وزیراعظم کے مشیر برائے قومی تاریخ و ادبی ورثہ عرفان صدیقی کی اے پی پی سے گفتگو

اسلام آباد۔ 14 جنوری:وزیراعظم کے مشیر برائے قومی تاریخ و ادبی ورثہ عرفان صدیقی نے کہا ہے کہ پاکستان اکادمی ادبیات کے دفاتر ملتان، گلگت، فاٹا، دادو اور مظفر آباد کے دور افتادہ علاقوں تک وسعت ملنے سے ادبی سرگرمیوں کے فروغ اور مقامی ادبی شخصیات کی کاوشوں کے اعتراف میں مدد ملے گی۔ پاکستان اکادمی ادبیات کے 1976ءمیں قیام کے بعد سے اس کے دفاتر وفاق اور صوبائی دارالحکومتوں …

اسلام آباد۔ 14 جنوری:وزیراعظم کے مشیر برائے قومی تاریخ و ادبی ورثہ عرفان صدیقی نے کہا ہے کہ پاکستان اکادمی ادبیات کے دفاتر ملتان، گلگت، فاٹا، دادو اور مظفر آباد کے دور افتادہ علاقوں تک وسعت ملنے سے ادبی سرگرمیوں کے فروغ اور مقامی ادبی شخصیات کی کاوشوں کے اعتراف میں مدد ملے گی۔ پاکستان اکادمی ادبیات کے 1976ءمیں قیام کے بعد سے اس کے دفاتر وفاق اور صوبائی دارالحکومتوں تک محدود تھے تاہم اسلام آباد، پشاور، لاہور، کراچی اور کوئٹہ کے بعد پاکستان اکادمی ادبیات کے دفاتر ملتان، گلگت، دادو، فاٹا اور مظفر آبادمیں قائم کئے جا رہے ہیں۔ اتوار کو ”اے پی پی“ سے گفتگوکرتے ہوئے وزیراعظم کے مشیر عرفان صدیقی نے کہا کہ پاکستان اکادمی ادبیات کا عارضی دفتر قبل ازیں ملتان میں قائم کیا گیا ہے جبکہ مستقل دفتر کا قیام آئندہ مالی سال کے بجٹ میں زمین کی خریداری کے لئے فنڈز کی تخصیص کے بعد عمل میں لایا جائے گا۔

مزید خبریں