وزیر مملکت اطلاعات و نشریات مریم اورنگزیب کی الیکشن کمیشن میں کیس کی سماعت کے بعد میڈیا سے گفتگو

اسلام آباد ۔ 14 مارچ (اے پی پی) وزیر مملکت اطلاعات، نشریات، قومی تاریخ و ادبی ورثہ مریم اورنگزیب نے سینیٹ الیکشن میں ہارس ٹریڈنگ کے حوالہ سے الیکشن کمیشن آف پاکستان میں کیس کی سماعت کے بعد بدھ کو میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس حوالہ سے تحقیقات کرنا الیکشن کمیشن کی ذمہ داری ہے۔ انہوں نے کہا کہ آئین کی آرٹیکل 218 کی ذیلی شق …

اسلام آباد ۔ 14 مارچ (اے پی پی) وزیر مملکت اطلاعات، نشریات، قومی تاریخ و ادبی ورثہ مریم اورنگزیب نے سینیٹ الیکشن میں ہارس ٹریڈنگ کے حوالہ سے الیکشن کمیشن آف پاکستان میں کیس کی سماعت کے بعد بدھ کو میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس حوالہ سے تحقیقات کرنا الیکشن کمیشن کی ذمہ داری ہے۔ انہوں نے کہا کہ آئین کی آرٹیکل 218 کی ذیلی شق 3 الیکشن کمیشن کو یہ بھی اختیار دیتی ہے کہ وہ بدعنوانی سے پاک شفاف اور آزادانہ انتخابات کو یقینی بنائے اور آئین کا آرٹیکل 220 الیکشن کمیشن کو یہ اختیار دیتا ہے کہ وہ اپنی ذمہ داریاں پوری کرنے کےلئے قانون نافذ کرنے والے اداروں، انٹیلی جنس ایجنسیوں سمیت انتظامیہ سے معاونت لے۔ انہوں نے کہا کہ الیکشن ایکٹ 2017ءکی شق 219 کی ذیلی شق 5 بی بھی الیکشن کمیشن پر اسی طرح کی ذمہ داریوں کی عکاس ہے۔ انہوں نے کہا کہ سینٹ کا انتخاب ان ڈائریکٹ الیکشن ہے اور جب کسی امیدوار کی جماعت الیکٹوریٹ (صوبائی اسمبلی) سے اپنی نمائندگی کے برعکس زیادہ ووٹ حاصل کرتی ہے تو قدرتی طور پر یہ سمجھا جاتا ہے کہ صوبائی اسمبلی کے اراکین نے اپنی پارٹی پالیسی کے خلاف ووٹ دیا ہے اور بالخصوص اس طرح کے ارکان کی شناخت ان کی پارٹی بھی نہیں کر سکتی اور یہی کچھ سینٹ انتخابات میں بھی ہوا۔ وزیر مملکت نے کہا کہ ووٹنگ کے فارمولہ اور پارٹی پوزیشن کی روشنی میں الیکشن کمیشن آف پاکستان کو چاہئے کہ وہ انتخاب جیتنے والے امیدواروں سے پوچھے کہ انہوں نے دیگر جماعتوں کے ارکان سے کس طرح ووٹ حاصل کئے اور انتخاب میں کامیابی حاصل کی۔

مزید خبریں