اسلام آباد ۔ 18 مارچ (اے پی پی) پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے ڈائریکٹر جنرل میجر جنرل آصف غفور نے کہا ہے کہ پاکستان نے حقانی نیٹ ورک سمیت دہشت گردوں کے تمام گروپوں کے ٹھکانوں کو اپنی سرزمین سے ختم کر دیا ہے جس کے لئے پاکستان کو بھاری قیمت ادا کرنا پڑی۔ گلف نیوز کے ساتھ اپنے ایک خصوصی انٹرویو میں انہوں …
پاکستان نے حقانی نیٹ ورک سمیت دہشت گردوں کے تمام گروپوں کے ٹھکانوں کو اپنی سرزمین سے ختم کر دیا،میجر جنرل آصف غفور کا گلف نیوز کو انٹرویو

مزید خبریں
اسلام آباد ۔ 18 مارچ (اے پی پی) پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے ڈائریکٹر جنرل میجر جنرل آصف غفور نے کہا ہے کہ پاکستان نے حقانی نیٹ ورک سمیت دہشت گردوں کے تمام گروپوں کے ٹھکانوں کو اپنی سرزمین سے ختم کر دیا ہے جس کے لئے پاکستان کو بھاری قیمت ادا کرنا پڑی۔ گلف نیوز کے ساتھ اپنے ایک خصوصی انٹرویو میں انہوں نے کہا کہ پاکستان نے دہشت گردی کے خلاف جنگ کامیابی سے لڑی ہے،اس کے لئے 75ہزار پاکستانیوں نے جانوں کے نذرانے پیش کیے،قومی خزانے نے 123ارب ڈالر سے زائد کا مالی نقصان برداشت کیا۔ پاک بھارت امن امکانات پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ میرا یقین ہے کہ دو طرفہ تعلقات کو معمول پر لانے کے لئے دونوں جوہری قوتوں کو بنیادی تنازعہ مسئلہ کشمیر سمیت تمام تصفیہ طلب مسائل کو حل کرنا چاہیے۔ ڈائریکٹر جنرل آئی ایس پی آر نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان کی کامیابیوں، پاک بھارت تعلقات اور دونوں ممالک کے مابین امن کے امکانات پر بھی گفتگو کی۔ انہوں نے پاکستان کے متحدہ عرب امارات کے ساتھ تعلقات اور چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) کے 54 ارب ڈالر کے منصوبے پر بھی تبادلہ خیال کیا۔ دہشت گردی کے خاتمہ کے لئے پاکستان کے اقدامات سے متعلق ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ2611کلومیٹر طویل پاک افغان سرحد سے ایک جنگ اس وقت پاکستان میں داخل ہوئی جب امریکی اتحادی افواج نے افغانستان میں القاعدہ کے خلاف فوجی کارروائیوں کا آغاز کیا۔ انہوں نے کہا کہ اس وقت پاکستان میں دہشت گردوں کے منظم ٹھکانوں کا کوئی وجود نہیں ہے جبکہ باقی ماندہ دہشت گردی کے خاتمہ کے لئے خفیہ معلومات پر مبنی آپریشن ردالفساد شروع کیا گیا جو کامیابی سے جاری ہے۔ انہوں نے کہا کہ آپریشن کے اثرات کی وجہ سے پاکستان بھر میں دہشت گردی کی سطح میں کمی آئی ہے۔ باقی ماندہ دہشت گرد 26لاکھ افغان پنا گزینوں کا فائدہ اٹھا رہے ہیں جو پاکستان میں پرامن طور پر مقیم ہیں۔








