرل آصف غفور نے حال ہی میں امریکا کی جانب سے دی گئی دھمکی پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ ہم کس طرح کے اتحادی ہیں ہمیں نوٹس دیئے جارہے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ ہم نے دہشت گردی کا بھرپور مقابلہ کیا اور اپنی سرزمین پر موجود دہشت گردوں کی پناہ گاہوں کا بلا تفریق صفایا کیا، یہ ایک مشکل سفر تھا لیکن قوم اور فوج نے یک جان ہوکر یہ فریضہ انجام دیا، لیکن خطرات ابھی ٹلے نہیں‘دہشت گردی کے خلاف جنگ ہم نے اپنے مفاد میں لڑی، کسی ملک کے کہنے پر ڈو مور نہیں کرسکتے۔

مزید خبریں

Leave a Reply