اسلام آباد۔ 08 فروری (اے پی پی) وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی نے کہا ہے کہ سول اور عسکری تعلقات معمول پر ہیں اور پالیسی معاملات پر کوئی اختلاف نہیں‘ دونوں اطراف قومی سلامتی کمیٹی کے اجلاسوں میں متفقہ فیصلے کر رہے ہیں‘ قومی سلامتی کمیٹی کے اجلاس میں اہم امور پر سیرحاصل اور طویل گفتگو ہوتی ہے جس سے قومی امور کو حل کرنے میں مدد ملتی ہے‘حکومت نے …
وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی کا نجی ٹی وی چینل کو انٹرویو

مزید خبریں
اسلام آباد۔ 08 فروری (اے پی پی) وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی نے کہا ہے کہ سول اور عسکری تعلقات معمول پر ہیں اور پالیسی معاملات پر کوئی اختلاف نہیں‘ دونوں اطراف قومی سلامتی کمیٹی کے اجلاسوں میں متفقہ فیصلے کر رہے ہیں‘ قومی سلامتی کمیٹی کے اجلاس میں اہم امور پر سیرحاصل اور طویل گفتگو ہوتی ہے جس سے قومی امور کو حل کرنے میں مدد ملتی ہے‘حکومت نے فاٹا اصلاحات پر قانون سازی کی‘ خودکار اسلحے کے لائسنسوں کے حصول پر پابندی عائد کی ‘اس وقت حکومت ٹیکس اصلاحات پر کام کر رہی ہے جس کا مقصد نہ صرف ریونیو میں اضافہ ہے بلکہ لوگوں کو ذمہ دار شہری بھی بنانا ہے۔ جمعرات کو ایک نجی ٹی وی چینل کو دیئے گئے ایک انٹرویو کے دوران انہوں نے کہا کہ تحفظات ہمیشہ ہو سکتے ہیں اور دنیا بھر میں ایسا ہوتا ہے‘ سول اور عسکری سطح پر تعلق بہتر ہو رہا ہے اور یہ سفر آگے کی طرف جاری رہے گا۔ ایک سوال کے جواب میں وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ سول ملٹری تعلقات پر محمود خان اچکزئی کی رائے ان کی اپنی ہے۔ انہوں نے کہا کہ میں نے اپنے سیاسی کیریئر کے دوران مسلم لیگ (ن) سے اپنی سیاسی وفاداری تبدیل کی اور نہ ہی کبھی ایسا سوچا۔ انہوں نے کہا کہ جنہوں نے ماضی میں پارٹی کو چھوڑا اگر وہ پارٹی میں رہتے تو ہو سکتا ہے کہ پارٹی کے اندر انہوں نے زیادہ بہتر مقام حاصل کیا ہوتا وہ لوگ جنہوں نے پارٹی کو چھوڑ دیا تھا انہیں واپس قبول کرنا پارٹی کا فیصلہ ہے۔








